بلند آواز میں اعلان کیا کرتے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر دس بارہ ارکان پر کابینہ تشکیل دیں گے

مئی کا مہینہ آن پہنچا ہے اور طبی ماہرین بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ یہ مہینہ کورونا وائرس کے حوالے سے انتہائی سخت ہوگا۔ اس میں روزانہ کے حساب سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں افراد اس موذی مرض کا شکار ہو کر مفلوج ہو جانے کے علاوہ موت کے منہ میں بھی جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر، نرسیں، ٹیکنیشنز اور خاکروب جو کورونا وائرس کی جنگ میں فرنٹ لائن پر محدود وسائل کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں اور شہادت کا درجہ بھی حاصل کر رہے ہیں، ان کے ساتھ ہماری حکومت کا رویہ حد درجہ تکلیف دہ ہے۔ اس خوفناک جنگ میں ان کی رائے، ان کی فرض شناسی اور ان کی ماہرانہ رائے سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں تین پریس کانفرنسیں کی ہیں جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ وہ ہاتھ جوڑ کر اور ڈبڈباتی آنکھوں سے التجا کرتے رہے کہ یہ انجان بیماری بےحد خطرناک ہے جس کے خاتمے کے لیے سخت لاک ڈاؤن کے علاوہ احتیاطی تدابیر پر کاربند رہنا اور مجمع اور ہجوم سےمکمل اجتناب ناگزیر ہے۔ ان کے خیال میں لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے حکومت اور عوام کو غیرمعمولی سنجیدگی، یکسوئی اور اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی اور دور بینی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

کورونا وائرس کے متعلق دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں جو تحقیق جاری ہے اور معیاری جریدوں میں جو مضامین شائع ہو رہے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وبا آنے والے عہد کی تباہ کن وباؤں کی ایک ابتدائی شکل ہے، اس لئے آج ہی ہمیں پوری قوت کے ساتھ اس کی روک تھام پر ساری توجہ مرکوز کر دینا ہوگی، مگر دنیا میں تین ماہ کے ہلاکت خیز تجربوں اور مستقبل کے خوفناک زائچوں کے باوجود پاکستان میں ایک بدنظمی اور بےنیازی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس قدر کڑی آزمائش کا مقابلہ کرنے کے لئے اربابِ حکومت ایسی ایسی ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں جن سے کنفیوژن میں تشویشناک اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اصل ہدف آنکھوں سے اوجھل ہونے لگا ہے۔ چین، سنگاپور اور جنوبی کوریا میں اس جان لیوا مرض پر سخت لاک ڈاؤن اور حفاظتی تدابیر پر پوری دلجمعی سے عمل درآمد سے قابو پایا جا چکا ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک جن کے سربراہوں نے شروع شروع میں کورونا وائرس کے وجود ہی سے انکار کر دیا تھا اور ایک بےپروائی کا رویہ اختیار کیا تھا، وہاں متاثرین کی تعداد تیس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے اور عالمی طاقتیں بےبس دکھائی دیتی ہیں۔ ان حد درجہ اعصاب شکن مناظر دیکھنے کے باوجود پاکستان نے کورونا وائرس کی مؤثر مدافعت کے لیے کوئی واضح اسٹرٹیجی اپنائی ہے نہ اسے اولین اہمیت دی ہے۔ ہمارے رہبرانِ کرام یہ فیصلہ ہی نہیں کر سکے کہ لوگوں کی جانیں بچانا زیادہ ضروری ہے یا معیشت کو سنبھالا دینا۔ اسی تذبذب اور غیریقینی کے نتیجے میں کورونا وائرس پہلے کے مقابلے میں تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے اور عام شہری کمر توڑ مہنگائی سے بلبلا اٹھے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگار ہونے والے دہاڑی دار افراد کو معاشی سہارا فراہم کرنے کے لیے جو صنعتیں کھولی گئی ہیں، ان سے یہ تاثر قائم ہوا ہے کہ سرمایہ داروں کے سرپرستوں نے کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے یہ راستہ اختیار کیا ہے۔ اربوں کے پیکیجز جو عوام کے مختلف طبقات کو دیے گئے ہیں، ان کے بارے میں عدالتِ عظمی نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ان میں شفافیت پائی جاتی ہے نہ ان کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

دراصل ہر مرحلے پر قومی قیادت کا فقدان شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ برسر اقتدار جماعت جو بائیس برسوں تک مختلف نوعیت کی کڑی تپسیا سے اقتدار میں آئی ہے، اسے اور اس کے سربراہ کو اچھی حکمرانی کے آداب معلوم ہیں نہ وہ سیاسی بصیرت کی دولت سے مالامال ہیں۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ جناب عمران خان نے اپنی سیاسی جدوجہد میں زیادہ تر غیرسیاسی طاقتوں پر انحصار کیا ہے۔ سن 2000میں وہ جنرل پرویز مشرف سے سحر زدہ رہے اور ان کے ریفرنڈم کی مہم تن دہی کے ساتھ چلاتے دکھائی دیے۔ پھر سن 2011میں ایک طاقتور حمایتی کی حمایت سے مینارِ پاکستان کے سائے تلے ایک عظیم الشان جلسہ کرنے میں کامیاب رہے۔ اسی وقت جناب چوہدری شجاعت حسین نے آرمی چیف سے برسرِ عام شکایت کی تھی کہ ان کی جماعت کے لوگوں پر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ سن 2014میں عمران خان انتخابات میں دھاندلی کے الزام کو دہراتے ہوئےاسلام آباد پر چڑھ دوڑے۔ جناب جہانگیر ترین خان جو اسلام آباد کے محاصرے میں کمک فراہم کرتے رہے، انہوں نے اب انکشاف کیا ہے کہ 2013کے انتخابات میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تھی۔

جناب عمران خان جو بلند آواز میں اعلان کیا کرتے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر دس بارہ ارکان پر کابینہ تشکیل دیں گے، وہ ماشاء اللہ پچاس ارکان پر مشتمل ہے جن میں 18غیر منتخب افراد بھی شامل ہیں۔

ایک طرف لحظہ بہ لحظہ نہایت کڑے وقت کا سامنا ہے اور دوسری طرف حکومت یکسوئی، قومی یکجہتی، دوربینی اور مستقل مزاجی کے اوصاف سے محروم نظر آتی ہے۔ اس نے پوری توجہ کورونا وائرس کی بیخ کنی پر مرکوز کرنے کے بجائے 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو ختم کرنے یا اس میں غیرمعمولی ردوبدل کرنے کا شوشہ چھوڑ دیا ہے جو شدید سیاسی محاذ آرائی کی زہر آلود فضا میں بدترین آئینی اور سیاسی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ وقت قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور دلوں کو مسخر کرنے کا ہے۔ طبی ماہرین اور عملے کی ضرورتیں پوری کرنے، ان کے مشاہروں میں خاطر خواہ اضافوں اور ان کو فیصلوں میں شامل کرنے کا وقت ہے۔ یہ وائرس سے متاثرین کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے اور شہداء کو قومی اعزازات عطا کرنے کا وقت ہے۔ یہ سیاسی مکالمے کی تہذیب کو فروغ دینے اور پارلیمان کو اقتدار کا حقیقی منبع کی حیثیت دینے کا وقت ہے۔ بدقسمتی سے اب تک ہمارے ناخداؤں نے جو طور طریقے اختیار کیے ہیں تو بےاختیار حضرت غالب یاد آتے ہیں ؎

رو میں ہے رخش عمر کہاں؟ دیکھیے، تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

Altaf-Hassan-Qureshy-Jang