اڑن طشتریاں زمین پر ۔۔۔۔فوٹیج جاری۔ ۔۔اہم انکشافات

سرد جنگ کے زمانے میں اچانک امریکہ اور یورپ میں لوگوں کو آسمان پر اڑن تشطریاں نظر آنے لگی تھیں اور یہ ان تشریح اس قدر اور لوگوں نے اتنی بار دیکھیں کہ ان پر باقاعدہ ادارے بنا کر تحقیقات شروع کردی گئی یہ وہی دور تھا جب کبھی سوویت یونین اور کبھی امریکہ خلا میں کبھی چاند اور کبھی مریخ پر جانے کی باتیں کرتے تھے سالوں انسان منتظر رہا یہ لمبوترے گنجے سر لمبی لمبی ٹانگیں یہ ماں سے ناک پتلے پتلے ہاتھ پیروں والی مخلوق کس دن سامنے آتی ہے اور ہمارے ہوش اڑ اتی ہے ۔

امریکہ نے 70 سے 90 کی دہائی تک تحقیق کی اور آخر تسلیم کرلیا کہ یہ سب کچھ فسانہ ہے ہزاروں لوگوں کے اجتماعی لاشعور کا حصہ ہے ۔
پاکستان کے سینئر اینکر اور تجزیہ نگار مبشرلقمان نے ان کشتیوں کے حوالے سے امریکہ کی جاری کردہ ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے دلچسپ حقائق اور اہم انکشافات کیے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اب پینٹاگون نے باضابطہ طور پر تین مختصر ویڈیوز جاری کردی ہیں جن میں نامعلوم فضائی اوبجیکٹ جن کی نشاندہی تو ہوگئی ہے لیکن پہچان نہیں ہو سکی ان کو اڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے

انہیں اس سے قبل ایک نجی کمپنی کے ذریعے جاری کیا گیا تھا ان ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ جب انفراریڈ کیمروں میں ریکارڈ کیا جا رہا تھا تو ایک پراسرار قسم کی چیز اڑن طشتری کی شکل کی طرح پرواز کر رہی تھی ویڈیوز میں دوسرا ممبر کہتا ہے کہ دیکھو کتنی تیزی سے یہ حرکت کر رہی ہے ۔ایک اور آواز قیاس آرائی کرتی ہے کہ یہ ڈرون ہوسکتا ہے اور اس سے قبل نیوی نے اس حوالے سے انکشاف بھی کیا تھا پینٹاگون نے اٹلانٹک کوسٹ کے حوالے سے آنے والی ویڈیوز پر بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان ویڈیوز کو باقاعدہ اور باضابطہ طور پر ریلیز کیا جارہا ہے امریکی گورے نے بتایا کہ جائزہ لینے کے بعد طے ہوا ہے کہ ان کلاسیفائیڈ ویڈیوز کو اب ریلیز کیا جائے گا جو کسی بھی قسم کی حساس معلومات اور صلاحیتوں کو ظاہر نہیں کرتی ۔

نامعلوم چیز کی تحقیق یا ممکنہ فوجی حملے کے حوالے سے اب گورے نے کسی بھی نئی تحقیق کوئی ضروری کر دیا ہے اور کہا ہے کہ بلاوجہ ڈالر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ۔

امریکی بحریہ کے پاس ایس او پی رہنما اصول موجود ہیں کہ جب انہیں یقین ہو جائے کہ انہوں نے کوئی اڑن طشتری دیکھی ہے تو وہ اس کے بارے میں رپورٹ کر سکتے ہیں نومبر 2017 سے لے کر مارچ 2018 کے دوران ۔اسٹارٹ اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز کے ذریعے کچھ ریلیز کیا گیا تھا جو کچھ نہ معلوم فضائی چیزوں کے حوالے سے تھا تب ایک پائلٹ جس نے 2004 میں ایک نامعلوم چیز کو دیکھا تھا سی این این کو 2017 میں بتا چکا ہے کہ وہ اس طرح حرکت کر رہی تھی لیکن وہ صحیح طریقے سے بیان نہیں کر سکتا کہ وہ کیا چیز تھی جب وہ قریب آئی تو جنوب کی طرف مزید تیزی سے حرکت کرنے لگیں اور محض دو سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں غائب ہوگئی اور اتنی اچانک کسی کہ بیان نہیں کیا جاسکتا آپ یوں سمجھ نہیں کہ ایک پنگ پونگ کی گیند کی طرح کی چیز ہے جو دیوار کو ہٹ کر کے دوسری طرف تیزی سے چلی جاتی ہے اور غائب ہو جاتی ہے ۔

مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ پینٹاگون نے اس ریکارڈنگ کا مطالعہ کیا اور 2007 میں ایک پروگرام شروع ہوا تھا جسے 2012 میں بند کر دیا گیا کیونکہ مزید کام کے لئے بہت سے فنڈز درکار تھے اس پروگرام کے سربراہ نے 2017 میں سی این این کو بتایا کہ بہت سے معمولی شواہد موجود ہیں ان کے مطابق یہ ایک طرح کے طیارے ہیں جن کے بارے میں امریکی آرمی اور ائیر فورس خاموش ہے یا کچھ نہیں جانتی اب امریکہ کو ہر حال میں ان پراسرار چیزوں کا سراغ لگانا ہوگا ۔
گزشتہ سال امریکی سینیٹرز نے امریکی پائلٹوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی تھی اور ایک سینیٹر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پائلٹوں کی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتے جب وہ بار بار بتا رہے ہیں کہ انہیں دوران پرواز کچھ نظر آتا ہے تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ چیز کوئی سبز غبارہ ہے یا کچھ اور ۔
امریکی بحریہ کے ایک پائلٹ نے بتایا کہ 2014 میں موسم گرما سے لے کر مارچ 2015 تک مشرقی ساحل پر نظر آتے رہے ہیں اور ایک بار ایسی کوئی چیز جہاز سے ٹکراتے ٹکراتے بچی ان طیاروں کی کوشش کے باوجود مزید معلومات نہیں مل سکیں ۔
مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ امریکی ریاست نویڈا اور ایریا51 فٹیون دنیا بھر میں مشہور ہیں اور یہاں کے بارے میں لوگوں کو کچھ نہیں پتا کہ یہاں کیا کچھ ہوتا ہے کافی عرصے تک یہ تاثر ہاں کے یہاں پر کوئی فوجی اڈہ ہے لیکن امریکہ انکار کرتا رہا پھر 2014 میں امریکہ نے مان لیا کہ ہاں یہاں فوجی اڈا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہاں کیا ہوتا ہے دنیا میں اس حوالے سے شک کیا جاتا رہا کہ یہاں خلائی مخلوق کا آنا جانا ہے یا امریکہ کا خلائی مخلوق سے رابطہ ہوچکا ہے یہ تہائی دشوار گزار علاقہ ہے صحرا ہے جہاں امریکی فوج کا کنٹرول ہے اور کسی کو آنے جانے کی اجازت نہیں امریکی میڈیا میں بتایا گیا کہ انیس سو سینتالیس میں ایک آرزو تشریح امریکہ میں گری تھی جسے ایریا فائیوون میں شفٹ کیا گیا انیس سو اناسی میں باب نامی شخص نے بتایا کہ اسے اڑن طشتری کے حوالے سے ایک مکینیکل کام سونپا گیا تھا ایک اور شخص نے بتایا کہ اسے انیس سو پچاس کی دہائی میں اڑن طشتری جیسی چیز کی مرمت کے کاموں کے لیے بلایا گیا تھا ۔
پروگرام کے آخر میں وہ چلا کمان نے کہا کہ اب یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ پر سرار طور پر نظر آنے والی چیزیں جن کے بارے میں مختلف پائلٹ ماضی میں بتاتے رہے ہیں لیکن اس وقت ان کی باتوں پر یقین نہیں کیا جاتا رہا یا اس وقت ایسا ذکر کرنے والوں کو پاگل کہہ کر معاملہ ڈال دیا جاتا تھا اب پتہ ہو گیا ہے کہ ایسی چیزیں اپنا وجود رکھتی ہیں اور اب آنے والے دنوں میں دیکھنا ہے کہ کب یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی خلائی مخلوق کا زمینی لوگوں سے رابطہ ہو چکا ہے ؟