مسلم لیگ نون اور مریم نے کہا تھا کہ عاصم باجوہ اب صرف بندوق صاف کریں گے ۔وقت بدل گیا ۔باجوہ صاحب کی واپسی پر اب وہ پریشان ہیں

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی جگہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی آمد پر مسلم لیگ نون اور اس کی قیادت کیوں پریشان ہے اور سوشل میڈیا پر ایک شور کیوں بچایا جا رہا ہے ۔کیا واقعی عمران خان نے بہت سوچ سمجھ کر جنرل عاصم باجوہ کو اس کام کے لئے چنا ہے ۔کیا ایک تیر سے دو نشانے لگائے گئے ہیں ۔

اس حوالے سے پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار صابر شاکر کا کہنا ہے کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی ایک تاریخ ہے اس لئے شور مچایا جارہا ہے اول تو وہ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ بطور کرنل کام کرتے رہے پھر جنرل راحیل شریف کے ساتھ انھوں نے بہت قربت میں کام کیا ڈی جی آئی ایس پی آر کی حیثیت سے انہوں نے بہت شہرت حاصل کی اور جنرل راحیل شریف کا بےحد اعتماد حاصل رہا ۔ جب عمران خان اور طاہر القادری دھرنا لےکر اسلام آباد آگئے اور وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ نون کی حکومت کے لئے درد سر بن گئے تو وزیراعظم نے جنرل راحیل شریف سے درمیانی راستہ نکالنے کی درخواست کی جس کے بعد آرمی چیف سے طاہر القادری اور عمران خان کی ملاقات ہوئی ان ملاقاتوں کے لیے جنرل عاصم باجوہ ہی سرگرم تھے طاہرالقادری نے تو سیدھا سیدھا مطالبہ کیا کہ آپ کا تختہ الٹ دیں اور نواز شریف حکومت کو فارغ کریں لیکن جنرل راحیل شریف نے ان سے کہا کہ وہ جمہوریت کے ساتھ ہیں ۔ منتخب حکومت کے خلاف کوئی کام نہیں کریں گے البتہ آپ کی جو شکایت ہے ماڈل ٹاؤن لاہور کے حوالے سے ۔اس کی ایف آئی آر درج ہوجائے گی ۔جب کہ عمران خان سے کہا گیا تھا کہ اگر آپ کہتے ہیں تو شہباز شریف استعفی دیتے ہیں نواز شریف کی حکومت چلتی رہے گی لیکن عمران خان اس پر راضی نہیں تھے ۔

ادھر پارلیمنٹ میں وزیراعظم نوازشریف کیا ساتھ دینے والی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اے این پی اور محمود اچکزئی وغیرہ نے شور مچا دیا کہ فوج کیوں سیاست میں مداخلت کر رہی ہے اور کیوں عمران خان اور طاہرالقادری سے ملاقات کی گئی ہے ۔
وزیراعظم نواز شریف نے یہ تاثر دیا کہ یہ ملاقات ان کے کہنے پر نہیں ہوئی ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی حیثیت سے الیکشن جنرل عاصم باجوہ نے ایک ٹویٹ کر دیا جس کا مطلب یہ نکالا گیا کہ وزیراعظم جھوٹ بول رہے ہیں اس پر وزیر اعظم کا ساتھ دینے والی سیاسی جماعتوں کا ماتھا ٹھنکا کے نواز شریف نے ایک بار پھر ان کے ساتھ ہاتھ کر دیا ہے ۔

دوسری طرف شہباز شریف ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر درج ہونے کے واقعے پر نواز شریف اور مریم کے رویے پر حیران رہ گئے ۔

جب جنرل راحیل شریف ریٹائر ہوئے اور جنرل قمر جاوید باجوہ نئے آرمی چیف بنے تو آرمی میں ٹرانسفر پوسٹنگ ہونی تھی جنرل عاصم باجوہ کا بھی تبادلہ ہو گیا اور وہ ایک غیر معروف پوسٹنگ پر چلے گئے جس کے بعد مسلم لیگ نون اور مریم نے یہ کہا کہ اب جنرل باجوہ بندوں کی صاف کرتے رہیں گے ۔
بعد میں جنرل عاصم سلیم باجوا کور کمانڈر کوئٹہ بنے اور پھر وہاں سے ریٹائر ہوگئے اور اب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بن کر سامنے آگئے ہیں ۔
صابر شاکر کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر مسلم لیگ نون کی جانب سے جارحانہ رویہ اختیار کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فوجی افسر ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک سرکاری عہدہ نہیں سنبھال سکتا سیاست میں نہیں آسکتا ۔تو ایسی باتیں کرنے والوں کے لئے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی غیرقانونی کام نہیں ہوا سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق ہوا ہے جس طرح وزیراعظم نواز شریف نے کور کمانڈر کوئٹہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل جنجوعہ کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کردیا تھا اسی طرح اب وزیراعظم عمران خان نے جنرل عاصم باجوہ کو معاون خصوصی مقرر کیا ہے نواز شریف کے دور میں کیاگیا تقررنامہ بھی درست تھا اور عمران خان کا تو نام بھی درست ہے ۔
صابر شاکر کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون اور ان کے حامیوں کو اس لئے پریشانی ہو لاحق ہے کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے پاس اس دور کی کافی معلومات ہے اس دور میں مسلم لیگ نون کی جانب سے سوشل میڈیا گروپ بنایا گیا تھا جو کافی سارے کام کر رہا تھا جس کی معلومات جنرل عاصم باجوہ کے پاس ہے اس لیے اب ان کی پریشانی صاف ظاہر ہے ان کو پریشان ہونا بھی چاہیے عمران خان نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے اور جنرل عاصم باجوہ کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو کافی فائدہ ہو گا ۔یہ فیصلہ کافی سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے