یہ سیٹھ لوگ ملکی قوانین کے مطابق کام کرتے ہیں، سیاستدانوں پرسرمایہ کاری کرتے ہیں اور ایسی پالیسیاں بنواتے ہیں…

تحریک انصاف کے 24ویں یوم تاسیس پر عمران خان کا کہنا ہے کہ 24برس قبل ہم نے قائداعظم کے وژن کی روشنی میں پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست کی صورت میں ڈھالنے کیلئے اپنے نصب العین کی جانب جس سفر کا آغاز کیا، اسکے حصول کیلئے ہم نے قانون کی بالادستی قائم کی ہے۔ ریاستی اور قومی وسائل کو اشرافیہ کے مضبوط شکنجے سے چھڑا کر دولت کی قدرے منصفانہ تقسیم کو ممکن بنا دیا ہے تاکہ محروم اور نادار شہریوں کو غربت سے نجات ممکن ہوسکے۔ کاش عمران خان کایہ دعویٰ عملاً درست ہوتا نظر آتا۔ 76سالوں سے پاکستان کے تمام حکمران غریبوں کے دکھ درد میں دن رات پتلے ہوتے رہے ہیں مگر سرمایہ دارانہ معاشرے میں جہاں وسائل کو قدرتی طورپر چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے دیا جاتا ہے تاکہ امراء زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کریں اورپھر اس کو سرمایہ کاری کیلئے استعمال میں لا کر متوسط اور غریب لوگوں کو روزگار مہیا کریں لہٰذا یہ کہنا کہ موجودہ حکومت نے قانون کی بالادستی کے ذریعے وسائل کو امیر اور غریب میں برابری کی بنیاد پر ازسرنو تقسیم کر دیا ہے، حقیقت سے میل نہیں کھاتا ہے کیونکہ ہمارے ریاستی قوانین ہمیشہ طاقتورطبقہ اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ پاکستانی عدالتوں میں روپیہ پیسہ بہانے سے طاقتور طبقہ احتساب سے بالاتر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج تمام تر مبینہ کرپشن کے الزامات کے باوجود آصف زرداری اور میاں نوازشریف آزاد ہیں۔ آٹا، چینی بحران میں جہانگیر ترین کے خلاف بھی قانونی طورپر کچھ بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے ہر وقت غریبوںکا رونا رو رو کر طبقہ اشرافیہ کو ریاستی وسائل مہیا کئے تاکہ وہ بڑے بڑے کارخانے اور صنعتیں قائم کرکے عمل تطہیر کے ذریعے دولت معاشرے کے نچلے طبقات تک پہنچنے دیں مگر ایوب خان اور اسکے بعد نوازشریف کی صنعتی پالیسیوں سے بڑے بڑے پراجیکٹس پرائیویٹ اورسرکاری سطح پر شروع ہوئے جس سے غریبوں کو روزگار ملا مگر دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم برقرار رہی۔ حکومت نے ایسے ٹیکس قوانین نہیں بنائے کہ جس سے مستزاد ٹیکس (Progressive Taxes) حاصل ہوتے یعنی جو شخص زیادہ امیر ہوتا چلا جاتا، وہ زیادہ شرح سے ٹیکس دیتا اور جو کم امیر یا غریب ہوتا اس سے کم شرح سے ٹیکس لیا جاتا مگر ہمارے جاگیردار تو زراعت کی آمدنی پر ٹیکس ہی نہیں دیتے۔

ہمارے صنعتکاروں اورتاجروں نے ٹیکسوں سے بچنے کیلئے کئی طریقے اختیارکرلئے۔ صنعتوں کو دیوالیہ ڈکلیئر کرکے اربوں روپے کے قرضے معاف کروائے گئے۔ یہاںسے کمایا گیا پیسہ زراعت سے آمدنی ظاہر کرکے ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کیا گیا۔ فوجی اور نیم فوجی اداروں نے فائونڈیشنز اور ٹرسٹ بنا کر کمرشل کاروبار کئے اورٹیکسوں سے استثنیٰ حاصل کرلیا۔ فائونڈیشن اور ٹرسٹ بنا کر بڑے بڑے ہسپتال اور تعلیمی ادارے بنائے گئے، حکومتوں سے فنڈ لئے گئے مگر کاغذوں میں تھوڑی سی چیریٹی ظاہر کرکے ٹیکسوں سے استثنیٰ حاصل کیا گیا تاہم بڑی مشکل سے مڈل کلاس طبقے نے چھوٹے چھوٹے کاروبار قائم کئے گئے مگر پاکستان میں ہمارے حکمران غریبوں کا رونا روتے روتے مڈل کلاس اورسفید پوش طبقے کا خاتمہ کئے جا رہے ہیں۔
سابق سپیکر الٰہی بخش سومرو ہمارے ہاں ایک تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر تشریف لائے تو انہوں نے بڑی زبردست بات کی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی معاشرہ متوسط طبقے کے بل بوتے پر ترقی کرتا ہے۔ بالائی طبقہ اور بے حد نچلا طبقہ معاشرے کی تلچھٹ ہوتا ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر حکومت سمجھتی ہے کہ وہ اپنے فنڈز کے کچھ حصے غریبوں کیلئے مختص کرکے انکی حالت زار کو بہتر بنالے گی اور اس درمیانے درجے کے کاروباری ادارے، صنعت، سکول یا کالج کو مافیا قرار دیکرختم کر دیگی تو ان غریبوں کے ہمدردوں کو کیسے سمجھایا جائے کہ چھوٹے چھوٹے کاروباری یونٹس کے ساتھ 10، 12غریب افراد کا روزگار بھی منسلک ہوتا ہے۔

اس وقت ملک میں غربت کی لکیر سے نیچے ساڑھے 7کروڑ افراد ہیں جو بمشکل سواڈالر (1.25ڈالر ) روزانہ کماتے ہیں اور 75فیصد آبادی ایسی ہے جو 2ڈالرز روزانہ حاصل کرتی ہے مگر غریبوں کے بھیس میں چھپے ہوئے گداگر اپنی پیشہ ورانہ ڈھٹائی کی بدولت اچھی خاصی آمدنی کماتے ہیں مگر ہمارے نزدیک ہر میلا کچیلا شخص غریب ہے اگر آج حکومت ایک کروڑ افراد کو احساس پروگرام کے تحت چند ہزار دے بھی دیگی تو اس سے انکی حالت زار نہیں بہتر ہوگی اگر کسی بھی ملک میں متوسط طبقے کیلئے یکساں ترقی کے مواقع فراہم کئے جائینگے تو وہ اس ملک کے غریب طبقے کو سپورٹ کرینگے۔ وہ انہیں ہنرمند بنائینگے اور غریب آدمی بھکاری بننے کی بجائے باعزت طریقے سے روٹی کمانے کے قابل ہو جائیگا۔ جب حکومت طبقہ اشرافیہ کو مراعات دیتی ہے تو وہ براہ راست ٹیکس دینے کی بجائے پیسہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے باہر منتقل کر دیتے ہیں ہیں اور سٹہ بازی کے ذریعے رئیل اسٹیٹ، سٹاک ایکسچینج اور کموڈٹی مارکیٹ میں قیمتوں میں مصنوعی اتار چڑھائو سے اربوں روپے کما کر باہر بھیج دیتے ہیں اور یہ سب کچھ حکومتی اہلکاروں اور حکمرانوں کی مرضی اور منشا سے ہوتا ہے۔ یہ سیٹھ لوگ ملکی قوانین کے مطابق کام کرتے ہیں۔ وہ سیاستدانوں پرسرمایہ کاری کرتے ہیں اور ایسی پالیسیاںبنواتے ہیں۔ ایسے SORجاری کرواتے ہیں جو انکے مالی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ ہماری 72سالہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں قائداعظم کے وژن کیمطابق اسے ویلفیئر سٹیٹ بنانے کی کبھی کوئی سنجیدہ اور مؤثر کوشش نہیں کی گئی ہے۔ پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی کیلئے کوئی قابل ذکر پروگرام آج تک تشکیل نہیں دیا گیا۔ اڑھائی کروڑ بچے کبھی سکولوں میں نہیں گئے۔ 6کروڑ لوگ بنیادی طبی سہولتوں سے محروم ہیں۔ لاکھوں بچے خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔ پرائیویٹ اور سرکاری یونیورسٹیاں کاروبار کررہی ہیں۔لاکھوں روپوں کی فیسیں اور واجبات وصول کئے جاتے ہیں مگر ریاستی ڈھانچہ اس قابل نہیں ہے کہ انہیں روزگار فراہم کرسکے۔

کرونا بحران کی وجہ سے معیشت کا جنازہ نکل گیا ہے۔ ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد روزگار سے محروم ہو جائینگے۔ پاکستان میں سماجی فلاح و بہبود پر محض چند سو ارب خرچ کئے جاتے ہیں جو 12کروڑ غریب افراد کیلئے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں۔ کروڑوں پاکستانی کچی آبادیوں میں رہ رہے ہیں جبکہ 2فیصد افراد عظیم الشان محلات میں رہتے ہیں اور وہ ہمارے حاکم اور مذہبی پیشوا بھی ہیں اگر وہ مذہبی طور پر پیر اور وڈیرے نہیں ہیں تو علماء کی کثیر تعداد ان کیلئے رطب اللسان ہے۔ لوگوں کو امید تھی کہ تحریک انصاف کی حکومت ایسی پالیسیاں وضع کریگی جس سے متوسط اورتعلیم یافتہ طبقہ معاشی طور پر خوشحال ہوگا مگر افسوس کہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمران بھی عملاً غیرمعمولی عدم مساوات کو ختم نہیں کر پائیں گے۔
Naeem  Qasim  Nawa-i-Waqt