کیا آپ بھی اس شخص سے اتنی نفرت کرتے ہیں جتنی میں ؟

میں نے اپنی زندگی میں کم ایسے مکروہ لوگ دیکھے ہیں جتنا نریندر مودی ہے اور آجکل وہ جو کچھ کر رہا ہے اس پر سوائے نفرت کے اور کیا کیا جا سکتا ہے حالانکہ میں ان لوگوں میں سے ہو جو نفرت نہیں کرتا لیکن مودی روز ہر روز کوئی ایسا کام ضرور کر دیتا ہے کہ میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ کیا کروں۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان کے سینئر اینکر اور تجزیہ کار مبشر لقمان نے کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ بھارت اچھا خاصہ سیکولرملک مانا جاتا تھا لیکن جب سے مودی آئے ہیں صورتحال بدل گئی ہے اقلیتوں پر حملوں کے حوالے سے اب بھارت خطرناک ترین ملک ہے آپ خود سوچیں رمضان کا بابرکت مہینہ ہے جب ہمارے ملک میں کسی اقلیت کا کوئی مذہبی تہوار یا احمد آتا ہے تو ہم اسے چھٹی دیتے ہیں ریلیف دیتے ہیں تاکہ وہ خوشی منا سکے لیکن بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی جو صورتحال بنا رکھی ہے اور رمضان میں بھی مظالم ڈھا رہی ہے یہ انتہائی افسوسناک شرمناک صورت حال ہے ایل او سی پر بہت دباؤ ہے حالات خراب ہیں یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ پاک فوج کی وجہ سے عوام گھروں پر سکون سے بیٹھے ہیں اگر آپ فرض کریں کہ فوج نہ ہوتی تو یہ مودی جیسا پاگل آدمی کیا کرتا ایل او سی پر کیا کر رہا ہے بیگناہ لوگوں کو مار رہا ہے مودی کی پوری کوشش ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کسی طرح لمیٹڈ وار ہو جائے لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ خدانخواستہ خدانخواستہ اگر یہ جنگ چھڑگئی تو پھر یہ محدود پیمانے پر نہیں رہے گی پتا نہیں کیوں کچھ ملکوں میں ایسے حکمران آ جاتے ہیں جو اپنی کارکردگی اور نااہلی کو چھپانے کے لیے جنگ کرنے تک تیار ہو جاتے ہیں


اس وقت بھارت کا جی ڈی پی گرنا شروع ہو گیا ہے گروتھ ریٹ ڈیڑھ فیصد پر آ گیا ہے اگلے چھ مہینے میں آٹھ سے دس کروڑ لوگ اپنی نوکریوں سے فارغ ہونے والے ہیں انڈیا کی آبادی بہت زیادہ ہے وسائل کم ہیں مودی سرکار پریشان ہے یہ بہترین وقت ہے کہ پاکستان سفارتی جنگ میں تیزی لائے اور دنیا کو بتائے کہ یہ ہٹلر نما فاشسٹ آدمی مودی کیا کیا مظالم ڈھا رہا ہے دنیا کو بتانے کا یہی وقت ہے