کروناء وائرس ، دعا ء، اللہ تعالی سے معافی، بزم ریاض کی بصیرت افروز آن لائن کانفرنس میں عباس قریشی کا خطاب

جدہ کی ڈائری۔۔ امیرمحمد خان کروناء  وائرس ، دعا ء، اللہ تعالی سے معافی،  بزم ریاض کی بصیرت افروز  آن لائن کانفرنس میں  عباس  قریشی کا خطاب  بزمِ ریاض کی جانب سے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے آن لائن معلوماتی سیشن منعقد ہوا جس میں بزمِ ریاض کے عہدیداروں اور ممبران سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی جبکہ فرانس میں سفارت خانہ پاکستان کے پولیٹیکل قونصلر عباس سرور قریشی نے خصوصی طور پر شرکت کرکے شرکاء سے کورونا وائرس کے پھیلاو کے حوالے سے مفید گفتگو کی. اس موقع پر اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے عباس سرور قریشی کا کہنا تھا کہ جب بھی دنیا پر مشکل وقت آتا ہے یا زلزلہ، طوفان، وباء کی صورت کوئی آفت یا غیر متوقع واقع رونما ہوتا ہے تو ہم ظاہری اسباب تلاش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھورتے، مثال کے طور پر سائنسدان یہ تو کہتے ہیں کہ دنیا کا معرض وجود میں آنا بگ بینگ کا نتیجہ ہے لیکن بگ بینگ کیوں ہوا، آخرکار بگ بینگ کا بھی کوئی محرک تھا، ظاہری اسباب کی طرف توجہ کرتے ہوئے ہمیں غیر ظاہری اور غیبی محرکات اور نشاندہیوں پر بھی غور و فکر کرنا چاہئے اور اس غور و فکر میں قرآنِ کریم ہی ہمارا بہترین رہنما ہے. شرکاء سے اپنے خطاب میں عباس سرور قریشی کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس قدرت کی جانب سے ایک ایسا امتحان یے جو انسان کا اپنا پیدا کردہ ہے، قدرت نے کورونا وائرس کی شکل میں زلزلے، سیلاب اور سونامی سے کچھ مختلف مگر سخت آزمائش نازل کی ہے کیونکہ زمین پر ہماری کوتاہیوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے انصاف ناپید اور ظلم کرنے والوں کا ظلم بڑھتا جا رہا ہے  بحیثیتِ مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ جب بھی اللہ سختی اور امتحان میں ڈالتا ہے تو اسکے پیچھے ہمارے ہاتھوں کے کئے گئے بداعمال کا بدلہ ہی ہوتا ہے، ہمارے معاشرے حقوق العباد اور حقوق اللہ سے عاری ہوتے جا رہے ہیں طاقتور کا ظلم بڑھتا جا رہا یے اور مظلوم کی مظلومیت اللہ کے عرش تک سنائی دے رہی ہے، دنیا بھر کے اندر ایسا نظام رائج کیا جاچکا یے جس سے حقوق کی پامالی ہورہی ہے. عباس قریشی نے کہا کہ اگر ہم اپنے معاشرے کی ہی بات کریں تو ہمارے اندر ایسی بے پناہ خامیاں ہیں جن کو دور کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ہم قدرتی آفات اور قدرت کی سختی سے بچ سکیں، اسی طرح اقوام عالم پر نظر دوڑائی جاے تو ہمیں نظر آتا یے کہ جہاں ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر ممالک کا استحصال کرتے ہیں جس سے ایسی تفریق پیدا ہوتی ہے کہ جس کو کبھی مٹایا نہیں جاسکتا، اسلام ہمارا خوبصورت دین یے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن پاک کے ذریعے معاشروں کو رواداری، باہمی بھائی چارے اور عدل وانصاف جیسے اصولوں کے مطابق بنانے کا حکم دیا ہے مگر ہم اسکے برعکس چل رہے ہیں. عباس سرور قریشی نے مزید کہا کہ کورونا وائرس ایک ایسی وباء یے جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے آج پوری دنیا کو کورونا وائرس کی وجہ سے بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے اور اقتصادی اور معاشی بحران جنم لے رہے ہیں اب دنیا کا فرض بنتا ہے کہ جہاں وہ کورونا وائرس کے خاتمے کے لئے یکساں طور پر آگے بڑھے وہیں پر سائنسی میدان میں مشترکہ تعاون کرے، لوگوں کی فلاح و بہبود اور علم و تربیت کے مواقع فراہم کرے اور اقوام عالم میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو تیز کرے تاکہ قدرت کو ہم پر ترس آجائے وگرنہ اللہ کا اس سے سخت عذاب بھی ممکن ہوسکتا ہے. آن لائن کانفرنس میں نظامت کے فرائض بزم کے سیکریٹری جنرل وقار نسیم وامق نے ادا کئے جبکہ بزم کے صدر تصدق گیلانی، ریاض راٹھور، ڈاکٹر سعید احمد وینس، تنویر میاں اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ کانفرنس میں عباس سرور قریشی کو  سنکر  اس بات کی خوشی ہورہی تھی کہ  ہمار ے سفارت کاروں میں   قران کی معلومات  رکھنے والے تعلیم یافتہ لوگ بھی ہیں۔  نائیجر، پاکستانی سفارت خانے کے  ہیڈ آف چانسلری   احمد علی سروہی  ایک خدا ترس شخصیت   نائیجر  میں پاکستانی مشن کے ہیڈ آف چانسلری  احمد علی سروہی  جدہ میں پاکستانی قونصلیٹ میں تعنیات رہ چکے ہیں  جب پاکستان میں سیلاب  یا زلزلہ کی آفات  آئیں انہیں جدہ میں  بھی پاکستانی کمیونٹی کے شانہ بشانہ  پاکستانی بھائیوں کی امداد کیلئے ضروری اشیاء  جمع کرتے دیکھا۔  جب سے وہ یہاں سے گئے دوستوں، احباب کو  بلا ناغہ  رات ایک بجے انکا ایک پیغام آتا ہے   جس میں قرانی آیات ،  حادیث۔ اور دعا ہوتی  ہے یہ سلسلہ گزشتہ کئی سال سے جاری ہے اللہ تعالی انہیں اسکا  اجر عطا کرے آمین۔کروناء  وباء  کے پیش نظر  جب کہ  پاکستان کے بیرونی دنیا میں  بڑے بڑے مشن کے خلاف  پاکستانیوں کی بے  شکایات ہیں کہ پاکستانی کسی بھی مدد کیلئے چاہے وہ اناج کی ہو  یا ضروریات زندگی کی  انکا کوئی خیال نہیں رکھا جارہا،  بیشتر  سفارت خانے اور قونصل خانے  اوؤر سیز  پاکستانیوں سے جمع شدہ  ویلفئیر فنڈ جو  سروس پر  پانچ فیصد لیا جاتا ہے اس پر  پہر دار  بنے بیٹھے ہیں  اور ضرورت کے وقت  اسے استعمال کرنے کیلئے وزارت خارجہ سے نہ منظوری لیتے ہیں  اور  نہ ہی خرچ کرتے ہیں۔ گو کہ نائجیر  میں   پاکستانیوں کی تعداد بہت محدود ہے  احمد سروہی  ہر پاکستانی تک پہنچ کر  انہیں  نہایت عزت و احترام کے ساتھ  اناج  اور  ضروریات زندگی کی اشیاء فراہم کررہے ہیں  اور تمام پاکستانیوں کی ہدائت  بھی کی ہے وہ کسی بھی چیز کی ضرورت کے وقت  بلا جھجک پاکستانی مشن میں آسکتے ہیں۔ اس بناء پر  کمیونٹی انکی مداح سرائی کرتی ہے۔  قابل ذکر بات یہ ہے کہ  احمد  علی سروہی رمضان المبارک میں یہ امداد  صرف پاکستانیوں کو نہیں وہاں کے ضرورت مند  شہریوں، قریبی مساجد  کو   بھی پہنچا رہے ہیں۔ جو ایک عوامی  سفارت کاری ہے۔  احمد  سروہی جب برونائی میں تعنیات تھے اسوقت  انہوں نے پاکستان کی تاریخ میٰں پہلی دفعہ  برونائی سے ایک تجارتی  وفد  پاکستان بھیجا ۔ اور تعلقات کا آغاز کیا ۔   اپنی عوام دوست ، طبیعت ،  پاکستان سے محبت  کی بناء   ہر کمیونٹی میں  قربت اختیار کرلیتے ہیں۔نوجوانوں نے دیکھ بھال کرنے پر پاکستان سفارتخانہ اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس بحران کے دوران سفارت خانے کے والد کے کردار کا مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفارت خانہ نے راشن اور سینیٹری کا سامان اکٹھا کرنے کے لئے ہمیں دو بار بلایا اور ہماری خیریت دریافت کی۔  بزمِ بزرگانِ ریاض کی جانب سے  سعودی حکومت کا شکریہ  کی جانب سے ہفتہ وار آن لائن بیٹھک میں سعودی عرب اور پاکستان کی بے مثال دوستی اور موجودہ حالات میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین تعاون کے بارے میں گفتگو کی گئی.بزمِ بزرگانِ ریاض کے بانی ڈاکٹر سعید احمد وینس کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کا سچا اور مخلص دوست ہے، ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں جس کی بدولت ہم سعودی حکومت اور عوام کو اپنے دل کے قریب سمجھتے ہیں، سعودی عرب نے جس انداز کے ساتھ یہاں پر پاکستانیوں سمیت دیگر غیر ملکیوں کا کورونا وائرس کے حوالے سے علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اس سے سعودی عرب نے اپنی انسانیت دوست مثال قائم کی ہے اور اپنا فرض نبھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی. ڈاکٹر سعید وینس کا مزید کہنا تھا کہ جہاں غیر ملکی مشکلات کا شکار ہیں وہیں پر سعودی شہری بھی مشکلات کا شکار ہیں، ہماری دعا ہے کہ کورونا وائرس کا جلد از جلد خاتمہ ہو اور ایک بار پھر سے زندگی رواں دواں ہوجائے. بزمِ بزرگانِ ریاض کے چیئرمین قاضی اسحاق میمن سمیت دیگر عہدیداروں میں سرور انقلابی، ڈاکٹر ریاض چوہدری، وقار نسیم وامق، ڈاکٹر طارق عزیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم سعودی عرب کی جانب سے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے کی جانے والی تمام کوششوں اور اپنائی جانے والی تمام احتیاطی تدابیر کو مناسب سمجھتے ہیں اور جس طرح پاکستانی کیمونٹی نے سعودی قوانین کی پاسداری کی ہے اس کو بھی ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جس طرح سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے امدادی فنڈ سے پاکستان اور آزاد کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثرہ گھرانوں میں کروڑوں روپے کا راشن بھیجا ہے اور رمضان المبارک میں متوسط طبقے کے لئے کھجوروں کا تحفہ بھیجا ہے اس پر پوری پاکستانی کیمونٹی سعودی حکومت اور عوام کو خراج تحسین پیش کرتی ہے. شرکائے گفتگو کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے سعودی عرب نے میڈیکل کا امدادی سامان بھیجا ہے اور اسلامی تعاون تنظیم کے ذریعے جس بہتر انداز کے ساتھ پاکستان کی مدد کی جا رہی ہے اس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، اور سعودی عرب کی جانب سے دنیا بھر میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے کروڑوں ڈالرز کی امداد بھی اس مہلک مرض کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گی. بزمِ بزرگانِ ریاض کی آن لائن بیٹھک میں پاک میڈیا فورم کے صدر ذکائاللہ محسن، چوہدری اسلم، ملک احمد، سیٹھ عابد، عقیل قریشی، آر جے فواد، بابر علی،چوہدری مطیع اللہ اور دیگر نے بھی شرکت کی.