فردوس عاشق اعوان پر الزامات-یہ بکری چوری کا مقدمہ ہی ہے

وزیراعظم عمران خان نے وزارتِ اطلاعات میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز کو وفاقی وزیر اطلاعات جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات مقرر کر دیا ہے۔

جیسا کہ سب جانتے ہیں سینیٹر شبلی فراز مشہور و معروف شاعر احمد فراز مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ بہت پڑھے لکھے اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دھیمے لہجے والے شبلی فراز ایک سلجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل اور سدرن کمانڈ کے کور کمانڈر رہے ہیں۔ میٹھے لہجے میں اور پیار سے بات کرنے والے سابق فوجی افسر ہیں۔ اسی وجہ سے میڈیا کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ بظاہر یہ وزیراعظم عمران خان کا بہت اچھا انتخاب ہے۔

شبلی فراز کو بطور وزیر اطلاعات و نشریات اپوزیشن جماعتوں نے بھی خوش آمدید کہا ہے۔ اور توقع کی جاتی ہے کہ وہ بہتر انداز میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے اور اپنے مخصوص انداز گفتگو اور طبیعت کی وجہ سے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تعلقات بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے میڈیا کو بہت سی توقعات ہیں۔ میڈیا نے ان کی تقرری کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ نہ صرف حکومت اور میڈیا کے درمیان بہتری لائیں گے بلکہ ذاتی دلچسپی لے کر میڈیا ہائوسز اور اخبارات کے مالکان اور میڈیا ورکرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کی کوشش کریں گے۔

جن میں سب سے بڑا مسئلہ میڈیا ہائوسز اور اخبارات کی واجب الادائیگیاں ہیں جو ایک عرصہ سے رکی ہوئی ہیں۔ جس کی وجہ سے میڈیا ہائوسز اور تمام چھوٹے بڑے اخبارات شدید مالی بحران کا شکار ہیں اور اس بحران سے مالکان کے علاوہ میڈیا ورکرز مالی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ منصفانہ طور پر سرکاری اشتہارات کی تقسیم بھی ایک عرصہ سے بڑا پریشان کن مسئلہ بنا ہوا ہے۔

تمام چھوٹے بڑے اور علاقائی اخبارات اس مسئلہ سے دوچار ہیں۔ سرکاری اشتہارات کی بندش اور کمی نے اخباری صنعت اور الیکٹرونک میڈیا کو مالی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

امید ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ خصوصی طور پر اُن مسائل کے حل سے ہی ابتدا کریں گے۔ اور میڈیا کی طرف سے حکومت کے بعض معاملات میں کمی و کوتاہی کی نشاندہی کو تنقید نہیں سمجھیں گے بلکہ مثبت تنقید کو حکومت کی بہتری سمجھتے ہوئے اس اہم نکتہ پر بھی وزیراعظم عمران خان سے بات چیت کریں گے۔

اگر یہ سب کچھ ایسا ہی ہو جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ حکومت اور میڈیا کے درمیان بدگمانیوں کا خاتمہ اور تعلقات میں بہتری نہ آسکے۔

بحیثیت ایک ادبی، پڑھے لکھے اور محبِ وطن پسِ منظر کے حامل شبلی فراز بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کی حالتِ زار کو بین الاقوامی طور پر بھی اجاگر کرنے کے لئے اپنا کردار ضرور ادا کریں گے۔

جہاں تک لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کا بھارت اور مسئلہ کشمیر سے باخبر ہونے کا تعلق ہے تو میرے خیال میں موجودہ تمام وزراء اور مشیران میں سب سے زیادہ ان معاملات کا ان کو ہی ادراک ہے۔

ان کی تقرری سے یقینی طور پر بھارتی حکمرانوں کو بڑی تکلیف پہنچی ہو گی اور ان کی تکلیف میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ مجھے یقین ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ بھارتی مسلمانوں اور بےگناہ کشمیریوں پر مودی حکومت کے مظالم کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔

پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے ہمیشہ مظلوم کشمیری اور بھارت میں رہنے والے مسلمانوں پر مودی حکومت کے مظالم کو اُجاگر کیا ہے۔ اور اس بارے میں بھی وہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کے ساتھ صفِ اول میں کھڑے ہوں گے۔

نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں مسلمانوں کو بندوق کے زور پر گزشتہ آٹھ ماہ سے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ادھر بھارت میں مسلمانوں کا جینا محال کر دیا گیا ہے۔

سرکاری سرپرستی میں آر ایس ایس کے غنڈے دندناتے پھرتے ہیں، مسلمانوں کی دکانوں کو جلاتے اور ان کے گھروں پر حملے کرتے ہیں۔ پست ذہنیت کی انتہا دیکھیں کہ کورونا وائرس پھیلانے کا الزام بھی مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے۔ ہندو توا کے فروغ کے لئے کوشاں مودی حکومت کی سرپرستی میں اپنے ہی ہموطنوں پر ظلم کی دنیا میں اور کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔

عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کو چاہئے کہ اب تو وہ اپنا فرض ادا کریں۔ او آئی سی کا اس بارے میں بیان اور خلیجی ممالک کا کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کے بارے میں ردِعمل قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا ہے لیکن اس سلسلے میں بھارت پر عملی دبائو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

جہاں تک وزیراعظم عمران خان اور میڈیا کے تعلق کی بات ہے تو اس بارے میں بھی مجھے یقین ہے کہ وزیر اطلاعات شبلی فراز اور لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ پہل کرتے ہوئے غلط فہمیاں دور کریں گے۔

آخر میں اس افسوس ناک روایت کی بات بھی ضروری ہے کہ ہر جانے والے پر الزامات لگائے جاتے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان پر الزامات لگانے والوں میں اپنے پرائے سب شامل ہیں۔ جو لوگ ان کو جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ یہ بکری چوری کا مقدمہ ہی ہے۔

فردوس عاشق اعوان پر ایسے بےسر و پا الزامات لگانے والوں کو شرم آنی چاہئے۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کو سختی سے منع کریں۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ

میں آج زد میں اگر ہوں تو خوش گماں نہ ہوں

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

S-A-Zahid-Jang