پاکستان جاپان بزنس فورم کے نئے صدر کلیم فاروقی کو مبارکباد ۔پی جے بی ایف کی مزید ترقی کے لئے ان سے بہت توقعات وابستہ ہیں

پاکستان اور جاپان کے درمیان انڈسٹریل اور بزنس کمیونٹیز کے دوستانہ تعلقات اور بزنس کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے والا پاکستان جاپان بزنس فورم اب اپنے نئے سی ای او اور صدر کلیم فاروقی کی سربراہی میں نئے سنگ میل طے کرنے کے لیے تیار ہے ۔پاکستان جاپان بزنس کمیونٹی کو اس ادارے سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں

نئے صدر کلیم فاروقی کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر ملک بھر سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہوئے ہیں پاکستان کی سرکردہ نیوز ویب سائٹ جیوے پاکستان ڈاٹ کام بھی اپنی انتظامیہ اور قارئین کی جانب سے نئے صدر کلیم فاروقی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ وہ اپنے وسیع تجربے ذہانت قابلیت اور صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان جاپان بزنس فورم کو ترقی کی نئی منازل کی جانب لے جائیں گے ۔

یاد رہے کہ پاکستان جاپان بزنس فورم کمپنیز آرڈیننس 1984 پاکستان کے اندر سیکشن تھرٹی ٹو کے تحت قیام عمل میں آنے والا ایک ادارہ ہے اس ادارے نے سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے باقاعدہ رجسٹریشن حاصل کرکے اپنا کام کا آغاز کیا ۔اس ادارے کے قیام کا باقاعدہ اعلان چھ فروری 2001 کو کیا گیا اس موقع پر پاکستان اور جاپان کے درمیان بزنس کے فروغ کے لیے کام کرنے والی سرکردہ شخصیات موجود تھیں اس ادارے کے 135 ممبر کمپنیاں ہیں اس کے قیام کا باقاعدہ اعلان کراچی میں جاپان کے قونصل جنرل کی رہائش گاہ پر کیا گیا تھا اور اس تقریب میں اس وقت کے گورنر سندھ محمد میاں سومرو اور وفاقی وزیر برائے کامرس عبدالرزاق داود وفاقی وزیر برائے قانون شاہدہ جمیل اور جاپان کے اس وقت پاکستان میں سفیر مسٹر سادہ کی نو ماتا اور پاکستان جاپان بزنس کوآپریشن کمیٹی کے چیئرمین اکیرا وتاری اور جاپان کے قونصل جنرل مسٹر کازوں می ڈیکیبا سمیت متعدد نامور شخصیات موجود تھیں ۔
کلیم فاروقی سے پہلے اس بہترین فورم کی سربراہی مسٹر سہیل احمد کر رہے تھے اور ان کے دور میں کلیم فاروقی نے وائس چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں ۔اب کلیم فاروقی نے اس بزنس فورم کی سربراہی سنبھال لی ہے اور توقع ہے کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے اور پاکستان جاپان کے درمیان بزنس تعلقات اور اعتماد اور دوستانہ تعلقات مزید بہتر مضبوط اور مستحکم ہوں گے اور ان کی سربراہی میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے اثرات دور رس اور مثبت ہوں گے ۔

رپورٹ محمد وحید جنگ جیوے پاکستان ڈاٹ کام