پاکستان نے دراندازی کے بے بنیاد بھارتی الزامات کو مسترد کر دیا : ترجمان دفتر خارجہ اسلام آباد

 پاکستان نے ’دراندازی کی کوششوں‘ کے بے بنیاد بھارتی الزامات اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار ’لانچنگ پیڈز‘ کونشانہ بنانے کے من گھڑت دعوؤں کو سختی سے مسترد کردیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان، بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بے بنیاد دعوے اور اشتعال انگیز بیانات کو بھی مسترد کرتا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ’ہم دشمن پر غالب آچکے ہیں‘۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت ان الزامات کو اپنے کسی ’فالس فلیگ‘ آپریشن کے بہانے کے طورپر استعمال کرنا چاہتا ہے جبکہ پاکستان مسلسل عالمی برادری کو اس سے متعلق باور اور بھارت پر زور دیتا آیا ہے کہ نئی دہلی ایسی کسی بھی حماقت کے ارتکاب سے گریز رہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل بھارتی جنگی جنون پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا چکا ہے۔
وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ صرف 2020 میں بھارت جنگ بندی کی 882 مرتبہ خلاف ورزی کرچکاہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں ایل او سی پر بے گناہ شہری آبادی کو جان بوجھ کر مسلسل نشانہ بنارہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال مزید پیچیدہ اور مشکل ہوگئی ہے، کشمیریوں کو علاج معالجے، ادویات اور دیگر ضروری اشیا تک رسائی ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے تنازع کے حوالے سے پاکستان کشمیری عوام کی اس وقت تک مکمل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا جب تک انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق خود ارادیت کا ناقابل تنسیخ حق مل نہیں جاتا۔