مودی اور بی جے پی کی مسلمان مخالف تعصب سے بند آنکھیں

ابلیس کا یہ دھڑکا بلاوجہ نہیں ہے جس کا اظہار وہ اپنے چیلوں سے ان الفاظ میں کرتاہے جس میں تشویش کے ہزار پہلو ہیں
ہے اگر مجھ کو کوئی خطرہ تو اس اُمت سے ہے
جس کی خاکستر میںہے اب تک شرارِ آرزو
’’اگرچہ آج کی امتِ مسلمہ میں اپنے اسلاف کا وہ جوشِ ایمانی نہیں ہے لیکن اس کی راکھ میں جو جذبوںکی چنگاری موجود ہے اس سے خطرہ ہے بھڑک کر شعلہ نہ بن جائے ’’ابلیس کے اس خدشے کا کھلا اظہارچشم فلک نے دیکھا جب بالآخر اسلامی ممالک میں بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے خلاف ردعمل نے جنم لیا اگرچہ ترکی اور ملائیشیاء نے اس کے خلاف واضح آواز بلندکی لیکن بھارت کے کانوں پر جوں نہیں رینگی لیکن خلیجی ریاستوں کے ردعمل کو نظرانداز کرنا بھارت کے جنونی حکمرانوں کے بس میں نہیں ہے کیونکہ ان ممالک میں روزگار کماتے لاکھوں بھارتی شہری بھارتی معیشت کا بہت بڑا سہارا ہیں۔ کویت کی کابینہ نے بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی نہ صرف شدید مذمت کی بلکہ اسلامی کانفرنس تنظیم سے مداخلت کی اپیل بھی کی ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ کویت کی کابینہ کا اقوام متحدہ کی بجائے اسلامی کانفرنس تنظیم سے مداخلت کی اپیل اس کے لیے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ یہ دراصل بالواسطہ طور پر تمام اسلامی ممالک سے مداخلت کی اپیل ہے اس کے بھارت پر اثرات کو مودی اور بی جے پی کی مسلمان مخالف تعصب سے بند آنکھیں نہ دیکھ سکیں مگر بھارت میں سوجھ بوجھ رکھنے والوں نے اسے ضرور محسوس کیا ہے۔ بھارت کے ایک سو دس سابق اعلیٰ بیوروکریٹس نے تمام صوبوں جنہیں بھارت میں ریاستیں کہا جاتا ہے کے وزرائے اعلیٰ کو کُھلا خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے ’’ہم بڑے دکھ کے ساتھ آپ کی توجہ ملک کے کچھ حصوں میں مسلمانوں کو ہراساں کئے جانے بالخصوص مارچ میں تبلیغی جماعت سے متعلق اطلاعات پر مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے ایک گوشے نے کوویڈ 19 کے معاملات کو فوری طور پر فرقہ ورانہ رنگ دے دیاکہ تبلیغی جماعت کا مقصد ملک میںکرونا مرض پھیلانا ہے فرقہ ورانہ میڈیا کوریج سے ملک کے کچھ حصوں میں مسلمانوں کے تئیں عداوت و دشمنی کو ہوا مل رہی ہے مختلف مقامات پر مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی اطلاعات ہیں، دوا خانوں و نگہداشت صحت کی سہولتوں میں علاج کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں واپس بھیجا جا رہا ہے بھارت کے مسلم ممالک سے اچھے تعلقات ہیں لاکھوں بھارتی وہاں روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ان ممالک نے تشویش ظاہر کی ہے اسے دور کرنے کے لیے ضروری ہے۔اقلیتوںکے ساتھ امتیازی سلوک ختم کیا جائے انہیں راحت پہنچانے کے اقدامات کئے جائیں‘‘ اس کھلے خط پر دستخط کرنے والوںمیںسابق سیکرٹری کابینہ ایم چندر شیکھر، ایس وائی قریشی ، سابق انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ، سابق لیفٹیننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ ، آئی پی ایس کے جو لیور نیرّ بھی شامل ہیں۔ یہ بات غور طلب ہے کہ یہ خط وزیراعظم مودی کی بجائے وزرائے اعلیٰ کو لکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے خط لکھنے والوںکو احساس بلکہ یقین ہے کہ مودی کی ہندو جنونیت اسے خلیجی ممالک کے ردعمل کے نتائج پر غور کی اجازت نہیں دے گی کہ اگر یہ ممالک بھارتیوں کو دیس نکالا کا حکم دے دیں تو بھارتی معیشت کس تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے۔ جسے مودی اور اس کے ساتھیوں نے لوٹ کھسوٹ کے ذریعہ پہلے ہی بحران کا شکار کر رکھا ہے کرونا وائرس نے جس کی بحرانی کیفیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یہ باعث طمانیت ہے کہ مسلم اُمہ کے بحر کی موجوں میں قدرے اضطراب نے انگڑائی لی ہے جس کا بھارت کے دانش ور طبقہ نے فوری اثر قبول کیا میں سوچتا ہوں اگر کسی ملک کی جانب سے پاکستان میں ہندو اقلیت کے حوالے سے کوئی منفی بات کر دی جاتی تو بھارتی میڈیا کس طرح طوفان اٹھا دیتا مگر خلیجی ریاستوں کی جانب سے بھارتی مسلمانوں کے حق میں بلند ہونے والی آواز کو پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا نے جس طرح نظرانداز کیا ہے ان پر تین حرف بھیجنے کو دل کرتا ہے۔ ہونا یہ چاہئے تھااور حب الوطنی کا تقاضا تھا خلیجی ممالک کی اس حمایت پر پروگراموں کی بھرمار کر دی جاتی۔ پوری دنیا کے کان کھڑے ہوتے اور مودی سرکار شدید دبائو کا شکار ہو کر اپنی مسلمان دشمن پالیسیوں کو ختم نہ کرتی تو ان میں کمی ضرور لاتی مگر حسرت ہی کی جا سکتی ہے کاش پاکستانی میڈیا اینکرز اور تجزیہ نگار وطن دوستی کے تقاضوںکا اتنا بھرم رکھ سکتے جتنا ظلم کی حمایت میں بھارتی اینکرز ملکی مفادکا دفاع کرتے ہیں اور کاش وقت ’’چینل بحال ہوتا، تو ایک توانا آواز ضرور اٹھتی۔ شبلی فراز اور عاصم سلیم باجوہ سے توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ میڈیا کو کچھ ایسا رخ دینے کی کوشش کریں گے جس سے قومی و ملکی تقاضوں کی بجاآوری ہو سکے ابھی زیادہ وقت نہیںگزرا خلیجی ممالک کی جانب سے بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کے حق میں بلند ہونے والی آواز کو عالمی سطح پر توجہ مبذول کرانے کا ذریعہ بنایا جائے تاخیر سنہری موقع گنوانے کا پچھتاوا بنے گی۔ بھارتی میڈیا اور حکومت کی دوغلی پالیسی ہے 13 مارچ سے 15 مارچ تک دہلی میں تبلیغی احتماع کو کرونا پھیلائو کا سبب قرار دیا جا رہا ہے مگر 16 مارچ کو سری و نائک اور جین مندر، 17 مارچ کو شیزوی مندر، 18 مارچ کوویشنو دیوی مندر اور 20 مارچ کو کاشی کی وشوا ناتھ مندر میں ہزاروں ہندوئوں سے مذہبی رسوم ادا کیں مگر بھارتی میڈیا اور حکومت نے آنکھیں بندرکھیں۔
مقبوضہ کشمیر سیاسی قرنطینہ میں تبدیل ہو چکا ہے مسلمانوں سے ظالمانہ سلوک جاری ہے۔ ہندوئوں اور مسلمانوں کو دی جانے والی طبی سہولتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ طویل ترین لاک ڈائون سے ڈپریشن کا شکار ہو کر 16 لاکھ کشمیری ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ صحافیوںپر بھی عرصہ حیات تنگ ہے اب تک 18 صحافی قتل ہوئے آخری مقتول سید شجاعت بخاری ہیں نامعلوم افراد کی گولیوں کا شکار ہوئے۔ تاہم مار پیٹ ، تذلیل ، تشدد، گرفتاریوں اور اغوا ء جیسے ناموافق حالات کا مقابلہ بڑی بہادری سے کر رہے ہیں۔ سرینگر میں ’’دی ہندو‘‘ اخبار کے نمائندے پیرزادہ عاشق ، بین الاقوامی میڈیا اداروں سے منسلک ممتاز صحافی گوہرگیلانی اور خاتوں صحافی مسرت زہرہ کے خلاف بغاوت کے مقدمات بنائے گئے۔ مسرت زہرہ کے مطابق جن تصاویر کی بنیادپر اسکے خلاف مقدمہ بنایا گیا وہ بہت پہلے شائع ہو چکی ہیںایک تصویر اس خاتون کی ہے جس کے شوہر کو 20 سال قبل جعلی مقابلے میںشہید کر دیا گیا تھا دوسری تصویر محرم الحرام کے جلوس کی ہے جس میں کچھ شرکاء نے برہان وانی کی تصاویر اٹھا رکھی ہیں۔
Israr Bukhari Nawa-i-Waqt