کراچی کا شہید مزدور قبرستان

کراچی کا شہید مزدور قبرستان

سابق صدر جنرل یحئی خان کے دورِ اقتدار میں ملک کے لیبر قوانین میں ایسی کئی ترامیم کی گئی ہیں جن کے ذریعے محنت کش طبقے کے حقوق پر کاری ضرب لگائی گئی تھی۔ 20دسمبر1971 میں کراچی سندھ انڈسٹریل اسٹیٹ (سائٹ) کے مزدوروں نے اپنے اجتماعی اور انفرادی مسائل کے حل کے لئے متحد ہوکرعملی جدوجہد کا آغاز کردیا تھا اور اس مقصد کے لئے روزآنہ کسی نہ کسی ایسی فیکٹری کے باہر احتجاج ہوتا تھا جہان مزدوروں کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جاتی تھی یا استحصال کیا جارہا ہوتا ۔

7جون 1972 کوسائٹ میں واقع فیروز سلطان ٹیکسٹائل مل کے مالکان نے اپنی فیکٹری کےمزدوروں کو انکی تنخواہوں کی ادائیگی کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد مزدوروں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا ۔ مالکان اور مزدوروں کے درمیان صورت حال کشیدہ ہوگئی تھی ۔ مالکان نے فیکٹری کے مزدوروں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے پولیس اہلکاروں کی خدمات حاصل کی تھی ۔ پولیس اہلکاروں نے مزدوروں کو فیکٹری میں بند کرکے ان پر تشدد شروع کردیا تھا اس واقعہ کی اطلاع جب نزدیکی فیکٹری کے یونین کے نمائندوں کو پہنچی تو وہ فیروز سلطان ٹیکسٹائل ملز کے مزدوروں سے اظہار یکجتی کے لئے ملز کے گیٹ پرجمع ہونا شروع ہوگئے ۔ پولیس نے بغیر وارننگ کے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک مزدور رہنما شعیب خان موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد مزدور زخمی ہوگئے ۔ 8جون 1972 کو شہید مزدور شعیب خان کا جنازہ اٹھایا گیا ۔ جنازہ کو جلوس کی شکل میں گورنر ہاوس لے جاکر احتجاج کی منصوبہ بندی کی گئی تھی جنازے کے شرکاء جلوس کی شکل میں بنارس چوک پہنچے تو وہاں پہلے سے موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن مزدوروں نے پولیس کے احکامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔پولیس کی جانب سے احتجاجی مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کردی گئی جس کے نتیجے میں مزید 8 مزدور شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے اس واقعہ کے بعد ملک بھر میں مزدوروں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے کراچی کے صنعتی علاقوں میں بھی 12 روز تک ہڑتال جاری رہی ۔ واقعہ میں شہید ہونے والے مزدوروں کی تدفین سائٹ میٹروول پٹھان کالونی کراچی میں کی گئی ۔ جہان تدفین کی گئی تھی وہ مقام آہستہ آہستہ ایک قبرستان کی شکل اختیار کرگیا ہے اور مزدور شہید قبرستان کے نام سے پہنچانا جاتا ہے ۔

قبرستان میں مزدوروں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مقامی آبادی کے افراد بھی مدفون ہیں جبکہ ان دنوں بھی تدفین کا سلسلہ جاری ہے ۔ مزدور تنظیموں کی جانب سے قبرستان کے مرکزی دروازے پر تحریک کے شہید ہونے والے افراد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک یادگارتیار تعمیر کی گئی ہے جہان اس افسوسناک واقعہ کی تفصیل اور شہید ہونے والے مزدوروں کے بارے میں تحریر ہیں
Shah-Waliullah-