وزیراعظم نے کام نہیں کرنا تو استعفیٰ دیں اور گھر جائیں

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کام نہیں کرنا تو استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہے کہ وزیراعظم دن میں ایک بیان دیتے ہیں اور رات میں کوئی اور، وزیراعظم بتائیں کہ لاک ڈاؤن کس ایلیٹ نے کروایا؟

جمعے کو کراچی میں سندھ اسمبلی آڈیٹوریم ہال میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ، وزیر محنت و تعلیم سعید غنی اور وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید کہا کہ کورونا وائرس کے بحران میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کا ساتھ نہیں دے رہی۔

بلاول نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وہ خود کو صرف اسلام آباد کا وزیراعظم سمجھتے ہیں؟آپ پورے ملک کے وزیراعظم ہو، آپ کے ذمے جو کام ہے وہ کریں۔ وزیراعظم نے اگر کام نہیں کرنا تو استعفیٰ دے کر گھر جائیں اور کسی اور کو یہ کام سونپ دیں۔ صوبہ سندھ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو صوبہ سب سے زیادہ اقدامات کر رہا ہے اس کا ساتھ دینے کے بجائے اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بلاول بھٹو کے بقول ابھی تک وفاق نے ٹیسٹنگ، صحت اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے سندھ کو ایک روپیہ تک نہیں دیا ہے، 90 فیصد کام وہ خود کر رہے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ وفاق کے پاس کرنے کو ہے کیا، زیادہ خرچہ دفاع کا ہے اور قرضوں کی ادائیگی کا۔ آپ نے اس وقت نہ کوئی جنگ لڑنی ہے اور نہ ہی قرضے لوٹانے ہیں اس لیے کورونا کے بحران پر دھیان دیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاق نے صوبوں کی تذلیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب صوبے وفاق سے مدد کے لیے کہتے ہیں تو اس کا مطلب تنقید یا گالی نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے کہ کوئی صوبہ اکیلا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، وفاق کو ساتھ دینا پڑے گا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آج یوم مئی ہے پیپلزپارٹی سالانہ اس دن کومناتی ہے لیکن اس سال کروناکی وباکی وجہ سے دن نہیں مناسکے۔ انھوں نے کہا کہ یوم مئی کو ان ورکرز کے نام کرتے ہیں جوکورونا وائرس کاشکارہوئے، ہمارے ڈاکٹرزنرسز اورییرامیڈک اسٹاف اس کا شکارہوئے اور 9ڈاکٹرزبھی اس کا شاکارہوئے۔ انھوں نے ڈیلی ویجزورکرزکوسلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان بھی مزدوروں کے لئے عملی قدم اٹھاتی ہے، روزانی اجرت والوں کے لئے وزیراعظم نے صرف ذکرکیا ہے ان کے ہاتھ پرایک روپیہ نہیں رکھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ڈاکٹرزپیرامیڈکل نےمطالبہ کیا ہے وہ چیخ کرصرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ تحفظ کے لئے طبی سامان دیا جائے پرافسوس حکومت پاکستان نے بنیادی مطلبات پورے نہیں کئے۔ انھوں نے کہا کہ اسپتالوں پربوجھ کم کرنا چاہیئےکیا یہ ممکن ہے کہ فرنٹ لائن سپاہیوں کوجنگ پر بھیجیں اوراسلحہ نہ دیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ٹیسٹنگ صلاحیت بڑہائیں،ڈاکٹرزکوسامان دیں ساتھ ساتھ ریاست پاکستان کا کام ہے مدد کرے۔ انھوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں معاشی طورپر مشکل ہے اورڈیلی ویجزورکرزکے لئے سب سے مشکل وقت ہوگا ،آج تک بی آئی ایس بی پروگرام کے مستحقین کی مالی مدد کی گئی، ڈیلی ویجزورکرز کومالی امداد دینی چاہیئے جسکا وزیراعلیٰ سندھ نے باربارمطالبہ بھی کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے دوارب بعد میں سترہ ارب دینےکااعلان کیا گیا پر کچھ نہ کیا، میں نے پہلے سیاسی اختلافات کوبالائے طاق رکھ کر کہا ہماراوزیراعظم اوروزیرصحت عمران خان ہیں اس کے بعد ان کے وزراء نے ہماری سندھ حکومت پر تنقید کی جس طرح ہمارے لوگوں پر تنقید کی اب ہم بھی جواب دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری مفاہمت کو غلط سمجھا گیا، وفاقی حکومت نے قومی یکجہتی کونقصان پہنچایا ہے وفاق نے بلوچستان حکومت کووقت پرضروری سامان نہیں دیا ،وفاق نے پنجاب حکومت کی مدد بھی نہیں کئی ۔ انھوں نے کہا کہ رائیونڈ اجتماع کے موقعے پر صوبائی حکومت کی رہنمائی نہیں کی، وفاق نے پورے ملک کو سپورٹ نہیں دی۔ چیئرمین نے کہا کہ ہمارے وزیردن رات کام کرتے ہیں، دن رات وفاق کی طرف ہمارے وزیراعلیٰ سندھ کونشانہ بنایا جاتا ہے اس وزیراعلیٰ کوٹارگیٹ نہیں کیاجاتا جوپوچھتا ہے کرونا کاٹتاکیسے ہے؟ انھوں نے کہا کہ دوسرے وزرائےاعلی سے پوچھاتک نہیں جاتا ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسی وباآئی حکومت ناکام ہوئی یہ وہی وزیراعظم ہے جس نے کشمیرکیس کوسبوتاز کیا یہ کیساوزیراعظم ہے جویہ کہتا ہے کہ کراچی میں حالات نیویارک جیسے نہیں اگراس ملک میں کسی کوخطرہ ہے تووہ غریب ہیں، ہمیں لیاری سے لانڈھی والوں کا فکرہے ہمارے صوبے کے صحت کے نظام کو بہترکرنے میں مدد ملی۔ انھوں نے کہا کہ 90فیصد صوبے نے اپنے وسائل سے کیا ہے وفاق کیا ذمہ داری لے رہا ہے ،وفاق دفاع اورڈیبٹ پر خرچ کرتا ہے اس وقت کوئی جنگ بھی نہیں کرنی پھرمدد کیوں نہیں کی جارہی ہے؟ وفاقی حکومت کی مدد کے بغیرہم کچھ نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم دن میں ایک رات کودوسرا بیان دیتا ہے لاک ڈاؤن میں اضافہ کے پی اورپنجاب کے وزرائے اعلی کی تجویزپرکیا گیا ،اعلان وفاقی وزیرنے کیاالزام اشرافیہ پر!۔ وزیراعظم صاحب کنٹینرسے اترو ،آپ وزیراعظم ہے۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نہ کٹس دے رہا ہے نہ لیب بنانے میں مدد دے رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ زرعی پیکج دینے کی بات کی گئی تھی ٹڈی دل فصلوں کو تباہ کررہی ہے کیا وفاق ٹڈی دل کی تیاری کررہا تھا فوڈ سیکیورٹی کے اشوزہیں ۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ لوگ ہمیشہ اٹھارویں ترمیم کے خلاف بات کرتے ہیں میرے وزیراعظم صرف اسلام آباد کے وزیراعظم نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میرے بیانیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن کے بیانئے کی مخالفت نہ کریں ہم نے دہشتگردی کامقابلہ کیاہے بیماری کا بھی کریں گے ای ڈی پی جی 20کی طرف سے کئی عالمی اداروں کی طرف سے رلیف پیکج دیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی مدد کی جائے، ہم مطالبہ کرتے ہیں ہم چاہتے ہیں عوم کوکرائے اوریوٹیلٹیزکی مد میں رلیف دے لیکن وفاق تعاون نہیں کررہا۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم !وزیراعظم بنے ورنہ گھرجائے ،وفاق کے خلاف سازش ہم نےنہیں کی ۔کیا ووہان میں اٹلی میں امریکہ میں لاک ڈائون ہم نےکیا؟ ہم اپنے لوگوں کی زندگی بچانا چاہتے ہیں، اگرپی ٹی آئی کوخطرہ ہے تو پی ٹی آئی سے ہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں شرع اموات کم ہیں، وہ بتائیں کہ ان کی تسلی کتنی فیصد پر ہوگی ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اس وقت ہمارا جنگ کامیدان کرونا ہے ،ہمیں سب سے پہلے اپنے ڈاکٹرزکی مدد کرنی پڑیگی یہ ہمارے فرنٹ لائین کے سپاہی ہیں، وزیراعظم نے پہلے کہا لاک ڈائون کی وجہ سے اموات کم ہوئی ،وزیراعظم اوروزراءکے بیانات کے بعد لوگ غیرسنجیدہ ہوئے، لاک ڈائون پر عمل کم بھی ہورہا ہے توبھی اس کا فائدہ ہےجتنے کم لوگ نکلیں گے اتنے بیمارکم ہونگے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جوبھی باہرنکلے وہ فیس ماسک پہنے ،ہم جوبھی پھیلائوکوکم کرنے کےلئے کرسکتے ہیں کریں۔ رمضان میں ہمیں دوسرے لوگوں کے لئے سوچنا چاہیئے۔ انھوں نے کہا کہ مئی ہمارے لئے اہم مہینا ہے ،رمضان میں وائرس کا پیک ہے ہمیں اس کی تیاری کرنی ہے، ہم نے صحت اورمعاشی محاذ پر لڑنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وفاق جہاں ہم ایک روپیہ خرچ کریں وفاق دورپے کرے، باقی صوبائی حکومتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ راشن سندھ حکومت کی طرف سے پہنچایا گیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم کیش دینا چاہتے تھے وفاقی حکومت نے ڈیٹانہیں دیا، ہرضلعے میں ٹارگیٹ کرکے غریبوں کوراشن دے رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری ترجیح اسپتال ڈاکٹرزنرسز ہیں ،سندھ نے پورے ملک میں سب سے زیادہ اسپتال بنائے اس کے باوجود ہمارے اسپتال کم پڑیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم دعاکرتے ہیں

کہ اللہ کرے ایسا نہ ہو کہ وائرس بڑھے، ہم فیصلے اپنے عوام کی زندگی کے لئے کرتے ہیں، ہردن یہ حکومت نیاشوشہ چھوڑتی ہے تاکہ کرونا کیسز کو میڈیا میں اہمیت نہ ملے اٹھارویں ترمیم کے خلاف پہلے بھی سازشیں ہوئی ہیں، اس وقت اٹھارویں ترمیم کوکوئی خطرہ نہیں،کوئی اٹھارویں ترمیم یااین ایف سی کوچھیڑے گا اس کوصوبوں کوپہلے سے زیادہ دینا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ میئراسلام آباد بنوں، پیپلزپارٹی دورمیں سیلاب آیا سوات آپریشن سے لوگ متاثرہوئے ہم نے مدد کی، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ کے پی حکومت خود کرے، اسلام سکھاتاہے کوئی مشکلمیں ہوتومدد کریں۔ پریس کانفرنس کے دوران صحافی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم نے لاک ڈائون کیا بعد میں باقی صوبوں نے بھی کیا ،وفاق اورصوبائی حکومت نے ملکرجب لاک ڈائون کی حمایت کی تو عوام نے بھرپورساتھ دیا ،میری ذمہ داری ہے صوبے کےعوام کی جان بچاؤں، صحت زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم روز کہتا ہے غریب کا سوچیں پر کیا کچھ نہیں، بی آئی ایس پی کے علاوہ حکومت عوام کی مدد کرے، کراچی میں رہنے والے عید پرگاؤں میں نہ جائیں تاکہ وائرس نہ پھیلے اورہم عوام کی مدد کے بغیرکچھ نہیں کرسکتے۔