جو آئے تیرے بزم میں دیوانہ ہو جائے

جو آئے تیرے بزم میں دیوانہ ہو جائے۔۔۔

1993 میں میرے دوست عبدالرزاق شیخ مجھے سائین جی ایم سید اور اپنے کزن کا ایک قصہ سنا رہا تھا وہ کہنے لگا ایک مرتبہ میں اور میرے کزن حیدرآباد کسی کام سے آئے تھے واپسی پر راستے میں رات ہو چکی تھے سردیوں کی موسم تھی ہم اپنی کار میں واپس اپنے شہر میہڑ جا رہے تھے وہ بتا رہے تھے راستے میں ڈاکووّں کا خوف تھا سردی بھی کافی تھی ہم جب سن کے قریب پہنچنے والے تھے تو مجھے دل میں خیال آیا کے کیوں نہ رات سائین جی ایم سید کے پاس رات گذاریں یہ سوچ کر میں نے اپنے کزن کو کہا کے یار رات ہو گئی ہے سردی بھی ہے ایسا کرتے ہیں سن میں سائین کے پاس چلتے ہیں رات وہاں گذارتے ہیں صبح کو گاوّں کیلئے نکلیں گے میری یہ بات سنتے ہی وہ سائین جی اہم سید کو بد شد بولنے لگا اور کہنے لگا ان کے پاس بلکل بھی نہیں چلنا اور ہم میہڑ ہی چلیں گے عبدالرزاق نے بتایا میرا کزن جس طرح سیاسی مخالفین کی سنی سنائی باتوں پر سائین کیلئے غلط الفاظ نکال رہا تھا مجھے بڑی تکلیف ہو رہی تھی مگر سفر کی تھکاوٹ سردی اور ڈاکووّں کے خوف کی وجہ سے مجھے ہر صورت رات سن میں ہی گذارنی تھی اور میں نے جب دیکھا کے کزن زد کر رہا ہے تو میں نے انہیں ڈاکووّں کا خوف دیا اور کہا کے آپ جانتے بھی ہو حالات خراب ہیں ڈاکو کسی بھی وقت روڈ پر آ سکتے ہیں ویسے بھی ہم شیخ اور آپ کپڑے کے تاجر ہو اگر ڈاکووّں ہاتھ چڑھ گئے تو مصیبت میں آ جائیں گے یہ بات سن کر کزن سن چلنے کیلئے راضی ہو گئے اور ہم سن چلے گئے سائین کی اوطاق پر گئے سائین اپنے ساتھیوں مہمانوں کے ساتھ گفتگوں کر رہے تھے ہم دونوں سائین کے ساتھ جاکر ملے سائین نے فورن کھانے کا حکم دیا ہم سے خیر خیریت پوچھی پھر دسترخوان لگا ہم نے بہترین قسم کا کھانا کھایا جب ہم کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو سائین کے ملازم نے ہمیں اپنے بستر دکھائے جو دو چار پایوں پر خوبصورت رلیوں اور رضایوں سے سجائے گئے تھے اور کہا آپ آرام کریں ہم بھی تھکے ہوئے تھے تو اپنی چار پایوں پر سو گئے رزاق نے بتایا جب میں صبح سو ہی رہا تھا تو میرے کزن نے مجھے نیند سے جگایا میں سمجھا شاید دیر ہو گئی ہے واپس گاوّ چلنے کیلئے اتھا رہا ہے تو میں بھی اٹھ گیا میں جیسے ہی اٹھ کر چار پائی پر بیٹھا تو میرے نے کزن مجھے کہا رزاق آپ کا سائین تو اللہ کا ولی ہے یار سیاستدان ایسے کہاں ہوتے ہیں کزن کی یہ بات سن کر میں اس کی شکل کو گھورنے لگا اور کہا کیا ہوا رات کو تو آپ سائین کو بد شد بک رہا تھا جس پر انہونے کہا اس پر میں شرمندہ ہوں مجھے نہیں پتا تھا نہ کبھی ملا تھا میرا کزن کہنے لگا رزاق رات کو میری آنکھ کھلی تو دیکھا سائین میرے اوپر رضائی ڈال رہا ہے جو چار پائی سے زمین پر گر گئی تھی پھر دیکھا تو دوسرے مہمانوں پر رضائیاں ڈال رہا ہے یہ سچ میں اللہ کا ولی ہے تیار ہو جاوّ تو سائین کے ساتھ کچھ دیر باتیں کریں،
یہ تو میں نے اپنے دوست کا قصہ شیئر کیا بحیثیت صحافی میرا جو مشاہدہ ہے سیاست کا جو اصل اصول ہے یعنی عبادت اس پر جی ایم سید نے عمل کیا جو کہا اس پر ڈٹ گئے ڈر خوف لالچ اس فولادی شخصیت کو دور دور تک چھو نہ سکی وہ اپنی قوم سے اپنی دھرتی سے دیومالائی پیار کرتے تھے جو ذوالفقار علی بھٹو کا سخت سیاسی مخالف تھا مگر ان کی پھانسی پر ٹوٹ ٹوٹ کر رو پڑا یہ ایسا سیاستدان تھا جس کے فالوورز نوجوان تھے سب سے اہم بات کے میری نظر میں جی ایم سید سچے محب وطن پاکستانی تھے جسے زبردستی باغی کیا گیا نہیں تو سوچنے جیسی بات ہے جو بانیان پاکستان میں آگے آگے ہو وہ بھلا غدار کیسے ہو سکتا ہے اس کا فیصلا تاریخ ضرور کرے گی مگر صوفی منش ولیوں جیسا مزاج رکھنے والے جی ایم سید سے جب دشمن بھی ملا دوست بن گیا❤
جو آئے تیرے بزم میں دیوانہ ہو جائے
یہ کیسی پردہ داری تھی یہ کیسی رازداری تھی!
تحریر نیاز کھوکھر
#TributetosainGMsyed