بیرون ملک پھنسے پاکستانی شہریوں کے ساتھ کئے گئے احسان کا بدلہ یوں بھی چکایا جاتا ہے

بیرون ملک پھنسے پاکستانی شہریوں کے ساتھ کئے گئے احسان کا بدلہ یوں بھی چکایا جاتا ہے
ایک نیا ٹرینڈ شروع ہو چکا ہے۔

جب سے حکومت پاکستان نے بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوں کے لئے خصوصی پروازیں شروع کی ہیں کچھ عجیب و غریب ڈرامے شروع ہو چکے ہیں۔ جہاز میں بیٹھ کر ویڈیو بناتا ہے۔ ڈائیلاگ مارتا ہے۔ کرائے زیادہ ہونے پر شکوے کرتا ہے۔ سہولیات کا رونا روتا ہے۔ گھر جا کر سوشل میڈیا پر ویڈیو اپلوڈ کر کے پی آئی اے اور حکومت کی بدانتظامی اور زیادہ کرایوں کا رونا شروع کر کے سیلیبرٹی بننے کی کوشش کرتا ہے۔
اس کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والوں کو جب حکومت قرنطینہ سنٹر اور ہوٹل میں سے آپشن دیتی ہے تو یہ ہوٹل چن لیتے ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ قرنطینہ سینٹر میں حکومت کی طرف سے مفت ٹھہرنے اور کھانے پینے کی سہولت ہو گی جبکہ ہوٹل میں آپ خود خرچہ برداشت کریں گے۔ یہ نمونے اپنی مرضی سے ہوٹل چن کر بعد میں ویڈیو بنا کر کہتے ہیں کہ ہمیں حکومت نے ہوٹل میں ٹھہرا کر خرچہ ہمیں جیب سے ادا کرنے کا کہا ہے جو کہ زیادتی ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کرونا کی وجہ سے تمام نارمل پروازیں بند ہیں۔
جو لوگ بیرون ملک پھنسے ہوئے ہیں وہ یا تو سیاحت کے ویزے پر گئے ہیں یا کاروباری ویزے پر۔ اس کے علاوہ مستقل طور پر بیرون ملک نوکری یا کاروبار کرنے والے ایگزٹ اینٹری لگا کر پھنسے ہوئے ہیں۔ پروازوں کی بندش کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں یہ لوگ پھنس گئے تھے۔

حکومت پاکستان اور پی آئی اے نے ملکر ان پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو واپس لانے کا ایمرجنسی آپریشن شروع کیا۔ ظاہر سی بات ہیں یہ پروازیں ایک طرف سے خالی اور دوسری طرف سے کبھی 40, کبھی 100 اور شاید زیادہ مسافر لا رہی ہو جس کا مطلب کہ پرواز کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا ، پی آئی اے پہلے سے خسارے میں ہے لیکن اس کے باوجود یہ آپریشن کر رہی ہے۔ امیر ممالک کی حکومتیں تو مفت میں لا سکتی ہیں لیکن پاکستان جیسا ملک یہ افورڈ نہیں کر سکتا اس لئے پی آئی اے نارمل ٹکٹ میں تقریبا 3, 4 فیصد کا اضافہ کرتی ہے تاکہ پی آئی اے کے اس خصوصی آپریشن کا خرچہ تو نکلے، منافعے کا تو سوال ہی نہیں ۔ بجائے شکریہ ادا کرنے کے یہ نمونے کچھ پیسوں کے اضافے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

آپ بیرون ملک کام کرتے ہو یا سیر پر گئے ہو یا کاروبار کر رہے ہو اس کا مطلب آپ غریب نہیں ہو آپ کے پاس پیسہ ہے۔تو کیا ہوا اگر آپ نے خصوصی آپریشن کے لئے پی آئی اے کو کچھ ہزار زیادہ کرایہ دیا۔
خدانخواستہ آپ کی فضول شکایتوں سے حکومت پاکستان یہ آپریشن کینسل کر دے اور آپ سے کہہ دے کہ بھئی ہم آپ کو نہیں لا سکتے آپ کوئی سستی آئیر لائن ڈھونڈ لیں تو یقین مانو پی آئی آئی کے ٹکٹ سے تین گنا زیادہ قیمت میں بھی آپ نہیں آ سکتے۔
ہم بیرون ملک رہنے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر بیرون ملک فوتگی ہوتی ہے تو پی آئی اے مفت میں لاش اپنے پیاروں کے لئے لاتی ہے۔ کوئی ٹکٹ اور کوئی خرچہ نہیں لاتی۔ کسی دوسرے ائیر لائن میں اگر اپ لاش لانے کی کوشش کرو گے تو لاکھوں کی ٹکٹ بن جاتی ہے۔

ان پاکستانیوں کو یہ سہولت دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی جو گھر آکر سوشل میڈیا پر پی ائی اے اور حکومت پاکستان پر چند ہزار روپوں کے لئے تنقید کرتے ہیں۔ ان کے پاس ہر چیز کے لئے پیسہ ہوتا ہے لیکن اپنے ملک اور پی آئی اے کے لئے نہیں۔ اصل میں ہمیں ملکی اداروں کو مفت میں کھانے کا شوق ہے جو ختم ہی نہیں ہوتا۔