ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے لیڈیز فرسٹ کہانی نہیں پڑھی تھی

پیر کی دوپہر، جب یہ خبر سنی کہ فردوس عاشق اعوان کو معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے کیوں کہ اس پر مبینہ طور پر 10 فیصد رشوت لینے کا الزام سن کر وزیراعظم نے ان کو برخاست کردیا، حالانکہ ہم نے گزشتہ مہینے آٹے چینی کی رپورٹ پر سادہ خوشبو خامشی اور ایکشن نہ لینے کا قضیہ دیکھ لیا تھا۔ تو پاکستان میں جب وقت آجائے تو الزام رپورٹ سے بھاری ہوجاتے ہیں اور دوپہر ”زرد دوپہر“ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

سارا دن میں ایک بات پر محو حیرت رہا کہ جب عمران سرکار نے سینیٹر شبلی فراز کو اطلاعاتی وزارت کا مکمل قلمدان سونپا تو ایسے میں تمام ٹی وی چینل خصوصی مددگار چیئرمین سی پیک لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا نام پہلے کیوں بتانا چاہتے تھے، کیا یہ بات سارے چینلز سے ان کی پرانی دوستی کا مظہر تھی یا کوئی اور انسانی احساس۔ یا بے اختیاری میں میڈم کو بتانا چاہ رہے تھے کہ، اب آپ سے زیادہ مضبوط افسر آگئے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے اخیر میں دکھ کی خبر موجود تھی کہ، وزیراعظم نے کابینہ میں ردو بدل کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو ان کے عہدے سے ہٹادیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں اطلاعات کی وزارت میں یہ تیسری مرتبہ تبدیلی کی گئی ہے۔ پہلے وزیر کو چاند دیکھنے کا ”منیب“ بنایا گیا، پھر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو مقرر کیا گیا۔ کل اس بھاری شخصیت کے متوازی ایک وزارت دو مردوں کے سپرد کی گئی ہے۔

حالیہ وزیراعظم کی سابق معاون ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ سیالکوٹ سے تعلق رکھتی ہیں۔ سرحدی علاقے کے باسی ہونے کے ناتے وہ پاکستان کی شاندار محافظ ہیں۔ لیکن سیاسی ہونے کے ناتے وہ سرحدوں کا ہرچند خیال نہیں کرتیں۔ پار کرتی رہتی ہیں۔ کبھی ادھر تو کبھی ادھر۔ سیاست میں اس کو لوٹا کریسی کہتے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحبہ حسب ضرورت نظریہ ضرورت کی کشتی میں بھی سواری کرلیتی ہیں۔ وہ بے انتہا سنجیدہ اور بے حد مزاح پرست ہیں۔ کبھی کبھار سنجیدگی کو مزاح کی آلودگی سے خراب کردیتی ہیں، لیکن نیت کے مطابق وہ سنجیدہ ہی سمجھی جائیں۔

ایک دفعہ ان کے معاون نے ان کو کہا کہ آج انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی تشہیر کی جائے گی۔ 18 جنوری 2020 ع کا دن تھا۔ ایک ہسپتال سے گزر رہی تھیں۔ وہ رکیں۔ خون کی بیماری ’تھیلیسیمیا ”میں مبتلا بچوں کے لیے خون کا عطیہ اشرف نامی شخص نے دیا، لیکن ڈاکٹر صاحبہ ٹیبل پر لیٹ گئیں اور انہوں نے میڈیا کے سامنے تاثر دیا کہ خون کی بوتل انہوں نے دی ہے۔ دوسرے دن ڈاکٹر صاحبہ کا خون کی بوتل کے عطیہ کے ساتھ فوٹو دیکھا تو اس دن سے اشرف نامی شخص نے میڈیا اور ڈاکٹر صاحبہ پر اعتبار کرنا چھوڑ دیا۔

ایک دفعہ ایسا ہوا کہ کشمیر میں زلزلے کے جھٹکے آئے، 10 افراد جاں بحق ہوئے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے پریس سے بات کرتے ہوئے کہہ دیا: ’پاکستان میں جب کوئی تبدیلی آتی ہے تو نیچے (زمین میں ) بیتابی ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی کی نشانی ہے کہ زمین نے بھی کروٹ لی ہے کہ اس کو بھی اتنی جلدی یہ تبدیلی قبول نہیں ہے۔‘

اگرچہ انہوں نے یہ بیان مسکراتے ہوئے دیا تھا لیکن سوشل میڈیا صارفین کو معاونِ خصوصی کا یہ بیان نہایت برا لگا کیوں کہ اس بیان میں ”تبدیلی“ پر حملہ کیا گیا تھا۔

ایک بار ایسے بھی ہوا کہ انہوں نے ایک اور وفاقی وزیر غلام سرور خان کے ساتھ عدلیہ پر جملے کس دیے۔ توھین میں آئیں تو جھٹ پٹ معافی مانگ لی۔ اسی دوران میاں نواز شریف کو علاج کی سہولت پر بیان داغ دیا کہ : ”کاش عام آدمی کے لئے بھی عدالت لگے“ عدالت نے پرانی معافی قبول کرتے ہوئے ان پر توھین کا مجرمانہ مقدمہ داخل کردیا۔

لیڈیز فرسٹ:
اس اصطلاح کے بارے میں کئی ایک کہانیاں گھڑی جاتی ہیں۔

قدیم زمانے میں، جب غار کے باشندے باہر سے آوازیں سنتے تھے تو وہ عورتوں کو پہلے بھیجتے تھے تاکہ مرد ہونے کے ناتے وہ پیچھے سے ریچھوں اور جنگلی جانوروں پر حملہ کرسکیں۔ اور اگر جانور طاقتور ہو تو پہلے عورت کام آئے۔

اٹلی کی ایک کہانی میں دو پیار کرنے والوں کی شادی میں والدین نے انکار کیا تو جوڑے نے سمندر میں کود کر خودکشی کا فیصلہ کیا۔

مرد نے پہلے کودنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اپنی محبوبہ کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اور اس طرح، وہ پہلے سمندر میں کود گیا۔ اب اس عورت کی باری تھی، لیکن وہ وہاں کھڑی ہوگئی اور چھلانگ نہ لگانے کا فیصلہ کیا اور وہ گھر واپس لوٹ آئی۔

اسی طرح، 1912 ع میں ٹائٹینک حادثے میں 74 فیصدخواتین، 52 فیصد بچے بچائے گئے لیکن مرد صرف 20 فیصد ہی بچ سکے تھے۔

اس کے بعد مردوں نے ”لیڈیز فرسٹ“ کو ترجیح دے رکھی ہے۔

معطل برخاستگی اور مکمل آزادی:

ڈاکٹر صاحبہ کے ہٹائے جانے پر ”باخبر ذرائع“ زیادہ شورسے خبریں دے رہے ہیں۔ جس میں مندرجہ ذیل باتیں کہی جارہی ہیں :

1۔ معاون خصوصی کی جانب سے پیش کردہ حکومتی بیانیے سے اپوزیشن جماعتیں بھی خوش نہیں تھیں۔ بلکہ جہاں حکومت اپوزیشن کے ساتھ کچھ معاملات کو سیدھا کرتی تھیں، وہاں کچھ دیر بعد وہ ان معاملات کو پھر سے الجھا دیتی تھیں۔ جس کا نتیجہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ کی صورت نکلتا۔

2۔ تحریک انصاف کے اندر بھی لوگ فردوس عاشق کے لئے کوئی اچھا بیانیہ نہیں رکھتے تھے۔ پی ٹی آئی ارکان ان کو دوسری جماعت کی کھلاڑی اور کارکردگی کے لحاظ سے نا اہل سمجھتے تھے۔

3۔ جنوری اور فروری میں ہی فردوس عاشق اعوان کے جانے کی اطلاعات تھیں کورونا وائرس کے باعث ان کو رخصتی میں تھوڑا وقت مل گیا تھا۔ لیکن کورونا کی صورتحال کو بھی انہوں نے مذاق مین بدل دیا۔

اب ڈاکٹر صاحبہ کی منصب سے روانگی ہوچکی ہے۔ اب وہ سیاسی طور بھی آزاد ہوسکتی ہیں۔ لیکن پارٹیاں بدلنے سے عزت بھی بدل جاتی ہے۔ ان کو یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ آج کی حکومت غار میں بیٹھی حکومت ہے۔ پہلے عورت کو ہی باہر بھیجا جاتا ہے، حالانکہ، ان سے پہلے کئی مرد حضرات الزامات سے بھی آگے تک ثابت ہوچکے ہیں، لیکن ہمارے ہاں ”لیڈیز فرسٹ“ کا سکہ جاری ہے۔

Dr-Ayub-Shaikh-