پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں یہ ہو کیا رہا ہے؟

پاکستان ‏اسٹاک ایکسچینج میں ابھی تاریخ میں پہلی بار ہونے والی اضافی 3 منٹ پندرہ سیکنڈ کی ٹریڈنگ کے بلنڈر کی دھول بیٹھی نہیں تھی کہ اسٹاک ایکسچینج انتظامیہ نے ایک اور بلنڈر کردیا..29 اپریل بدھ کے روز اسٹاک مارکیٹ کے بینچ مارک ہنڈریڈ انڈیکس میں ایڈجسٹمنٹ ہی نہ ہو سکی جو 33158 پوائنٹس کا ہائی بناکر اسی سطح پر کلوز ہوا..8 کاروباری سیشنز میں یہ دوسرا بلنڈر ہے..جب راقم اور اسٹاک مارکیٹ کے چند ممبرز نے اس اہم بات کی نشاندہی کی تو کئی گھنٹے تک اسٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ یہ معاملہ کیوں اور کیسے پیش آیا کے سوال کا جواب ہی نہ دے سکے تاہم کافی دیر بعد اسٹاک ایکسچینج کے منیجنگ ڈائریکٹر فرخ خان نے مجھے بتایا کہ ایسا ہوسکتا ہے اور ہم اس معاملے کو مینول سسٹم کے ذریعے بھی ڈبل چیک کررہے ہیں لیکن نتیجہ کیا نکلا یہ رات گئے تک نہ بتایا جاسکا اور ایم ڈی کا مجھے ایک میسج موصول ہوا کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے ہیڈ آف ٹریڈنگ جاوید ہاشمی صبح اس معاملے سے آگاہ کریں گے جبکہ اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین بورڈ سلیمان مہدی نے بتایا کہ دو متلعقہ افراد نے بدھ کے روز اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی آخری آدھے گھنٹے کی ٹریڈنگ کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے جس میں 38 شیئرز ایسے پائے گئے کہ جن کی قیمت ایوریج پرائیس سے اوپر بند ہوئی اس وجہ سے ہنڈریڈ انڈیکس اپنے ہائی لیول کی سطح پر کلوز ہوا..یہاں میں یہ بات واضح کردوں کہ اسٹاک مارکیٹ کے ایک انتہائی سینئر اسٹاک بروکر کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کا ہنڈریڈ انڈیکس کاروبار کے اختتام پر ہمیشہ ایڈجسٹ ہوتا ہے ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ اس میں ایڈجسٹمنٹ نہ ہو…اسٹاک مارکیٹ سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مختصر سے عرصے میں دو بلنڈرز کا ہوجانا مارکیٹ کے مہنگے ترین ٹریڈنگ اور سرویلینس سسٹم اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹاک مارکیٹ کے ریگولیٹر ادارے سیکیورٹیز اینڈ ایکسشینج کمیشن آف پاکستان کی معنی خیز خاموشی بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کیونکہ دونوں بلنڈرز کو ممبران اسٹاک ایکسشینج اور سرمایہ کاروں سے چھپایا گیا ہے.