ڈاکٹر صاحبہ نے جانا ہی تھا-شاہزیب خانزادہ کے دو پروگراموں میں آئیں، دونوں مرتبہ خود فون کر کے

فردوس عاشق گئیں، شبلی فراز، جنرل عاصم باجوہ آگئے، ڈاکٹر صاحبہ نے جانا ہی تھا، ان کا الیکشن ہار کر مشیرِ اطلاعات بن جانا، کسی کو نہ ہضم ہوا، ان کے آتے ہی ان کے جانے کی باتیں ہونے لگیں، تین دفعہ جاتے جاتے بچیں، ایک دفعہ آخری لمحوں میں خود کو بچا گئیں، دو دفعہ ان کی جگہ آنے والے آخری لمحوں میں رد ہو گئے، یہ مشیرِ اطلاعات کیسے بن گئیں،

چند ہفتے پہلے جو عمران خان سے ون ٹو ون ملنے کیلئے سفارشیں ڈھونڈ رہی ہوں، وہ اچانک عمران خان کی مشیر لگ جائیں، وہ بھی اطلاعات کی، وہ بھی فواد چوہدری کی جگہ، مقتدر حلقے ان کے لانے سے مسلسل انکاری رہے، وزیراعظم لائے نہیں، ہاں بنی گالا ہاؤس کی پسندیدگی ضرور تھی مگر 3چار ماہ بعد یہ پسندیدگی بھی نہ رہی، ڈاکٹر صاحبہ اپنی قسمت، زبان، حالات کے زور پر ایک سال گزار گئیں، پی ٹی آئی نے انہیں کبھی

ownنہ کیا، کابینہ کو انہوں نے اپنی شبانہ روز محنت سے اپنے خلاف کیا، میڈیا میں کتنی مقبول تھیں، ذرا حامد میر، کاشف عباسی، کامران شاہد، شاہزیب خانزادہ سمیت اہم پروگراموں کا گزرے ایک سال کا ریکارڈ دیکھ لیں، کتنی بار ان پروگراموں میں بلائی گئیں، شاہزیب خانزادہ کے دو پروگراموں میں آئیں، دونوں مرتبہ خود فون کر کے۔

بلاشبہ یہ اک حقیقت، جب سیل مین کے پاس بیچنے کیلئے ہی کچھ نہ ہو یا پروڈکٹ ہی غیر معیاری ہو تو وہ کیا بیچے، اوپر سے جب وزیراعظم خود کہہ رہا ہو کہ میڈیا جھوٹا، میڈیا نیگٹیو، میڈیا میں مافیا کا راج، میڈیا کرپشن چھپانے، کرپٹوں کا ساتھ نبھانے میں لگا ہوا، جب وزیراعظم خود ہی کہہ رہا ہو کہ الیکٹرونک، پرنٹ میڈیا کا دور گزر گیا، کرنٹ افیئرز کے پروگرام بے کار، نتیجہ لیس، لہٰذا اخبار پڑھیں نہ ٹی وی دیکھیں، تب مشیرِ اطلاعات میڈیا میں کیا تیر چلاتیں، لیکن ان کے پاس دو آپشن ضرور تھے، حکومت، میڈیا میں صلح کی کوششیں کرتیں، یا شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بن کر لڑائی کا حصہ بن جاتیں، ڈاکٹر صاحبہ نے دوسرا آپشن چنا، جلتی پر پانی ڈالنے کے بجائے جلتی پر تیل ڈالا، وہ میڈیا سے لڑیں، حکومت کو لڑوایا بھی، میڈیا کے حوالے سے وہ عمران خان کو کیا تجاویز دیا کرتیں، کن کن کی کیا کیا شکایتیں لگاتیں، میڈیا کی مشکیں کسنے کے کیا کیا مزیدار مشورے وزیراعظم کو دیتیں، یہ پھر سہی۔

مشرف، زرداری کے بعد عمران خان کی ترجمانیاں، وہ پہلے دن سے جعلی جعلی سی لگیں، بات جچی نہیں، وہ فارغ ہو چکیں، لیکن ان کے فارغ ہونے پرکیکڑا ذہنیتوں، بچھو خصلتوں، مکھی نما لوگ جو الزامات لگا رہے، وہ افسوسناک، مبینہ طور پر ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کی پارٹنر ہونا، اشتہاری ایجنسیوں کے فرنٹ مینوں کے ذریعے کمیشن الزام، زیادہ سرکاری گاڑیوں، نوکروں کا استعمال الزام، مبینہ طور پر اپنی وزارت کے اعلیٰ افسر سے کہنا، میرے کچن کا خرچہ اٹھائیں،

ان سب الزامات کو اکٹھا کرکے جمع کریں تو ان کی مالیت بنے 5چھ کروڑ، اب اگر پانچ چھ کروڑ کے الزامات پر ڈاکٹر صاحبہ کو نکالا گیا تو پھر رزاق داؤد، ندیم بابر، خسرو بختیار، ابھی تک عہدوں پر کیوں، ان پر تو مبینہ طور پر اربوں کے الزامات، کہاں پانچ چھ کروڑ کی ڈری، سہمی ہیرا پھیریاں، کہاں دن دہاڑے اربوں کے ڈاکے، لہٰذا ہٹانے کی وجہ کرپشن الزامات نہیں، دوسری وجہ یہ بتائی جا رہی کہ ان کی کارکردگی ٹھیک نہیں تھی، بلاشبہ ڈاکٹر صاحبہ کی ایک سالہ کارکردگی بتائے وہ ناکام ترین ترجمان، مگر 24کلومیٹر اسلام آباد کے وزیراعظم عمران خان کے 50وزیر، ایڈوائزر، معاونین، کتنوں کی کارکردگی تسلی بخش، کئی شیر جوان تو ایسے جن کا ابھی تک یہی پتا نہیں چلا کہ وہ کرنے کیا آئے تھے، وہ کر کیا رہے، اور تو اور بہت ساروں کے تو ناموں کا بھی کسی کو علم نہیں، لہٰذا ہٹانے کی وجہ کارکردگی نہیں، پھر کیوں ہٹائی گئیں، بات یہ، ان کے آنے کے تیسرے مہینے بعد ہی سب نے پچھتانا شروع کر دیا تھا، اوپر سے پی ٹی آئی، کابینہ، مقتدرہ ، میڈیا، کارکردگی، سب کچھ خلاف، انہیں جانا ہی تھا، مجھے حیرت، وہ سال کیسے نکال گئیں، ہاں جانے کی ایک وجہ اور بھی، وہ آگے چل کر بتاتا ہوں۔

اب آ جائیے، شبلی فراز اور جنرل عاصم باجوہ پر، شبلی فراز کا وزیر اطلاعات بننا اچھا فیصلہ، وہ اصلی پی ٹی آئی والے، تبدیلی کے اصل ترجمان لگیں گے، مگر وہ روایتی پٹھان، غصیلے مزاج کے، وزیر کیسے ثابت ہوتے ہیں، یہ وقت بتائے گا، حضرت علیؓ کا قول، اقتدار، اختیار، دولت ملنے کے بعد انسان بدلتا نہیں بے نقاب ہو جاتاہے، لہٰذا سوال یہ، وزیر بننے کے بعد جب نقاب ہٹے گا تو کیا اندر سے وہی شبلی فراز نکلیں گے جنہیں ہم سب جانتے ہیں، جہاں تک جنرل عاصم باجوہ کی تقرری، یہ آؤٹ آف سمجھ، سی پیک اتھارٹی کا سربراہ مشیرِ اطلاعات بھی، جنرل عاصم پیچھے رہ کر کام کرنے والے، بیک ڈور ڈپلومیسی کے ماہر، ان کی تقرری کے ساتھ ہی مخالفتیں بھی شروع ہو چکیں، مجھے یہ فیصلہ کمزور لگے، باقی سب کچھ وقت بتا دے گا، ہاں ان کی مشیرِ اطلاعات لگنے کی کہانی بڑی مزیدار، یہ پھر سہی۔

اب وہ بات، جو ڈاکٹر صاحبہ کی چھٹی کی ایک وجہ بنی، جن لوگوں نے پنجاب کی کشتیاں دیکھی ہوئیں، جو پنجاب کی دنگل بازی سے واقف، وہ ضرور جانتے ہوں گے کہ کشتی میں ایک داؤ ’گاں مروڑا‘ ہوتا ہے، یہ دھوبی پٹڑے داؤ کا باپ، جس پہلوان کو یہ داؤ آتا ہے وہ کُشتی کے دوران اچانک مخالف پہلوان کی کمر کی طرف آئے، مخالف کی گردن میں ہاتھ ڈال کر یوں قلابازی کھائے کہ مخالف چاروں شانے چت، میرا کپتان اس ’گاں مروڑا‘ کا ماہر، کپتان اپنے پہلوانوں کی ایک حد تک کُشتی انجوائے کرے اور پھر ’گاں مروڑا‘، جیسے پرویز خٹک اور کے پی کی وزارتِ اعلیٰ، کپتان ’گاں مروڑا‘ اکبر ایس بابر، جسٹس وجیہ، حامد خان، کپتان گاں مروڑا، ناصر درانی سمیت پنجاب کے 5آئی جی، 4چیف سیکریٹری، کپتان گاں مروڑا، اسد عمر کی وزارتِ خزانہ، کپتان گاں مروڑا، عاطف خان، شہرام ترکئی، کپتان گاں مروڑا، جہانگیر ترین، کپتان گاں مروڑا، ڈاکٹر صاحبہ، کپتان گاں مروڑا، لہٰذا ایک وجہ یہ، میرے کپتان نے ڈاکٹر صاحبہ کی اتنی ہی کُشتی دیکھنا تھی، جونہی بوریت برداشت سے باہر ہوئی، میرے کپتان نے گاں مروڑا لگا دیا۔
Irshad-Bhatti-Jang