پروفیسر رئیس علوی اور سہیل پی احمد نے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کردیا ۔جاپان کی جانب سے شاہی اعزازات کا اعلان

پروفیسر رئیس علوی اور سہیل پی احمد نے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کردیا ۔جاپان کی جانب سے شاہی اعزازات کا اعلان کیا گیا ہے۔
پاکستان کی ان دونوں قابل فخر شخصیات کا انتخاب حکومت جاپان کے جانب سے علمی اور تجارتی شعبوں میں خدمات کی وجہ سے عمل میں لایا گیا ہے ۔

29 اپریل2020 کو جاپان کی حکومت نے رواں سال کے لیے غیرملکی وصول کنندہ افراد کے ناموں کا اعلان کیا ہے جس کے تحت پاکستان سے پروفیسر محمد رئیس علوی کو پاک جاپان ثقافتی تعلقات اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے سلسلے میں ان کی اعلی خدمات پر اعلی شاہی اعزاز دی آرڈر آف دی رائیزنگ سن گولڈ ریز ود روزیٹ ۔دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ وہ ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن سٹڈیز کے سابق پروفیسر اور ٹرانسلیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں

جبکہ حکومت جاپان کی جانب سے پاکستان جاپان بزنس فورم کے سابق صدر سہیل احمد کو بھی علی شاہی اعزاز ۔دی آرڈر آف رائیزنگ سن گولڈ ریز ۔ ود نیک ربن ۔دیا گیا ہے ۔یہ اعلیٰ ترین اعزاز پاکستانی شخصیات کے لئے اعلان کیا جانا یقینی طور پر پوری قوم کے لئے قابل فخر ہے ۔

یاد رہے کہ پروفیسر رئیس علوی ایک طویل عرصے سے پاک جاپان سماجی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں اس سلسلے میں ان کی قابل ذکر خدمات مندرجہ ذیل ہیں ۔پروفیسر علوی نے جاپانی کلاسیکل شاعری ہائیکو اور واکا کا اردو میں ترجمہ کرکے نا صرف اسے پاکستان میں متعارف کروایا بلکہ اس کے فروغ کا بھی باعث بنے ۔چھٹی صدی عیسوی میں لکھی جانے والی قدیم ترین جاپانی نظم مانیو شو کا چاند کے چار رنگ کے نام سے اردو ترجمہ کرنے کا سہرا پروفیسر علوی کے سر جاتا ہے ۔ایدو عہد میں جاپانی ادب کا شاہکار سمجھے جانے والی اوکو نو ہو سو میچی کا۔ اردو ترجمہ اندرون شمال کا تنگ راستہ پروفیسر علوی کی کاوش ہے انہی خدمات کی بدولت پروفیسر علوی کو جنوبی ایشیائی خطے میں جاپانی ادب اور ثقافت کے فروغ میں اہم خدمات انجام دینے پر یہ اعلی ترین چاہیے اعزاز دیا گیا ہے

پاکستان جاپان بزنس فورم کے سابق صدر سہیل پی احمد کو بھی جاپان حکومت کی جانب سے اعلی ترین شاہی اعزاز سے نوازا گیا ہے وہ مئی2012 سے لے کر اپریل دو ہزار بیس تک اس عہدے پر فائز رہے اور انہوں نے اپنے دور میں انتہائی عمدگی سے کام کیا اور پاکستان اور جاپان کے درمیان تجارتی روابط کو فروغ اور مستحکم کرنے میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔وہ 2011 میں بننے والے پاکستان جاپان بزنس فورم کے بانی اراکین میں شامل تھے ۔انہوں نے PAAPAM . .پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچرز کی تشکیل کے بعد جاپانی سرمایہ کاری کمپنیوں کے لیے ماحول کو سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا جس کے بعد بہت سی جاپان کی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنا کام شروع کیا اور تجارتی تعلقات کو فروغ ملا

رپورٹ محمد وحید جنگ جیوے پاکستان ڈاٹ کام