سماجی کاموں کا جذبہ والدین کی وجہ سے پیدا ہوا ۔فلاحی شعبے میں عبدالستار ایدھی کی شخصیت سے متاثر ہو ں۔ ینگ سوشل ورکر شہریار عاطف

اللہ تعالی کے کرم سے پاکستان رمضان المبارک کے مہینے میں وجود میں آیا اور اللہ تعالی نے پاکستان کو ایسے بے شمار فرزند عطا کئے ہیں جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کیلئے جیتے ہیں اور معاشرے میں روشن مثال بنتے ہیں اللہ تعالی نے پاکستان کو عبدالستار ایدھی جیسے ہیرے بھی عطا کیے ۔آج وہ تو دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کی شخصیت ہمارے نوجوانوں کو سماجی خدمت کے حوالے سے ایک راستہ دکھا گئی ہے جس پر بہت سے لوگ آگے بڑھ رہے ہیں اللہ تعالی ایسے لوگوں کی مدد فرماتا ہے ۔

اسی راستے پر گامزن پاکستان کے ایک ینگ سوشل ورکر شہریار عاطف ہیں جنہوں نے کرونا وائرس پھیلنے کے بعد مختلف علاقوں میں جا کر ناصرف لوگوں تک راشن پہنچایا بلکہ پکا ہوا کھانا بھی لے کر گئے اس کے علاوہ فیس ماسک ہینڈ واش سینیٹا یزر بھی تقسیم کیے ان کی پوری کوشش رہی ہے کہ ضرورت مند اور مستحق لوگوں تک پہنچا جائے اور ان کو ریلیف پہنچایا جائے چھوٹی سی عمر میں اتنا بڑا جذبہ کہاں سے ملا اس حوالے سے شہریار عاطف نے جیوے پاکستان کو بتایا کہ سماجی کاموں کا جذبہ والدین کی وجہ سے بیدار ہوا ہے میرے دادا اور میرے والد دونوں ہی میرے لیے سماجی کاموں کے حوالے سے آئیڈیل بنے انہیں سماجی خدمت کے کام کرتے ہوئے دیکھا اور یہ جذبہ میرے اندر بھی پروان چڑھ گیا جبکہ فلاحی کاموں میں مجھے عبدالستار ایدھی کی شخصیت نے بے حد متاثر کیا اور میں ان کے نقشے قدم پر چلنا چاہتا ہوں شہریار عاطف نے کہا کہ اگر ہر شہر اور ہر علاقے میں لوگ اپنے اپنے گلی محلوں کا خیال کرتے ہوئے ضرورت مند اور مستحق لوگوں کی مدد کا بیڑا خود اٹھا لیں تو یہ کام بہت آسانی سے اور عمدگی سے ہوسکتا ہے کیونکہ اپنے علاقے کے بارے میں سب سے زیادہ معلومات مقامی لوگوں کو ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اللہ کے کرم سے سماجی خدمت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں کی کوئی کمی نہیں ہیں اور ایسے بھلائی کے کام کرکے لوگ روحانی اور قلبی سکون محسوس کرتے ہیں ۔مجھے بھی سماجی بھلائی کے کام کرکے بہت اچھا لگتا ہے

رپورٹ صہیب سالک