اگلے مورچوں کے سپاہی رو کیوں رہے ہیں؟

جن کے سروں کے اوپر سفید جھنڈے لہرائے گئے، جن کو اگلے مورچوں اور محاذ کا سپاہی کہا گیا، جن کو قومی ہیرو کے لقب سے نواز کر شہر، شہر گاؤں، گاؤں سلامی دی گئی، جن کے اوپر گلابوں کی پتیاں نچھاور کر کے خراج پیش کیا گیا، جن کے لئے جنگی نغموں کی دھنوں پر گیت بنا کر ریڈیو و ٹی وی پر چلائے گئے۔ جن کے ایپران کی عظمت کو پہلی مرتبا قوم کی طرف سے مانا گیا۔ جن کے گھر والوں سے دور ہونے کا غم گھر، گھر میں گایا گیا۔

وہ ڈاکٹر، نرسیں اور باقی طبی عملہ اتنی عزت اور جوش و جذبے کی ٹوپیاں پہنانے کے باوجود آخر رو کیوں رہا ہے؟ شکایات اور آنسوؤں سے بھری پریس کانفرنسیں کیوں کر رہا ہے؟ کراچی، لاھور، پشاور، کوئٹہ اور تو اور پمز اسلام آباد کے ڈاکٹر بھی سہولیات نا ہونے اور روز بروز مریضوں کی بڑھتی تعداد پر بے بسی کا اپنی بھیگی آنکھوں سے اظہار کر چکے ہیں۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کا کہنا ہے کے سماجی فاصلے اور طبی تنھائی پر اگر سختی سے عمل نہ کیا گیا تو پھر وطن عزیز میں سفید کپڑے کی مزید دکانیں بھی کھولنی چاہئیں۔

دوران جنگ زندہ قوم کے سپاہی اس طرح سہولیات کی کمی کی شکایات تو نہیں کرتے۔ ڈاکٹروں کو حکومتی تیاری اور محنت شاید دکھائی نہیں دے رہی۔ میڈیکل اور سائنس کے پیروکار ڈاکٹر بھلے روتے رہیں، سسکیاں بھرتے رہیں ان کا ایمان کمزور ہے۔ ملکی وزیراعظم مولانا طارق جمیل سے دعائیں کروانے اور صدر ڈاکٹر عارف علوی تراویح نماز کہاں اور کیسے پڑھی جائے؟ متعلق مولویوں سے معاہدے کرنے اور پھر ان معاہدوں پر عملدرآمد کروانے میں مصروف ہیں۔

ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کو تو کورونا کا کوئی پتا نہیں چل رہا۔ بڑی محنتوں کے بعد وزیراعظم وبا کے اسباب جاننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ منتوں کے بعد مولانا راضی ہوئے ہیں اور قوم کو بتایا ہے کے وبا کے آنے کا سب سے بڑا سبب خدا کی ناراضگی ہے۔ اور ناراضگی کی وجہ بڑھتی بی حیائی ہے۔ بی حیائی عورتیں پھلا رہی ہیں۔ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا، ہمارا نیرو بانسری اور دیگر سازوں کے خلاف ہے تو اس لئے وہ مولانا سے دعائیں کروا رہا ہے۔ پھر بھی کہتے ہیں اہل چمن نیرو کیا کر رہا ہے؟ دوران دعا اگر کہیں مولانا میڈیا، عورت اور مل کر رقص کرنے والے نوجوان لڑکے لڑکیوں پر غصہ نکالتے ہیں تو دعا کے اس ناراضگی والے حصے سے وزیراعظم کا متفق ہونا ضروری تو نہیں۔

جن لیڈی ڈاکٹرز کو دکھ ہے کے حکومت درست احکامات نہیں کر رہی وہ اپنے گھر والوں سے معلوم کر لیں وزیراعظم اور صدر کوئی ایسا لمحا نہیں جب کسی مولانا یا مفتی سے رابطہ میں نا رہے ہوں۔ بی حیائی پھلانے والوں کے رونے سے تو کچھ ہونا نہیں، آنسو بھی قبول جن کے ہونے ہیں ان آنسوؤں کا وزیراعظم نے انتظام کیا ہوا ہے۔ تقریباً ہر ہفتے ایک بار آنسو خرچ کیے جاتے ہیں، اب انتظار ہے تو صرف قبولیت کی گھڑی کا ہے۔ جھوٹ اور فریب بھی وبا کی ایک وجہ ہے۔ وبا کے خاتمے کے لیے مسلسل سچ بولنے کا جو نسخہ ملا ہے اس پر بھی وفاق میں تو عمل جاری ہے مگر سندھ میں پ پ پ والے راشن تقسیم کرنے میں کرپشن کرکے خدا کو ناراض کر دیتے ہیں اور وزیراعظم کی بشمول وفاقی کابینہ ساری محنت رائیگاں چلی جاتی ہے اور پھر سے سچ بولنے کا چلا نئے سرے سے شروع ہوتا ہے۔

حال ہی میں جھوٹے میڈیا پر سچے مولانا سے نیلی چھتری والے کو راضی کرنے کے لیے دعا کروائی گئی ہے۔ اب ڈاکٹروں اور نرسوں کو صبر بھی آنی چاہیے۔ شعبہ صحت کا ضروری سامان تو امریکا، چائنا، جاپان اور کیوبا سے آ جائے گا مگر خدا تو کافر ممالک اور قومیں راضی نہیں کر سکتی نا۔ زندہ قوم کے ڈاکٹر اور ڈاکٹرانیاں ایسے رو رو کر دنیا میں قوم کو بدنام نا کریں۔ شان سلامت اس طرح تو نہیں رہتی۔ یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں۔ بس شان بچائے رکھنی ہے۔

مفتی منیب، مفتی تقی عثمانی اور مولانا طارق جمیل سے جو صدر، وزیراعظم اور دیگر لوگوں کی ملاقاتیں جاری ہیں وہ جلد اپنا رنگ دکھائیں گی۔ پردہ نا کرنے والی لیڈی ڈاکٹرز کم سے کم قوم کے شان اور بہادری کا پردہ تو چاک نا کریں۔ وبا کے دنوں میں ڈاکٹروں کو جنگی پیشہ وروں کے لقاب سے نوازا گیا ہے ان کو اگر اپنی ایپرن کی عزت پیاری نہیں تو کم سے کم جنگی پیشہ وروں کے لقاب کا تو خیال رکھیں۔

دنیاوی زندگی کی لالچ ویسے بھی اتنی اچھی نہیں ہوتی اور اس زندگی میں سکون ہوتا بھی کہاں ہے۔ اصل سکون تو قبر میں ہے۔ ڈاکٹروں کو کیا پتا حور کا قد کتنا ہوتا ہے۔ اس کی تھوک سے سمندر کیسے شھد ہو جاتے ہیں۔ اب ڈاکٹروں کو سمارٹ لوگوں کی سمارٹ حکومت کی طرف سے کیے گئے سمارٹ لاک ڈاؤن پر اعتراضات نہیں کرنے چاہئیں۔ دعا پر یقین رکھیں اور اس قوم کے جذبہ جنون پر یقین رکھیں یہ دن بھی گزر جائیں گے۔
Ashraf-Leghari