2005 کے زلزلہ کے بعد یتیم اور بے سہارا بچیاں اُن کے پاس آ گئیں ایک گھر کرائے پر لیکر ’’اپنا گھر‘‘ بنا دیا

سال 2020ء کے بارے میں دنیا نے نجانے کیا کچھ سوچا ہوا تھا لیکن اس سال کا سورج طلوع ہوتے ہی اسے کورونا کی وبا نے ایسا جکڑا کہ دنیا ہی بدل گئی اور وہ وہ کچھ ہو رہا ہے جس کے بارے میں کبھی کسی نے نہ سوچا تھا نہ دیکھا۔ اس وبا نے کاروباری زندگی کو تباہ کر دیا۔ اب تک یہ وائرس دو لاکھ سے زائد جانیں لے چکا، اکتیس لاکھ سے زیادہ افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے۔ اس وائرس نے امیر غریب سب کو بُرے طریقے سے جھنجھوڑ دیا، کروڑوں افراد اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، کاروبار تباہ ہو چکے، دکانیں، مارکٹیں بند۔ اس نے غربت کو بڑھا دیا، لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ایسے افراد جو اپنا کما کر کھاتے تھے، اُنہیں اس وائرس نے مانگنے پر مجبور کر دیا، بڑی تعداد میں سفید پوش اور مڈل یا لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے غریبوں کی صف میں کھڑے ہو چکے۔ نجانے آگے کیا ہو!!!

پاکستان جیسے ملک میں حالات اور بھی خراب ہیں۔ حکومت کے بس میں جو ہے وہ کر رہی ہے لیکن حکومتوں کے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ کورونا سے پیدا ہونے والے بھوک کے چیلنج سے نپٹ سکیں۔ ایسے میں اور ان حالات کے باوجود پاکستان میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے اور وہ کھل کر غریبوں، ضرورت مندوں کی امداد کر رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں فلاحی تنظیمیں دن رات ضرورت مندوں کو کھانے پینے کی اشیا فراہم کر رہی ہیں۔ ان حالات میں چونکہ سب کی فوری توجہ کورونا سے جنم لینے والی بھوک کو مٹانا ہے تو بہت سے فلاحی اداروں اور دینی درسگاہوں کو فنڈنگ کی شدید کمی کا مسئلہ درپیش ہے ۔ یتیم خانوں، مدرسوں، فلاحی طبی مراکز اور دوسرے انسانیت کی خدمت کے لیے بنائے گئے اداروں کو ہر سال خصوصاً رمضان المبارک کے دوران کافی امداد مل جاتی تھی لیکن اس سال کورونا سے پیدا شدہ حالات کی وجہ سے اس امداد میں کافی کمی کا سامنا ہے۔ کورونا سے جنم لینے والا بحران اگر غریب اور متوسط طبقہ کیلئے بالخصوص بہت بڑی آزمائش بن کر ابھرا ہے تو یہ وقت اُس طبقے کے لیے بھی آزمائش سے کم نہیں جنہیں اللہ نے نوازا ہوا ہے۔ صاحب ِاستطاعت افراد پر ہمارا دین یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ غربا، مساکین اور بے آسرائوں کی مدد کے لیے زکوٰۃ و صدقات دیں جس سے نہ صرف ایسا کرنے والے کے لیے آخرت میں بڑے اجر کا وعدہ ہے بلکہ دنیا میں اُن کے مال میں برکت ہوتی ہے اور یہ عمل زندگی میں آنے والے مصائب اور تکالیف سے تحفظ کا بھی ذریعہ بنتا ہے جس کی ہم سب کو اس وقت اشد ضرورت ہے۔

اسلام پیسے والوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں، جاننے والوں، ساتھ کام کرنے والوں اور ملازموں وغیرہ میں موجود مستحق افراد کی مدد کریں، غربا و مساکین کو کھانا کھلائیں، غلاموں کو آزاد کرائیں، مریضوں کا علاج اور یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھیں، اُن کی تعلیم و تربیت میں حصہ ڈالیں، پانی کی فراہمی، مسجد و مدرسہ کی تعمیر جیسے دوسرے بہت سے صدقہ جاریہ کے کاموں میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ہمارے ہاں ایک نہیں بہت سی مثالیں ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ عطا کیا اور اُس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ اللہ کے راستے میں پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ اسلام تو ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ اگر کسی کو مالی تنگی ہو تو وہ بھی جو توفیق ہو، صدقہ کرے چاہے ایک کھجور ہی، اللہ تعالیٰ اُس کے رزق میں کشادگی عطا فرمائے گا۔

رمضان المبارک کے پاک و بابرکت مہینہ میں صدقہ، زکوٰۃ اور خیرات دینے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم نماز روزہ کا بہترین اہتمام کرتے ہوئے اپنے اُن بہن بھائیوں، عزیزوں، رشتہ داروں، ہمسایوں، یتیموں اور مساکین کا ضرور خیال رکھیں جو مستحق ہیں۔ انفرادی طور پر مستحقین کی مدد کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد ایسے اداروں کو بھی زکوٰۃ و صدقہ دیں جو انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر ایک طرف الخدمت فائونڈیشن، اخوت، ایدھی، سیلانی، شوکت خانم، سویٹ ہوم وغیرہ جیسے بڑے فلاحی ادارے بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور کسی پبلیسٹی کے محتاج نہ ہونے کے باوجود اُنہیں ان حالات میں زیادہ سے زیادہ امداد کی ضرورت ہے تو وہیں ملک بھر میں انسانیت کی فلاح کے لیے ایسے بہت سے چھوٹے پروجیکٹس بھی چل رہے ہیں جن کو عام دنوں میں بھی تعارف کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی مالی ضروریات کو پورا کر سکیں۔

منو بھائی مرحوم کے حوالے سے جانی جانے والی سندس فائونڈیشن جو تھیلیسیما اور ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا بچوں کا فری علاج کرتی ہے، بھی ایک جانا پہچانا فلاحی ادارہ ہے لیکن گزشتہ روز اسی فائونڈیشن سے منسلک ہمارے ایک صحافی دوست کا فون آیا، کہنے لگے کہ اس ادارہ کو بھی اپنا کام جاری رکھنے کے لیے امداد کی اشد ضروررت ہے۔ میری قارئین کرام سے گزارش ہے کہ جن کو اللہ نے توفیق دی ہے، وہ سندس فائونڈیشن کی کھل کر امداد کریں۔

گزشتہ سال میں نے اپنے کالم کے ذریعے ہی ڈاکٹر خلیل الرحمٰن جو خودنیفرالوجسٹ ہیں اور کافی عرصہ سعودی عرب میں رہنے کے بعد اب اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں، کی تنظیم کا تعارف کروایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اور اُن کے ساتھیوں نے جدہ میں2005 ء کے زلزلہ کے بعد پاکستانی کمیونٹی کی مدد کے لیے وہاں ایک پاکستان ویلفیئر سوسائٹی قائم کی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے آئیڈیا پر اس سوسائٹی نے ایبٹ آباد حویلیاں میں ایک کڈنی سنٹر بنانے کا فیصلہ کیا جہاں غریب لوگوں کو مفت ڈائلیسز کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ 2012ء میں اس پروجیکٹ پر کام شروع ہوا اور 2015ء میں پاکستان کڈنی سنٹر ایبٹ آباد کی بلڈنگ مکمل ہوئی جہاں اس وقت پندرہ ڈائلیسز مشینوں کیساتھ ساتھ، لیبارٹری اور فارمیسی بھی قائم ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق یہاں تقریباً 70فیصد مریضوں کا مفت ڈائلیسز کیا جاتا ہے۔ اس سنٹر نے ایک موبائل یونٹ کا بھی آغاز کیا ہے جو دیہی علاقوں میں جاکر لوگوں کی اسکریننگ کرکے کڈنی کے مرض کی تشخیص اور اسٹیج کا تعین کرنے کیساتھ ساتھ متعلقہ بیماریوں کا بھی پتا لگاتا ہے۔ چند دن قبل ڈاکٹر صاحب کا پیغام ملا کہ ہر سال وہ سعودی عرب فنڈ ریزنگ کے لیے جاتے تھے لیکن اس سال کورونا وائرس کی بندشوں کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے اُن کے ادارہ کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے افراد جو ڈاکٹر صاحب کے ادارہ کی مدد کرنا چاہیں وہ ان سے موبائل نمبر 03005598569پر رابطہ کر سکتے ہیں جبکہ پاکستان ویلفیئر سوسائٹی ٹرسٹ جس کے زیر نگرانی یہ کڈنی سنٹر چلایا جا رہا ہے، کا اکائونٹ نمبر 0010019963110010ہے

swift code: ABPAKKISL, Allied Bank of Pakistan, G-10Markaz Branch (0750) Islamabad۔

اس طرح اسلام آباد کے علاقہ گولڑہ میں یتیم بچیوں کے لیے قائم ’’ہمارا گھر‘‘ بھی مخیر حضرات کی امداد کا منتظر ہے۔ بے سہارا اور یتیم بچیوں کی دیکھ بھال کے لیے قائم’’ہمارا گھر‘‘ کے منتظم طارق ستی اور اُن کی اہلیہ نے 2005ء کے زلزلہ کے بعدبچ جانے والی تین یتیم بچیوں کو اپنے گھر میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ بعد میں ایسی اور بھی یتیم اور بے سہارا بچیاں اُن کے پاس آ گئیں کیونکہ اُن کا خیال رکھنے والا کوئی نہ تھا۔ جب بچیاں زیادہ ہونے لگیں تو علاقہ میں ایک گھر کرائے پر لیکر ’’اپنا گھر‘‘ بنا دیا گیا اور اب طارق صاحب اور اُن کی اہلیہ ماشاء اللہ اسّی تیم بچیوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے یتیم بچیوں کو اپنے عزیز رشتہ داروں کے پاس بجھوا دیا گیا ہے تاکہ وائرس سے اُن کو بچایا جا سکے لیکن ایسا کرتے ہوئے متعلقہ رشتہ دار کی فیملی کے لیے راشن بھی بجھوایا جا رہا ہے کیونکہ اکثر رشتہ دار غریب ہیں۔ امداد دینے یا اپنی تسلی کے لیے طارق ستی صاحب سے اُن کے موبائل نمبر 03217928888پر رابطہ کر لیں۔ ہمارا گھر ویلفیئر ٹرسٹ کا اکائونٹ نمبر

0010078692110019, Branch code 1055, IBAN # PK15ABPA0010078692110019, Allied Bank Ltd D-12 Markaz, Islamabad ہے۔

Ansaar-Abbasi-Jang