کِسی کے اڑن کھٹولے میں بیٹھتا تھا اور کوئی گھر کا خرچ چلاتا تھا

دل کے بہت بڑے تو نہیں پر کہیں کسی چھوٹے سے گوشے میں مولانا کے لیے تھوڑی سی محبت ضرور ہے۔ یقیناً اس میں اُن کے انداز بیان کی نرمی، اس میں گھلی مٹھاس، لہجے کا دل کو گرفت میں لیتا اُتار چڑھاؤاور نفسِ مضمون میں اللہ اور اس کے رسول کی محبوبیت کا ذکر بے تحاشا وبے بہا۔ یوں میں کچھ اتنی مذہبی نہیں۔ تھوڑی باغی اور من موجی سی عورت ہوں۔ عمرہ اور حج مخصوص دعاؤں اور سورتوں کی بجائے حمدیہ نظموں اور گیتوں کے زور پر کر آئی تھی۔ بارہ عدد ممیری، پھوپھیری بہنیں جو ساتھ گئی تھیں نے ٹھٹھا لگاتے ہوئے فتوی دیا تھا۔ ”لو بھئی یہ تو گرنتھ پاٹ کرنے آئی تھی۔“ بس بھئی بس یہ اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ ہے۔ اپنے لُچ تلنے بند کرو۔

ہماری دوست نیلم احمد بشیر کے بھی مولانا بارے بہت سے تحفظات ہیں۔ سب سے اہم تو حوروں کے سراپے، ملبوسات کی تفصیلات سے ہے۔ اب یہاں میں لاکھ ٹکریں ماروں کہ ”اری او نیک بخت یہ حوروں والے قصّے تو خود اللہ میاں جی تفصیلات سے سُناتے ہیں کہ جانتے ہیں اِس کمبخت مارے مرد کو رام بھی تو کرنا ہے۔ خواب نہیں دکھاؤں گا تو کام اچھے کیسے کرے گا؟“ یہ اور بات ہے کہ وہ ارضی حوروں پر بھی رالیں ٹپکاتا پھرتا ہے لونڈوں کا بھی خریدار ہے اور جنت کی حوروں کا بھی متمنی رہتا ہے۔

مولانا بھی شاید مردانہ نفسیات سمجھتے ہیں۔ اسی لیے تو حوروں کے باب میں اُن کا بیان مردوں کے لیے جیسے باد صبا کے نرم و ملائم جھونکوں کا پھولوں کے تختوں پر سے دھیرے دھیرے بہنا۔ جیسے ندی کے سبک خرام پانیوں کا ہلکی سی گنگناہٹ سے چلتے رہنا جیسے احساس والا ہوتا ہے۔ ذاتی مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں یہ سب کہہ رہی ہوں کہ میاں جی کی عمیق محویت اور بے پایاں دلچسپی کا مشاہدہ کیے بیٹھی ہوں۔ میں بھی ایک نمبر کی چلتر باز ہوں۔ پوری بتیسی کھول کر ہنستے ہوئے بولی تھی۔ ”فکر مت کریں۔ آپ کو ایک حور نہیں ملنی۔ میں نے بھی لاؤڈ سپیکر پر اعلان کردینا ہے۔ بچ کے رہنا اے حورو۔ یہ آدم زاد نرا نرگسیت کا مارا ہوا ہے۔ اِس نے تو تمہیں گھاس نہیں ڈالنی۔ اُلٹا تیار شیار ہوکر آئینے کے سامنے کھڑا ہوکر تمہیں نہیں خود کو دیکھتے ہوئے تم ہی سے پوچھے گا۔ بولو بتاؤ کیسا لگ رہا ہوں؟ میری پیاری حورو تم نے تو اپنا سر پیٹ لینا ہے۔ میں تو دل کو تسلی دے لیتی تھی کہ بھئی ہم تو ہیں ہی کوجے سے۔ تو بہنو تمہارا کیا بنے گا؟ مجھے تو یہی سوچیں کھائے جاتی ہیں۔“

شومئی قسمت ٹیلی تھون شو ہم نے بھی دیکھا اور ہماری پروگیسو دوستوں نے بھی۔ جھٹ پٹ مناظر سے ٹاکرے کی عدالت لگالی۔ سچی بات ہے میرے تو اندر نے لتاڑ دی۔ شرم کرو کچھ۔ مُنصف داری کی اہل ہو تم۔ کانوں کو ہاتھ لگائے اور کلّے پیٹے۔ ”نہیں بھئی نہیں۔“

پر میری کون سُن رہا تھا۔ اعتراضات کی لام ڈور نے ایک حشر کا سا طوفان اٹھایا ہوا تھا۔ اردگرد کی دوست احباب بھی اکٹھی کررکھی تھیں۔ لیجیے میرا تو وہ حال تھا کہ ابھی منہ سے بس اتنا سا ہی پھوٹی تھی۔ ”اے ہے کچھ تو خیال کرو۔ صاحب علم و دین ہے۔ عزت و تکریم سے بات کرو۔ تم لوگ تو لٹھ لے کر پیچھے پڑ گئی ہو۔“

ایک دھاڑی۔

”اور انہوں نے کیا کیا۔ آپ تو اتنی ننھی سی چوچی کاکی ہیں نا۔ کچھ جانتی ہی نہیں۔ ہمیں تو سر بازار رسوا کرکے رکھ دیا۔ یعنی یہ وبا ہماری وجہ سے آئی ہے۔ ہم اس کی ذمہ دار ہیں۔“

”لو حد ہوگئی ہے۔ مجھے کیا اتنا اوندھا سمجھ رکھا ہے۔ ارے میں نے یہ شو سارا دیکھا ہے۔ بھئی اب اگرانہوں نے کہا ہے کہ یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔ تو بتاؤ کچھ غلط کہا۔ جھوٹے نہیں ہم، چور نہیں ہیں ہم، دھوکے باز نہیں ہم، پکے منافق نہیں ہم۔ چھابڑی والے سے لے کر اوپر تک بتا دو جس کے جتنے بس میں ہے اتنا ہی وہ لُٹیرا ہے۔

”چلو سقراطی بقراطی تمہاری بات کو تھوڑا سا وزن دیتے ہیں۔ یورپ کے لوگ تو جھوٹے نہیں۔ وہاں یہ عذاب کیوں کشتوں کے پشتے لگا رہا ہے؟“

”اے بس میرا منہ نہ کھلواؤ۔ مظلوم انسانیت پر بڑے ظلم ڈھائے ہیں انہوں نے۔ سارے زمانے کے متکبر اور اپنے مفادات کو ترجیح دینے والے۔ ہاں اپنے لوگوں اور اپنے کاموں میں بے حد ایمان دار ہیں۔ مانتی ہوں۔ پر اے ہے خلاف فطرت کام کرتے ہی نہیں اُسے بزور بازو قانونی شکل بھی دیتے ہیں۔ اب بتاؤ ہم جنس پرستی کو کس دھڑلے سے مانتے ہیں۔ عورتیں عورتوں سے شادی بیاہ رچاتی پھرتی ہیں اور مرد مردوں سے۔ اللہ نے تو فطرت کے مطابق جوڑے بنائے ہیں۔“

میں تو تابڑ توڑ حملوں کی زد میں تھی۔ ایک اور دوست چلائی۔

”بس کریں۔ عالم دین لوگ یوں درباری بنتے ہیں کیا۔ وہ تو سرکار دربار سے ہمیشہ دور رہتے ہیں۔“ ”ارے بھئی جید علماء حاضری دینے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں سمجھتے تھے۔ امام ابو حنیفہ کی مثال کافی ہے۔ عباسی خلیفہ دوم ابو جعفر منصور اور ملکہ حِرا خاتون میں جھگڑا ہوگیا تھا۔ خلیفہ نے کسی مفتی، کسی منصف کو بلانے کی تجویز دی۔ حِرا خاتون نے امام ابو حنیفہ کا نام لیا۔ منصور اُن کی حق گوئی سے خائف ضرور تھا تاہم بلا بھیجا۔ آپ حاضر ہوئے۔ دونوں کے بیان سُنے۔ فیصلہ حق اور انصاف کی روشنی میں کردیا کہ اسلام میں چار نکاح جائز ضرور ہیں مگر شرط عدل و انصاف کی ہے۔ انصاف کے بغیر یہ گناہ ہے۔“

”تو تم انہیں نہیں دیکھتی ہو۔ بادشاہ وقت کے چرنوں میں بیٹھ کر فرماتے ہیں۔ عمران کو اجڑا چمن ملا ہے۔ بیچارہ تنہا ایمان دار شخص کہاں تک اسے آباد کرے گا۔ سبحان اللہ اِس ایمان دار شخص نے سارے لٹیرے اردگرد اکٹھے کیے ہوئے ہیں۔

کِسی کے اڑن کھٹولے میں بیٹھتا تھا اور کوئی گھر کا خرچ چلاتا تھا تو پھر انہوں نے اصل زر بمعہ سود وصول نہیں کرنا تھا۔ اور جن کے کارن یہ چمن اجڑا آپ کے تو اِن سے بھی گہرے مراسم تھے۔ دعائیں اور عشائیے تو وہاں بھی چلتے تھے۔ اور ہاں قوم کی بیٹیوں کی بے حیائی اور انہیں نچوانے کابھی بڑا دکھ ہے انہیں۔ تو جس کی امانت و دیانت کے گُن گارہے تھے اس کے جلسے اور دھرنے تو شاید یاد ہی نہیں۔ قوم کی بیٹیاں اور بیٹے گانوں پر بھنگڑے ڈالتے تھے۔ لڈیاں پڑتی تھیں۔ واہ کیا دہرے تہرے معیار ہیں۔“

ہماری ایک اعتدال پسند سی دوست نے بھی گرہ لگائی۔ ”کہتے ہیں اپنے پاس عقل نہ ہو تو ہمسایوں سے لے لو۔ اس نے تو اُسے بھی قبول نہ کیا۔ سیاست کی اِس وادی پُرخار میں داخلے سے قبل وہ ملک معراج خالد سے ملنے گئے۔ انہوں نے ارادے جان کر کہا میرے خیال میں اگر تم تعلیمی شعبہ میں اپنی توانائیاں لگاؤ۔ قوم تعلیم یافتہ تو ہوگی ہی ہاں تمہارے لیے اقتدار کے دروازے بھی آپوں آپ کھل جائیں گے۔ تمہارا تو منہ ماتھا چوم کر اگلوں نے تخت پر بیٹھا دینا ہے۔ مگر ہمارے ہیرو کو بہت جلدی تھی۔ زیرک سیاست دان کی باتیں اس کے عزائم سے لگا نہیں کھاتی تھی۔ آکسفورڈ کا پڑھا لکھا ٹیکنیکلی تدبیریں کرنے کی بجائے دعائیں کروا رہا ہے۔ گھبرایا پھر رہا ہے۔ پہلے دوا پھر دعا۔ دین کا یہ سبق پتہ نہیں کیوں انہیں یاد نہیں رہتا۔“

”چلو میری پیاریو معاف کردو۔ دیکھو انہوں نے کھلے دل سے معافی مانگی ہے۔ یہ ان کا بڑا پن ہے۔ اپنی غلطی کو ماننے کی تو ہمارے ہاں روایت ہی نہیں۔“

writer-salma-awan