نیوکلیئرہتھیار بنانے والے ملک کیلئے وینٹی لیٹر بنانا مشکل نہیں، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کامسٹیک ہیڈ کوارٹراسلام آباد کا دورہ کیا ، فوادچوہدری بھی عمران خان کےہمراہ تھے، وزیر اعظم کو کورونا صورتحال میں طبی آلات پربریفنگ دی گئی ، طبی آلات وزارت سائنس، انجینئرنگ کونسل کے اشتراک سے تیار کیے گئے ہیں، یہاں مقامی طور پر وینٹی لیٹرز، ٹیسٹنگ کٹس، ماسک، حفاظتی لباس اور سینیٹائزرز تیار کئے جارہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کامسٹیک ہیڈ کوارٹرمیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا وزارت سائنس و ٹیکنالوجی ملک کو آگے لیجانےکی صلاحیت رکھتی ہے، خود اعتمادی قوم کو اوپر لے کر جاتی ہے اور قومیں ترقی کرتی ہیں اور یہ ہی خوداعتمادی لوگوں کومشکلات سے نبردآزماہونے کے قابل بناتی ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ ہم سے کہتا ہے کہ نبیﷺ کی سنت پر عمل کریں ، نبیﷺ کی تعلیمات نے لوگوں کو ذہن کی غلامی سے آزاد کیا تھا، نبیﷺ کی تعلیمات پر عمل کرکے انسان ترقی کرتا ہے ،ریاست مدینہ کےاصولوں پر چل کر قومیں ترقی کرتی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی ہمارے اندر خوداعتمادی نہیں آئی ، 60 کی دہائی میں پاکستان ترقی کی طرف گامزن تھا، کورونا وائرس کی وجہ سے وینٹی لیٹرزبنانے کاخیال ہمیں اب آیا ہے، 22 کروڑ کی عوام والا ملک کیسے ہوسکتا ہے کہ امپورٹ کی طرف جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ سوچا ہی نہیں کہ ہم بھی پاکستان میں چیزیں بناسکتے ہیں، آج ہمارے صاحب اقتدار چاہیں بھی تو باہر جاکر علاج نہیں کرا سکتے ، اس سے پہلے تو سب کھانسی بھی ہوتی تھی توبیرون ملک جاکر علاج کراتےتھے، آج رولنگ ایلیٹ باہر علاج کرانے نہیں جاسکتی کیونکہ وہاں زیادہ خطرہ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جب تک منسٹرز پاکستان میں علاج نہ کرائیں تو یہ سرکاری اسپتال نہیں ٹھیک ہوسکتے، پیسے والے لوگ سرکاری اسپتال میں جانے کا سوچتے بھی نہیں ہے، ماضی میں حکمران طبقہ بیرون ملک جاکر علاج کراتا رہاہے.

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیوکلیئر ہتھیار بنانےوالے ملک کیلئے وینٹی لیٹر بنانا مشکل نہیں ، آج پاکستان میں سرکاری اسپتالوں کو بہتر بنانے کیلئے کام ہورہا ہے، ہمیں اپنے اسپتالوں کو درست اور بہتر بنانا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کورونانےہمیں سکھایانالج اکانومی کی طرف جاناہے، ہمیں اپنےپیروں پرکھڑاہوناہے،چیزیں خودبنانی ہیں, ہم نے لاک ڈاؤن لگادیا یہ نہیں سوچا کہ مزدور طبقے پر اس کا کیا اثر پڑےگا، کورونا امیر یا غریب میں فرق نہیں کرتا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے لاک ڈاؤن لگادیا یہ نہیں سوچا کہ مزدور طبقے پر اس کا کیا اثر پڑےگا، حکمران اشرافیہ نے فیصلہ کرلیا لاک ڈاؤن لگادیں ،غریبوں کا سوچا نہیں، کورونا غریبوں کےعلاقوں میں جائےگا تو امیروں کےعلاقے بھی جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مودی اتنا ڈرپوک تھا کہ ایک دن پورا بھارت بند کردیا ملک کو ایک وژن کے تحت آگے لیکر جائیں گے ، طویل المدتی پالیسیوں کے ذریعے ہی ملک ترقی کرسکتا ہے

Courtesy ary urdu