یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

تحریر: ملک رمضان اسراء

وطن عزیز آج تک اسی لیئے ترقی نہیں کرپایا کیونکہ ہم میں سے ایک طبقہ کچھ لوگوں کو مقدس گائے سمجھتا ہے، جن میں فوج، سیاستدان، اور مذہبی طبقہ وغیرہ میں چھپی کالی بھیڑیں شامل ہیں، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں، انکی غلط بات اور غلط کام کا دفاع کرنا ایسے لوگ اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میڈیا میں ایسی کالی بھیڑیں نہیں لیکن میں یہ بات بھی نہیں مانتا کہ آپ اچھے برے کی تمیز اور سچے و جھوٹے کا فرق کیئے بغیر یک مشت ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکنا شروع کردیں، ایسے لوگوں کی سوچ پر ہنسی آتی ہے جو اختلاف رائے کو دشمنی سمجھ کر اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ جیسے ہم میڈیا والے بلا خوف طاقتورترین لوگوں کا نام لیکر ان کے بارے میں بات کرتے ایسے شائد ہی کوئی کرتا ہو۔


گزشتہ روز ملیحہ ہاشمی نامی ایک خاتون نے انڈیپنڈنٹ اردو میں “مولانا طارق جمیل نے معافی کیوں مانگی؟” کے عنوان سے ایک تحریر لکھی جس میں موصوفہ نے یہ ظاہر کیا کہ جیسے مولانا طارق جمیل سے معافی منگوانے کیلئے ان کے سر پر کسی نے بندوق تان رکھی ہو؟ اس ملک میں ویسے تو ہر چیز حساس ہے، اور بہت سارے حساس معاملات پر بات کرنا جرم عظیم لیکن مذہبی طبقہ کی غلطیوں کی نشاندہی کرنا تو کفر کے مترادف ہے۔ لیکن حامد میر جیسے بہادر صحافی غداری اور گستاخی کے فتووں سے بلا خوف و خطر سچ بات کرنے سے نہیں ڈرتے۔ کیونکہ ان کیلئے صحافت پروفیشن نہیں بلکہ پیشن ہے۔

ملیحہ لکھتی ہیں کہ: “بعض عوامی حلقوں کی رائے کے مطابق مولانا نے جس معاشرتی بگاڑ کی نشاندہی کی ہے تو بالکل بجا ہے۔ آج کا شریف انسان محض اس لیے پس رہا ہے کہ وہ شریف اور ایمان دار ہے۔ جو لوگ جھوٹ، مکر اور رشوت سے غلط راستے ڈھونڈ کر مقتدر لوگوں سے ساز باز کر لیتے ہیں، وہ سائیکل سے ہوائی جہاز تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس میں مرد بھی شامل ہیں اور خواتین بھی۔”

’مولانا طارق جمیل سے یہ امید نہ تھی‘ | ملک رمضان اسراء
رمضان میں ملک بھر کیلئے یکساں لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا، وزیر داخلہ
اُٹھ میری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے | کیفی اعظمی
تو سب سے پہلے ملیحہ بی بی یہ بتائے کہ مقتدر یعنی حکمرانوں کی تو آپکے مولانا جھوٹی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رعایا جھوٹی و بے حیاء ہے بس واحد عمران خان ہی دیانت دار اور سچا انسان ہے ذرا پی ٹی آئی کی محبت سے باہر نکل چینی چوری، بی آر ٹی، اور پاکستان کو سرسبز بنانے والے منصوبوں کی کرپشن بھی دیکھ لیں۔ غریب سے لیکر امیر تک سب چیخ رہے اور تو اور اب تو عمران خان کے کرکٹر ساتھی شاہد آفریدی نے بھی کہہ دیا کہ عمران بھائی نے جو دعوے کیئے تھے وہ ان پر پورا نہیں اترے۔ اور یہی بات آپ کو ملک کے کونے کونے میں کیا بچہ، بوڑھا اور نوجوان سب کی زبان سے سننے کو ملے گی۔ لیکن یہ آوازیں درد دل رکھنے والوں کو ہی سنائی دیتی ہے۔ نہ کہ سچے کھرے صحافیوں کے خلاف جھوٹی، اور بےبنیاد ویڈیوز بناکر سستی شہرت حاصل کرنے والوں کو۔

دوسری بات آپ نے ہمیشہ عورت آزادی مارچ پر حملہ کیا اور اس بار بھی لگے ہاتھوں وار کرگئی تو ذرا یہ بتا دیں کہ کیا پاکستان میں عورتوں کے حقوق کا مسئلہ نہیں ہے؟ حصول تعلیم، خودمختاری، وغیرہ یا پھر آپ کے پسندیدہ ہنڈسم وزیراعظم کی مدینہ کی ریاست میں عورتوں پر مظالم ختم ہوگئے، روز بروز بچیوں کے ساتھ بڑھتے زیادتی کے کیسز، گھریلو تشدد سمیت متعدد دل خراش واقعات دیکھائی نہیں دیتے، اور کیا یہ کرونا وبا عورت آزادی مارچ کی گناہ گار خواتین کا نتیجہ ہے جو اسکی لپیٹ میں تبلیغی جماعت آگئی جو پرہیز گار اور متقی ہے۔ یہی مولوی حضرات ہمیں بتاتے ہیں کہ حکومتیں کفر کے ساتھ چل سکتی مگر ظلم کیساتھ نہیں، اور کفر سے مراد کیا یے؟ اور ہاں آپ تو میڈیا کو معاشرے کا فتنہ سمجھتی ہیں تو پھر خود کی شہرت کیلئے اس فتنہ کا استعمال یا حصہ کیوں بنتی ہیں؟

حامد میر وہ مرد جری صحافی ہے جنہوں نے عام پاکستانیوں کی خاطر تشدد سہا، گولیاں کھائیں، ہر قسم کی مشکلات برداشت کی حتکہ موت کے منہ میں جاکر بھی اپنی صحافتی جدوجہد جاری رکھی۔ ایسے میں جب میڈیا شدید مشکلات کا شکار ہو، اور کچھ میڈیا پرسنز سے متعلق موجودہ وزیر اعظم کی ماضی کی دھمکیاں سامنے ہوں۔ اور پھر ایک غیر سیاسی پروگرام میں مولانا طارق جمیل صاحب بغیر نام لیئے میڈیا اور رعایا کو جھوٹا و بےحیاء قرار دیں جبکہ رعایا کے بادشاہ کو سچا اور دیانت دار کہیں گے تو پھر سوال تو اٹھیں گے؟ کیونکہ یہی مولانا ہمیں یہ حدیث سناتے آئیں ہیں کہ “جیسی عوام ویسے حکمران یا جیسے اعمال ویسے حکمران” لیکن اس بار کیا عمران خان کے معاملے میں اللہ کا قانون بدل گیا یا انہوں نے ہمیں جو بتایا وہ جھوٹ تھا؟ یا پھر آج جھوٹ بول رہے؟

خیر مولانا طارق جمیل صاحب نے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے اپنا قد بڑھا دیا جو بہت اچھی بات ہے جو ہر کوئی نہیں کرتا۔ اور مولانا صاحب کو آئیندہ بھی چاہئے کہ حاکم وقت کے مظالم کیخلاف نہیں بول سکتے تو ان کے حق میں جھوٹی تعریفیں نہ کریں اور نا ہی میڈیا سے متعلق ایسا کہیں ہاں البتہ کسی میڈیا سے متعلق ان کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں تو نام لے کر بات کریں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے نام نہاد محب وطن اور برائے نام اسلام پسندوں کو بہت تکلیف ہورہی ہے کیونکہ مولانا صاحب اپنی غلطی پر ڈٹے نہیں، بلکہ سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعتراف جرم کرلیا۔ جسکے بعد معاملہ ختم ہوجانا چاہئے تھا پر کم عقل لوگوں نے اسے خود کی انا کا مسئلہ سمجھ کر حامد میر کے خلاف ایک کمپین شروع کی جوکہ نئی بات نہیں بلکہ ہر دو تین ہفتے بعد حامد میر اور ان جیسے جمہوریت پسندوں و حق بات کرنے والوں کے خلاف ایسی من گھڑت کمپین چلائی جاتی ہیں اور یہ کام وہ لوگ کرواتے ہیں جنکا اپوزیشن کے وقت حامد میر پسندیدہ صحافی ہوتا ہے لیکن جب ایسے لوگ حکومت میں آتے تو یہ محبت نفرت میں بدل جاتی ہے، اور یہی بات حامد میر جیسے صحافیوں کیلئے کھرے ہونے کی دلیل ہے کیونکہ وہ حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے خوشامد نہیں کرتے۔ بلکہ عللاعلان نام لے کر سچ بولتے ہیں اور وقت کے فرعون کیساتھ ٹکرا جاتے ہیں۔

حامد میر سے متعلق ایک سفید جھوٹ بہت سارے سوشل میڈیا کے پیڈ لوگ اکثر دہراتے ہیں اور وہ یہ کہ میر صاحب اجمل قصاب کے گاوں جاکر انہیں پاکستانی شہری بتایا تھا لیکن یہ کرایہ کے لوگ اس وقت کہاں تھے جب اس وقت کے مشیر قومی سلامتی جنرل محمد درانی نے سرکاری طور پر ممبئی حملہ میں ملوث گرفتار اجمل قصاب کا پاکستانی شہری ہونے کی تصدیق کی تھی۔ دراصل ان لوگوں کا حافطہ بہت کمزور ہے وزیراعظم عمران خان نے اپنی کتاب میں جس واحد صحافی کی جرات مندانہ صحافت کی تعریف کی اس کا نام حامد میر ہے۔

آخر میں سید صادق حسین کاظمی کا ایک شاعر جناب حامد میر کے نام۔

تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے