فردوس عاشق اعوان کے سامنے چارج شیٹ رکھ کر اعظم خان اور شہزاد اکبر نے استعفی مانگا تھا ۔انکار پر تلخی ہوئی ۔وزیراعظم کو کیا بتایا گیا ؟

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے سے پہلے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے سامنے ایک چارج شیٹ رکھی تھی اور ان سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے استعفی کے مطالبہ کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے مستعفی ہونے سے صاف انکار کردیا

جس پر اعظم خان نے سنگین نتائج کے بارے میں مطلب کیا اور کہا کہ اگر آپ مستعفی نہ ہوئیں تو ہم آپ کو ڈی نوٹیفائی کردیں گے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا موقف تھا کہ جس اردو اخبار کے ایک کالم کو آپ چارج شیٹ بنا کر پیش کر رہے ہیں ایسا کالم تو کوئی آپ کے خلاف بھی لکھ سکتا ہے یہ کوئی جواز نہیں ہے کہ میں استعفی دو ں۔ دوسری بات یہ کہ میں ایک سیاستدان ہوں اور میرے بوس وزیراعظم ہیں آپ ایک بیوروکریٹ ہیں آپ مجھ سے استعفی نہیں مانگ سکتے جس پر اعظم خان نے کہا کہ میں آپ سے جو کہہ رہا ہوں وہ وزیراعظم پاکستان کے حکم پر کہہ رہا ہوں ۔اس موقع پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تلخی بڑھ گئی اور کچھ ایسے جملے بھی کہے گئے جنہیں دہرایا نہیں جا سکتا ۔بعد میں یہ رپورٹ وزیراعظم کو ملی وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے استعفی دینے سے انکار کر دیا ہے اور نازیبا جملے بھی کہے ہیں جس کے بعد وزیراعظم نے انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دیا وزیراعظم آفس نے حفظ ماتقدم کے طور پر ایک میڈیا رپورٹر کو ساری صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کے خلاف ٹی وی چینل پر خبر چلوائی تاکہ ڈاکٹر فردوس عاشق عوان فوری طور پر کوئی ٹی وی پر ایسی بات نہ کہہ دی جس کا حکومت پر منفی اثر پڑے ۔چنانچہ راؤٹر فردوس عاشق اعوان کے خلاف کرپشن کے الزامات اور ان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق خبر لیگ کی گئی اور دوسری طرف ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو پارٹی کی طرف سے ہدایت کی گئی کہ وہ کوئی اسی ردعمل کا اظہار نہ کریں بعد میں وزیراعظم سے ان کی ملاقات ہوگی ۔
یہ اہم ترین انکشافات پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار رؤف کلاسرا نے کیے ہیں اور انہوں نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ ڈی نوٹیفائی ہونے سے دو دن پہلے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی وہ ملاقات بھی مشکل سے وقت ملنے کے بعد ہوسکی تھی اور وہ وقت بھی ملٹری سیکرٹری کے ذریعے ہی لیا گیا تھا اس ملاقات کے دوران ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اپنی وزارت اپنے اور اپنی مشکلات سے آگاہ کیا تھا اور وزیراعظم کو بتایا تھا کہ میرے خلاف آپ کے دفتر کو استعمال کیا جا رہا ہے اپوزیشن کا نشانہ بھی میں ہوں حکومت پارٹی کے اندر سے بھی مجھے نشانہ بنایا جارہا ہے اور حکومت کا دفاع کرنے کا سارا بوجھ میرے کندھوں پر ہے جبکہ میرے اختیارات آپ کا آفس استعمال کر رہا ہے اس پر وزیراعظم عمران خان نے انہیں یقین دلایا تھا کہ معاملات ٹھیک ہوجائیں گے اعظم خان اچھے آدمی ہیں ان پر کام کا بوجھ ہے ہو سکتا ہے اس لیے آپ کو یہ تاثر ملا ہوں لیکن صورتحال بہتر ہوجائے گی وزیراعظم نے یقین دہانی کروا کر فردوس عاشق اعوان کو رخصت کر دیا تھا ۔بعد میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو اعظم خان کے آفس بلایا گیا جہاں شہزاد اکبر بھی موجود تھے ان کے سامنے ایک اردو اخبار میں چھپنے والے کالم کو رکھا گیا جس میں ان کے خلاف کرپشن کے الزامات تھے جس کے بعد ان سے استعفیٰ مانگ آگیا ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کالم کو مذاحقہ خیز قرار دے دیا اور کہا کہ ایسا کالم اور ایسی باتیں تو کوئی بھی آپ کے خلاف چھاپ سکتا ہے یہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں استعفی دو ں۔ اس موقع پر تلخی ہوگی اور کافی جملوں کا تبادلہ ہوا ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ میں وزیراعظم کو پہلے ہی بتا چکی ہوں کہ میرے اختیارات وزیراعظم آفس استعمال کر رہا ہے پی ٹی وی میں بھرتیاں ہو یا اشتہارات کا معاملہ مجھ پر الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں اور مجھ سے کوئی بیوروکریٹ استعفیٰ نہیں مانگ سکتا میں سیاستدان ہوں میرے باس وزیراعظم ہیں جس پر اعظم خان اور شہزاد اکبر نے انہیں بتایا کہ آپ سے استعفی وزیراعظم پاکستان کے حکم پر ہی مانگا جا رہا ہے اگر آپ استعفا نہیں دیں گی تو آپ کو نتائج بھگتنا پڑیں گے آپ کو ڈی نوٹیفائی بھی کیا جا سکتا ہے جس پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اگر آپ نے ڈی نوٹیفائی کرنا ہے تو اپنا شوق پورا کرلیں ۔
اس کے بعد یہ ساری صورتحال وزیراعظم کے علم میں لائیں گی اور انہیں پتہ نہیں کیا کیا بتایا گیا جس پر وزیراعظم نے فوری طور پر ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دے دیا ۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ نتائج بھگتنے کے حوالے سے جو بات کی گئی اس پر مجھے بھٹوصاحب اور ہنری کسنجر کا واقعہ یاد آگیا امریکہ کی جانب سے ہینری کسنجر نے بھی بھٹو کو دھمکی دی تھی کہ نتائج بھگتنا پڑیں گے ۔