دربار نواز شریف کا ہو، یا کپتان صاحب کا، ہرگز نہیں جانا چاہیے

آج بھی مولانا طارق جمیل کی بالواسطہ مذمت میں ہمارے قابل احترام دوستوں کے دو کالم چھپے۔ مذمت نہ سہی، ان کے خلاف تو ضرور ہیں! کسی اور موضوع پر لکھنا تھا۔ ایک اور پے کمیشن تشکیل پایا ہے۔ کچھ معروضات اس کی خدمت میں پیش کرنا تھیں۔ دوست گرامی، سابق سفیر جناب جاوید حفیظ نے آج کے کالم پر بذریعہ فون تبصرہ کیا اور بہت قیمتی اشارات دیے کہ شرق اوسط والوں سے بھارتی مسلمانوں کے حوالے سے کوئی امید رکھنا حقیقت پسندی کے خلاف ہو گا۔

مگر ان موضوعات پر کیا لکھنا! نیکو کاروں کی بستی میں ایک گنہگار پھنس گیا ہے۔ ہر ہاتھ نے دستانہ پہنا ہوا ہے۔ ہر ہاتھ میں سنگ ہے۔ ہر قلم کار رسّہ اٹھائے درخت کی شاخ تلاش کر رہا ہے جہاں گنہگار کو لٹکا دے۔ ساری اقلیم میں جیسے آگ لگ گئی ہے۔ ہر نیکو کار کی انا سے زخم رس رہا ہے۔ مولوی طارق جمیل نے قوم کو جھوٹا کہہ دیا ہے۔ اس سے بڑا ظلم، اس سے بڑی نا انصافی کوئی نہیں! چھوڑنا نہیں! بچ کر نہ جائے!

مولانا نے معافی مانگ لی۔ غیر مشروط معافی! کوئی دلیل دی نہ بحث کی! صرف اور صرف معافی! اس کے بعد متانت کا اور وضعداری کا اور اخلاقیات کا تقاضا تھا کہ معاملہ ختم ہو جاتا مگر حملے اور مسلسل حملے دیکھ کر یوں لگتا ہے مولانا نے معافی نہیں مانگی، للکار دیا ہے!

مانا یہ عذاب نہیں، یاد دہانی ہے۔ تنبیہ ہے! چلیے، میڈیا کے بارے میں مولانا کو بات نہیں کرنا چاہیے تھی اس لیے کہ میڈیا ایک طبقہ ہے اور کسی طبقے کو سنگل آؤٹ کرنا مناسب نہیں، مگر یہ جو سیاپا پڑا ہوا ہے کہ قوم کو جھوٹا کہا، تو ہاں بھئی! بالکل غلط کہا ہے! ہم تو دنیا کی صادق ترین اور امین ترین قوم ہیں! ہم جیسا دیانت دار روئے زمین پر کوئی نہیں! مولوی طارق جمیل پر فرد جرم عائد کر کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے اور پھر پا بہ جولاں، دست بہ زنجیر کر کے حوالۂ زنداں کر دینا چاہیے!

اس سے پہلے بھی ایک گنہگار عبدالستار ایدھی ہمارے ہتھے چڑھا تھا۔ کبھی ترنگ میں آتا تھا تو اہل سیاست کی اصلیت بتا دیتا تھا۔ اہل مذہب نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ خوب فتوے لگے۔ اب مولوی طارق جمیل مل گیا ہے۔ اس کے پیچھے اہل دنیا لگے ہیں۔ اہل مذہب میں سے بہت سے خوش ہو رہے ہیں۔ معاصرت بھی عجب روگ ہے۔ دوسرے کی شہرت، مقبولیت، ہر دلعزیزی راس نہیں آتی! کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے!


چھوٹا منہ بڑی بات! کہاں ایک بے بضاعت کالم نگار کہاں مولانا! مگر اختلاف ان سے کچھ معاملات میں ضرور ہے۔ دربار نواز شریف کا ہو، یا کپتان صاحب کا، ہرگز نہیں جانا چاہیے۔ پھر تقریر میں مبالغہ آرائی بھی ہے۔ جنت کا احوال بیان کرتے ہیں تو نعمتوں کے حوالے سے ضعیف روایات بیان کر جاتے ہیں۔ سماں تو بندھ جاتا ہے، لیکن پورا بیان غیر سنجیدہ ہوتا ہے۔ عورت کو بھی ایک طبقہ کے طور پر، الگ سے نشانے پر نہیں لینا چاہیے۔ مرد کو بھی تو غض بصر کا حکم ہے۔ اس پر بھی برابر کا زور دینا چاہیے۔ سب بجا۔ ۔ ۔ مگر طوفان اس پر مچا ہے کہ جھوٹا کیوں کہا!

غلط کہا، بالکل غلط! سراسر غلط! ہمارے ہاں تو جھوٹ وہ جنس ہے جو مکمل نایاب ہے۔ عدالتوں میں جھوٹی گواہی دینے والا ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ سب ولی زادے ہیں! یہ جو زنداں میں مر جانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ بے گناہ تھا تو یہ جھوٹی گواہی کا نہیں، سچی گواہی ہی کا تو کرشمہ ہے!

خدا کا خوف بھی کوئی شے ہے یا نہیں! میڈیا تلملا رہا ہے کہ قوم کو، من حیث المجموع، جھوٹا کیوں کہا؟ یہی میڈیا تو ہے جس نے ایک ایک جھوٹ، ایک ایک بے ایمانی، ایک ایک فریب کو طشت ازبام کیا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے، استعمال شدہ گندے تیل کو موٹروں کے انجنوں میں ڈالنے کے لیے دوبارہ بیچا جا رہا تھا تو میڈیا کی ٹیم نے پکڑا۔ شہر شہر جعلی دوائیوں کی فیکٹریاں چل رہی ہیں۔ مرچ ہے یا بیسن، دودھ ہے یا گھی، آٹا ہے یا چائے کی پتی، شیمپو ہے یا منہ پر لگانے کی کریم، شہد ہے یا مکھن، کون سی شے ہے جو نقلی، یا ملاوٹ والی نہیں!

کھلے عام تیار ہو رہی ہے اور بک رہی ہے! درست ہے کہ غیر مسلم ملکوں میں بھی جعلی خوراک بن اور بک رہی ہے، مگر انہیں تو اس پیغمبر پر کوئی یقین نہیں جس کا نام نامی سن کر یہاں بے ایمانی کرنے والا انگوٹھے چومتا ہے اور درود شریف پڑھتا ہے۔ غیر مسلموں نے تو سنا ہی نہیں کہ ”من غشّ فلیس منّا“ ۔ جس نے ملاوٹ کی ہم میں سے نہیں! انہیں تو معلوم ہی نہیں کہ محتکر (ذخیرہ اندوز) ملعون ہے۔ انہیں کیا پتہ کہ بیچتے وقت شے کا نقص نہ بتانے والے پر فرشتے لعنت کرتے ہیں۔ وہ تو فرشتوں کو مانتے ہی نہیں! وہاں تو مسجدیں ہیں نہ محراب نہ منبر جہاں سے بیچارا واعظ آئے دن یاد دلاتا ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں، بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرتا ہے تو پورا نہیں کرتا، امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کا ارتکاب کرتا ہے!

امتحان گاہوں میں بوٹی مافیا کا راج ہے۔ ملازمتیں دینے کا وقت ہو تو وزیروں، مشیروں اور سیکرٹریوں کی درازیں چٹوں سے بھر جاتی ہیں۔ یہ تو ابھی دو سال پہلے کی بات ہے، میرٹ پر بیرون ملک بھیجے جانے والوں کی فائل اس وقت کے وزیر اعظم نے پورا ایک سال اپنے دفتر میں رکھی اور پھر سارا عمل دوبارہ کیا گیا تا کہ وہ جو زیادہ ”برابر“ ہیں، انہیں نوازا جائے! جھوٹ کے الزام پر تلملانے والے کنڈے ہی گن لیں جو بجلی کی تنصیبات پر لگے ہیں۔

سچ بولنے والوں کی گیس کنکشن کی درخواستوں کو کیڑے کھا رہے ہیں اور چوری کے گیس کنکشن ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہیں۔ اوپر سے نیچے تک سب ”سچوں“ کو ایک ایک جعلی کنکشن کا علم ہے! سب کر رہے ہیں آہ و فغاں سب مزے میں ہیں۔ لاکھوں افراد پلاٹوں کے الاٹ منٹ لیٹر ہاتھوں میں لے کر پھر رہے ہیں کہ پلاٹ کا وجود ہی نہیں، مگر داد رس کوئی نہیں! اس لیے کہ جعلی لیٹر ایشو کرنے والوں کے ہاتھ لمبے ہیں! اس ملک کے سارے صوبوں میں کتنی کچہریاں ہوں گی!

کیا کوئی ایک کچہری بھی ہے جس کے بارے میں کوئی دعویٰ کر سکے کہ جھوٹ بولے بغیر، رشوت دیے بغیر کام ہو جائے گا! مولانا کا حلقوم دیکھ کر چھریاں تیز کرنے والے صرف سرکاری ٹیکس دے کر زمین یا جائیداد کا انتقال کرا کے دکھا دیں بشرطیکہ اپنی پوزیشن، اپنی حیثیت، اپنے تعلقات کا استعمال نہ کریں۔ خدا کے بندو! ایک ایک سائل کو ایک ایک کچہری میں بھنبھوڑا جاتا ہے۔ پٹواری سے لے کر تحصیل دار تک۔ تحصیل دار سے لے کر اوپر تک۔

کہاں کہاں حصّہ نہیں جاتا! یہ جن کے سرکاری اور غیر سرکاری گھروں میں اور ڈیروں پر اور حویلیوں میں ”لنگر“ چل رہے ہیں اور سینکڑوں ”وابستگان“ صبح شام تنور شکم بھرتے ہیں، ان کا حساب کتاب کیا ہے؟ کیا تنخواہ سے، یا جائز روٹین کی کمائی سے سب کچھ ہو رہا ہے؟ بھید ہے نہ معمّہ! ہر شخص جانتا ہے کن کے اخراجات کون پورے کرتا ہے!

کورونا عذاب نہیں! اس کا ہمارے جھوٹ سے کوئی تعلق نہیں! کورونا تو پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے! ہمارے جھوٹ کا حساب تو ابھی ہونا ہے! فانتظروا انّی
تحصیل دار تک۔ تحصیل دار سے لے کر اوپر تک۔

کورونا عذاب نہیں! اس کا ہمارے جھوٹ سے کوئی تعلق نہیں! کورونا تو پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے! ہمارے جھوٹ کا حساب تو ابھی ہونا ہے! فانتظروا انّی معکم من المنتظرین! تم بھی انتظار کرو! ہم بھی انتظار کرتے ہیں!

شہر شہر جعلی دوائیوں کی فیکٹریاں چل رہی ہیں۔ مرچ ہے یا بیسن، دودھ ہے یا گھی، آٹا ہے یا چائے کی پتی، شیمپو ہے یا منہ پر لگانے کی کریم، شہد ہے یا مکھن، کون سی شے ہے جو نقلی، یا ملاوٹ والی نہیں! کھلے عام تیار ہو رہی ہے اور بک رہی ہے!
بشکریہ روزنامہ دنیا۔

Mohammad-Izhar-ul-Haq