وہ ہر حکمران کے دربار میں سر جھکائے کھڑے ہوتے ہیں

عوام کی خدمت اگر خالق کی رضا کے لیے کی جائے تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ جتنا سکون اور اطمینان کسی کی مدد کے بعد حاصل ہوتا ہے اس کا اندازہ کم لوگوں کو ہے۔ یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا حقیقی لطف وہی اٹھاتے ہیں جو بے لوث ہو کر عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ یہ لوگ حقیقی بادشاہ ہوتے ہیں ایسے بادشاہ جو عوام کے دلوں میں بستے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر وقت اپنی دولت کو بڑھانے میں مصروف رہتے ہیں ان کا ہر عمل دولت میں اضافے کے لیے ہوتا ہے۔ وہ ہر حکمران کے دربار میں سر جھکائے کھڑے ہوتے ہیں ان کی زندگی کا واحد مقصد مال و دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔ زندگی یونہی گذر جاتی ہے۔ مال بنانے کے اس سفر میں وہ حقیقی عزت سے محروم رہتے ہیں چونکہ گود سے گور تک ہر وقت دو جمع دو میں گذرتا ہے اس سفر میں انسانوں کو استعمال کرتے رہتے ہیں اور زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب برسوں کی محنت اور ظاہری شان و شوکت کو ایسا دھچکہ پہنچتا ہے کہ نسلیں اس کا جواب اور وضاحتیں پیش کرتی رہتی ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو مال و دولت، شہرت، ظاہری شان و شوکت کے بجائے اللہ کی مخلوق کی خدمت میں زندگی گذارتے ہیں نہ انہیں حکمرانوں کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے نہ وہ انتخابات یا کسی عہدے کے محتاج ہوتے ہیں ان کا کام بھی ویسے ہی چلتا ہے رہتا جیسے سرمایہ داروں کا چلتا ہے۔ ایک طرف والوں کی طاقت حکمرانوں کے ساتھ تعلقات ہوتے ہیں دوسری طرف والوں کی طاقت سجدوں اور دعاؤں میں چھپی ہوتی ہے۔ ایک طرف والوں کو اپنی دولت پر مان ہوتا ہے تو دوسری طرف والوں کا اللہ پر یقین ہوتا ہے ایک طرف والے ہر وقت مصلحت کا شکار رہتے ہیں تو دوسری طرف والے سچ اور حق کے سفر میں آگے بڑھتے ہیں۔

ایک طرف والوں کے لیے حکمرانوں کا دربار اہم ہے تو دوسری طرف والوں کا پسندیدہ عوام کا دربار ہے۔ عوام کے دربار میں رہنے والے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے اردگرد ہر بڑا مالدار عوام کے دربار کے بجائے حکومتی دربار کا خواہشمند رہا ہے۔ حکمرانوں نے ہر دور میں مالداروں اور سرمایہ داروں نے حکمرانوں کو استعمال کیا ہے۔ ہم جب بھی عوام کے دربار کی بات کرتے ہیں تو عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب عوامی دربار میں کھڑے ظالموں، وزیروں، مشیروں، سرمایہ داروں کو للکارتے نظر آتے ہیں۔ وہ حبیب جالب جنہیں سچ کہنے سے کویی حکمران نہ روک سکا، وہ حبیب جالب جو سختیوں اور قید و بند کی صعوبتیں تو برداشت کرتا ہے لیکن عوام کے دربار سے دستبردار نہیں ہوتا، وہ حبیب جالب جو ہمیشہ حکمرانوں کا للکارتا رہا اور عوام کا مقدمہ پیش کرتا رہا، وہ حبیب جالب جس نے کبھی لکھتے اور بولتے ہوئے مصلحت سے کام نہیں لیا، وہ حبیب جالب جس نے ہر دور میں عوام میں کھڑے رہنے کو ترجیح دی۔ حبیب جالب نے ایک ہی وقت میں عوام کو سچ بولنے کا سبق دیتے ہیں، حق کے لیے ڈٹ جانے کا درس دیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ حکمرانوں کو یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ انسانوں کے ساتھ بتوں جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ حکمران ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ سب سر جھکا کر کھڑے ہو جائیں۔ حق کہنے والے بھلے کم ہوں سچ بولنے والے بھلے کم ہوں، بے لوث خدمت کرنے والے بھلے کم ہوں لیکن ڈنکا انہی کا بجتا ہے۔ کتنے ہی مالدار اور حکمرانوں کے دربار میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے والے دنیا سے چلے گئے آج کسی کو انکا نام بھی یاد نہیں لیکن حبیب جالب آج بھی دلوں پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ یہ حق اور سچ کی فتح ہے یہی عوام کے دربار کے بادشاہ کی اہمیت ہے۔

عوام کی خدمت کے نام پر حکومت میں آنے والوں کی زندگی بدل گئی، گاڑیوں کی تعداد بڑھ گئی، لباس بدل گیا، جوتے بدل گئے، گھر بدل گئے، سوچنے کا انداز بدل گیا۔ جن کے نام پر ووٹ حاصل کیے وہ وہیں کھڑے ہیں بلکہ پہلے سے بھی پتلی حالت میں ہیں لیکن ان کے نام نہاد ہمدردوں کو اس سے کچھ غرض نہیں ہے۔ کل تک انہیں غریب عوام کے درد سے نیند نہیں آتی تھی آج حکومت و دولت کے خمار سے ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں ایسے ہی مفاد پرستوں کے لیے عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب نے لکھا تھا

وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پِھرے ہیں فقط وزیروں کے
اپنا حلقہ ہے حلقۂ زنجیر
اور حلقے ہیں سب امیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
وہی اہل وفا کی صورت حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے
سازشیں ہیں وہی خلاف عوام
مشورے ہیں وہی مشیروں کے

آج ہم اپنے حکمرانوں کو دیکھتے ہیں تو جالب یاد آتے ہیں۔ وہ جب شعر کہتے تو صرف وہی لکھتے جو محسوس کرتے تھے۔ انہوں نے ساری عمر یہی محسوس کیا کہ حکمرانوں، مالداروں اور سرمایہ داروں نے اس ملک کے عوام کا خون ہی چوسا ہے۔ آج ملک میں کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن یا سمارٹ لاک ڈاؤن ہے۔ وہ جو عوامی خدمت کے دعوے کرتے تھے آج گھروں میں دبکے ہوئے ہیں۔ ووٹرز ووٹ دینے کے لیے دھکے کھاتے ہیں پھر قائدین کو ملنے کے لیے دھکے کھاتے ہیں۔ آج جب ووٹرز کو ضرورت ہے تو سب بڑے بڑے نام نہاد عوامی خدمت گار کورونا کے خاتمے کا انتظار کر رہے ہیں۔ کاش ہم سمجھ جائیں کہ بڑی بڑی گاڑیاں، بنگلے، ایکڑوں زمین، نوکر چاکر عظمت کی نشانی نہیں ان چیزوں سے حکومت میں تو آ سکتے ہیں لیکن عوام کے دلوں پر حکمرانی کے لیے عوام کے دربار میں کھڑے ہونا پڑتا ہے۔ آج اس مشکل وقت نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے ان سب مالداروں، سرمایہ داروں کا مقصد صرف اور صرف بادشاہ کا دربار ہے۔ اب عوام کو بھی سمجھنا ہو گا کہ ان مفاد پرستوں کے ساتھ کیا کرنا ہے جو عوام کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے عوام ان کے ساتھ کیوں کھڑی ہوتی ہے۔ ہمیں فکر جالب کو آگے بڑھانا ہے۔ ہمیں حق اور سچ کا ساتھ دینا ہے۔ ہمیں بادشاہوں کے بجائے عام آدمی کے ساتھ کھڑے ہونے کی روایات کو آگے بڑھانا ہے۔
Mohammad  Akram  Chaudhary  Nawa-i-Waqt