ثقلین مشتاق نے بھارت کیخلاف مقابلوں کی حمایت کردی

سابق قومی آف سپنر ثقلین مشتاق نے بھارت کیخلاف باہمی مقابلوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹ کی طاقت دو ملکوں کے درمیان تمام فاصلوں کو بھی مٹاسکتی ہے لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ دونوں پڑوسی ممالک کرکٹ کے میدانوں میں دوبارہ یکجا ہو جائیں۔ شعیب اختر کی جانب سے کورونا وائرس کے متاثرین کی خاطر پاک بھارت امدادی میچوں کی تجویز پر اگرچہ سابق بھارتی کھلاڑی کپیل دیو اور سنیل گواسکر جیسے بڑے نام بھی مضحکہ خیز بیانات دے رہے ہیں لیکن سابق آف سپنر ثقلین مشتاق کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے کھیل میں دو ملکوں کو قریب لانے کی صلاحیت موجود ہے جس کا فائدہ اٹھانا چاہئے ۔
ان کا کہنا تھا کہ کرکٹرز کو ہیروز اس وجہ سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے دل میں امید جگاتے ہیں جبکہ جیتنا اور ہارنا کھیل کا حصہ ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کوئی جنگ نہیں لہٰذا پاکستان اور بھارت کو نئے سرے سے باہمی مقابلوں کا آغاز کرنا چاہئے جو کہ ایشز سے بھی زیادہ بڑے اور اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔43 سالہ ثقلین مشتاق کا کہنا تھا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پاکستان کرکٹ بھارت کیخلاف میچز نہ ہونے سے نقصان اٹھائے گی کیونکہ دونوں ممالک ایک عرصے سے باہمی کرکٹ نہیں کھیل رہے ہیں البتہ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو سرحدوں کے دونوں اطراف باہمی کرکٹ کا فائدہ پہنچے گا اور پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات بھی بہتر ہو جائیں گے ۔

ان کا کہنا تھا کہ 2015ء میں سچن ٹنڈولکر اور شین وارن نے آل سٹارز میچز امریکا میں کروائے تھے اور وہاں ناقابل یقین ماحول تھا ۔ثقلین مشتاق نے آئی سی سی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاک بھارت سیریز کے انعقاد کی تجویز کوپیش نظر رکھتے ہوئے مدد فراہم کرے تو مالی فوائد سمیت دونوں ممالک کئی اعتبار سے فائدہ اٹھائیں گے ۔