عبدالقادر جعفر ۔پاکستان کا ایک قابل فخر نام

پاکستان جیسے ملکوں میں کم لوگ ہیں جنہوں نے تعلیم کے لیے کام کیا ۔ان لوگوں میں عبدالقادر جعفر کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے

انہوں نے دی حب اسکول قائم کرکے ایک روشن مثال قائم کی ۔سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر کراچی اور حب کو جدا کرنے والے علاقے میں ایک عالیشان اور اپنی مثال اپ درسگاہ کا قیام کوئی عام بات نہیں

۔اسے کسی دیوانے کا خواب ہی کہنا چاہیے برسوں پہلے ایسا ہی ایک خواب حکیم محمد سعید نے مدینتہ الحکمت اور ہمدرد یونیورسٹی قائم کرکے شرمندہ تعبیر کیا تھا اور برسوں بعد عبدالقادر جعفر نے دی حب اسکول قائم کرکے ایک اور خواب کو شرمندہ تعبیر کیا یہاں پر ایک قیمتی اراضی انہیں اور ان کے بھائی کو اپنے والد کی جانب سےورثہ میں ملی تھی دونوں بھائیوں نے اس قیمتی اور وسیع اراضی کو درس و تدریس اور تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کرنے کا بہترین فیصلہ کیا جو آنے والی ان گنت نسلوں کو بہترین اور جدید تعلیم کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی ۔
اس دور افتادہ علاقے میں دیھ باسکول کا قائم ہونا اس علاقے اور قرب وجوار کے لوگوں کے لیے ایک نعمت ہے اسے تمام عالمی معیاری تعلیم کی

بنیادی سہولتوں سے لے کر جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی اور دستیابی سے لیس کیا گیا ہے اور ایک ایسی درسگاہ بنادی گئی ہے جہاں سے پڑھ کر نکلنے والے اسٹوڈنٹ عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر سکیں گے انہیں بہترین ماحول میں انتہائی قابل اساتذہ کے ذریعے تعلیم و تربیت کے عمل سے گزارا جا رہا ہے یہ لحاظ سے ایک منفرد اور انمول درسگاہ ہے
پاکستان جیسے ملکوں کو ایسی درسگاہوں کی اشد ضرورت ہے

لہذا شکریہ عبدالقادر جعفر صاحب آپ واقعی قابل فخر ہیں پاکستان اور پاکستانیوں کو ہمیشہ آپ پر ناز رہے گا کیونکہ اپنے لئے تو سبھی جیتے ہیں لیکن اگلی نسلوں کی بہتری کے لیے خود کو وقف کر دینا اور اپنی تمام تر صلاحیتوں اور وسائل کو فراہم کر دینا ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا ۔

آپ خوش نصیب بھی ہیں اور خوش بخت بھی ۔اللہ آپ کو اور آپ کے خاندان کو سلامت رکھے اور آپ کے جذبہ خدمت اور نیکیوں کو قبول فرمائے ۔


اللہ کرے کہ آپ کی دیکھا دیکھی تعلیم کے میدان میں اور لوگ آگے بڑھیں اور اپنی توانائیاں اور اپنی صلاحیتیں اور وسائل تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کردیں۔ اور ایسا ہوگا ضرور انشاءاللہ ۔

عبدالقادر جعفر آپ کے لئے تو اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ ویلڈن مسٹر عبدالقادر جعفر ویلڈن۔

تحریر سالک مجید