زمین کے فرشتے ۔۔۔۔ ایدھی صاحب بہت یاد آرہے ہیں

-تحریر: سہیل دانش-

سپہ سالار کو خبر دی گئی تو وہ آبدیدہ ہوگئے انہوں نے افسردہ لہجے میں کہا ، سچ مچ وہ ہمارے حقیقی ہیرو تھے انہوں نے کارناموں کی تاریخ رقم کردی پوری قوم ان کے احسانات کی مقروض ہے۔ آج وہ قرض اتارنے کا دن ہے انہیں شایان شان انداز سے رخصت کرنے کا وقت ہے۔ ہم ایسا ضرور کریں گے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایس او ایس پیغام ہر متعلقہ ادارے تک پہنچ چکا تھا۔ پھر اگلے دن صبح سب نے دیکھا کہ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ان کے جسد خاکی کو پورے قومی اور فوجی اعزاز کے ساتھ توپ گاڑی پر رکھ کر لایا گیا ۔ فوج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی دی۔ صدر مملکت سے لے کر تمام سیاسی قیادت اور جنرل راحیل سے لے کر تمام سروسز چیفس انہیں عقیدت اور احترام کے ساتھ اپنا آخری سلام پیش کررہے تھے۔


تین دھائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزرا ۔ سانحہ علی گڑہ کے بعد میں نے ایدھی صاحب کو لاشوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر ایمبولینس میں ڈالتے دیکھا یہ منظر فراموش نہیں کرسکتا گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ جب سورج کی شعاعیں تیر کی طرح جسم میں اتر رہی تھیں۔ پسینہ سانپ کی طرح سر سے تلوئوں تک رینگ رہا تھا۔ ان کے چہرے پر ٹھاٹھیں مارتا دکھ ضرور تھا لیکن سچ پوچھیں تو ایدھی صاحب اس وقت ہر زبان کی دعا اور ہر نظر کی تمنا دکھائی دے رہے تھے۔ تھکاوٹ کے باجود اپنے ورکرز کے لیے ان کی حوصلہ افزائی اور شفقت نمایاں تھی جو اس وقت امدادی کاموں میں مصروف تھے۔ میں اورنگی ٹائون کے اس پہاڑی نما مقام پر حالات دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ یہ کیسا نظام ہے جو اپنے شہریوں کو تحفظ دینے کی بنیادی ذمہ داری اور صلاحیت کا قاتل ہے۔ یہ منظر تو مجھے انصاف کی بربادی کا مجرم دکھائی دے رہا تھا، میں بے بس تھا دکھی دل اور بوجھل قدموں کے ساتھ آفس آیا وقت کی نزاکت اور بچ بچا کے خبر فائل کی ۔ ایڈیٹر جناب نیر علوی نے پہلے خبر اور پھر مجھے دیکھ کر پوچھا تم نے یہ خبر بنائی ہے یاآنکھوں دیکھے حال کو افسانوی روپ دیا ہے؟ میں نے کہا، سر یہ افسانہ نہیں انسانی قتل عام کا نوحہ ہے۔ میںنے زندگی میں ایسا درد ناک منظر نہیں دیکھا۔
پھر ایدھی صاحب سے یہ رشتہ احترام اور عقیدت کے ساتھ ساتھ اپنائیت کا بھی ہوگیا۔ میں جب ان سے ملتا بلکہ ملنے کا بہانہ تلاش کرتا ۔ وہ بہت سحر البیان شخصیت نہیں تھے۔ بہت دھیمے انداز میں بات سمجھاتے لیکن ان کا ہر لفظ خلوص اورسچائی میں ڈوبا ہوا نظر آتا۔ محترم عمران اسلم جیسے قلمکار ، دانشور اور بلند پایہ صحافی نے ان کی زندگی کے اوراق کو اس ترتیب اور سلیقے سے کتاب کی شکل میں ڈھالا جس سے انسپائر ہو کر میں نے اپنے اخبار کے لیے اس کا قسط وار ترجمہ کرڈالا۔اسے پڑھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ایدھی صاحب کا یہ سفر کتنا کٹھن تھا ۔ نشیب و فراز سے پر لیکن وہ عزم کے سچے او رپکے تھے۔ ابتدا میں جب لوگ ان سے پوچھتے تھے کہ آپ یہ معجزہ کیسے دکھائیں گے کیونکہ انسانوں کی خدمت ان کے خواب تھے۔تو پوچھنے والوں کی آنکھوں میں طنز او ر ہونٹوں پر شرارت ہوتی تھی۔ لیکن وہ عزم کے پیکر تھے۔ کامیابی کی پٹری پر چڑھنے والا مرحلہ کئی سال پر محیط رہالیکن وہ ہمت ہارنے والے نہیں تھے۔ ان کا کمال یہ تھا کہ وہ انسانوں کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے بے رحم حالات او رواقعات پر وہ ملول ضرور رہتے تھے لیکن مایوس نہیں ہوتے تھے میں نے ان کی باتوں میں کبھی شکوہ او رآنکھوں میں کبھی بے چارگی نہیں دیکھی۔ وہ آگے کی طرف ہی دیکھتے تھے لیکن ایک دن انہیں شکوہ کرتے دیکھا ۔ وہ مجھے دل برداشتہ دکھائی دیئے اس طرح روپڑے جس طرح ماں اپنے جوان بچوں کے مرگ پر روتی ہے لیکن چند گھنٹے میں ان کی دکھ بھری آواز ایوان صدر تک پہنچ چکی تھی ۔ چند لمحوں میں صدر غلام اسحٰق کی ہدایت پر اور کور کمانڈر جنرل آصف نواز جنجوعہ کی مداخلت پر ایدھی صاحب کی شکایات کا مداواہوچکا تھا۔
زندگی کے آخری سالوں میں ان کے چہرے کی ہڈیاں ابھر چکی تھیں گردن کی جلد ڈھیلی پڑ چکی تھی ، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ان کا دم پھولنے لگتا تھا جھکتے ہوئے ان کی کمر دکھتی تھی۔ پھر ایک دن میں نے صدر میں وہیل چیئر پر دیکھا وہ بہت ناتواں ہوچکے تھے لیکن فنڈ ریزنگ کے لیے یہ مسیحا جھولی پھیلائے نکل کھڑا ہوا تھا۔ دکاندار اور راہگیرایدھی صاحب پر اپنی عقیدت اور محبتوں کے پھول برسارہے تھے۔ اسی دوران ایک خاتون گاڑی سے اتر یں انہوں نے بہت تیزی سے کانوں سے بالیاں ، انگلی سے انگوٹھی اور گلے سے نیکلس اتارا ، پرس میں موجود پیسے نکالے اور ایدھی صاحب کی جھولی میں ڈال دیئے۔ فرط جذبات میں اس نے ایدھی صاحب کے ہاتھ چوم لیئے۔ ایدھی صاحب نے شفقت اور متشکر نظروں سے اس خاتون کو دیکھا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ وہ لوگوں سے ہاتھ ملا رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا جس شخص میں اتنی پذیرائی کے بعد بھی ’’میں‘‘ نہ ہو اس سے بڑا صوفی کون ہوگا۔ جس شخص میں مرغوبیت نہ رہی ہو جس کی حیرت ختم ہوگئی ہو اس سے بڑا بزرگ کون ہوگا۔ ایدھی صاحب کرونا کے بعد اس قوم پرجوآزمائش آپڑی ہے اس میں آپ بہت یاد آرہے ہیں مجھے یاد ہے کہ آپ عموماً کہا کرتے تھے کہ عام لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی اور علاج معالجے کی سہولت کے بغیر ہم کبھی سر اٹھا کر چلنے والی قوم نہیں بن سکتے۔
آج میں سوچ رہا ہوں کہ آخر ہمارے معاشرے میں کیا ہورہا ہے ۔ ہر طرف دل ہلا دینے والی کہانیاں بکھری پڑی ہیں کوئی ماں حالات سے تنگ آکر ندی میں چھلانگ لگا رہی ہے ، کسی شخص نے تنگدستی اور مفلسی سے تنگ آکر خو د کو آگ لگالی۔ کوئی اپنے بچوں کو زہر دے کر ماررہا ہے اور خود کو بھی مارکر ابدی نیند سو رہاہے ۔ ہر طرف بے بسی رقص کررہی ہے ۔ کوئی اپنے بیمار بچوں کے لیے دوا نہیں لے سکتا اچھی خوراک کو چھوڑیئے لاکھوں سفید پوشوں کے لیے پیٹ بھر کر کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔
ہسپتالوں کے باہر دیکھیں تو کسی کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں ۔ کسی کی آنکھیں چڑھ رہی ہیں کوئی ایڑھیاں رگڑ رہا ہے کوئی درد سے کراہ رہا ہے۔ کسی کی چیخیں نکل رہی ہیں کوئی مجبور ماں اپنے لخت جگر کے دل میں سوراخ کا علاج پھونکھوں سے کررہی ہے۔ لائنوں میں لگے ہوئے ان لوگوں کے پاس آپریشن کے پیسے ہیں نہ دوائوں کے۔ باپ اپنے بچوں کو اور بچے اپنے والدین کو موت کی دہلیز پر کھڑ ا دیکھ رہے رہیں ۔ ایک باپ کب تک اپنے بچے کا ایکسرے تھام کر ایک ہسپتال سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کا فاصلہ ناپتا رہے گا۔ خیرات کی دوائوں پر یہ نادار کب تک زندہ رہیں گے۔ دعائیں ، پھونکیں اور تعویذ کب تک ان لوگوں کی آس تھامے رکھیں گے یہ آپریشن او ردوائوں کے پیسے کہاں سے لائیں گے یہی وجہ ہے کہ یہ ہمارا روز مرہ کا معمول ہے کہ کبھی رحم دل اور خدا ترس ڈاکٹر سیمی جمالی کو فون کرتے ہیں اور کبھی سول ہسپتال اور دوسرے سرکاری ہسپتالوں کے ایم ایس اور ڈاکٹر صاحبان سے مریضوں سے تعاون کی گزارشات کرتے رہتے ہیں۔ہر روز سنتاہوں کرونا بڑھا تو ہمارا صحت کا نظام پورا بیٹھ جائے گا، غیر موثر ہوجائے گا مریضوں کا سڑکوں پر علاج کرنا پڑے گا۔ جب کرونا نہیں تھا تو آپ نے کونسا تیر مارا تھا علاج اور ہسپتالوں کا ایسا کونسا نظام بنایا تھا جہاں مریضوں کو علاج کی مفت سہولتیں فراہم ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ہم کوئی قبر تیار کریں جہاں ہم اپنا ضمیر اپنا احساس اپنی شرم اور اپنے سوال اور جواب سب دفن کردیں ۔ دل چاہتاہے کہ ان مجبور اور بے کس لوگوں سے کہو ں کہ یہاں اندھے اور بہرے لوگ بستے ہیں یہاں تمہارے درد کی ڈفلی کوئی نہیں سنے گا۔
لیکن پھر دل گواہی دیتا ہے نہیں ۔ نہیں ، ہم پھر کھڑے ہوجائیں گے کیونکہ ابھی اس ملک کے 22کروڑ لوگوں کے لہو میں غیرت ،تخلیق کے لیے پسینہ، کوشش کے لیے محنت او ربارگاہ الٰہی میں پیش کرنے کے لیے آنسو موجود ہیں کیونکہ وہی خدا جب قوموں کا مقدر بدلتاہے تو بکریاں چرانے والےگڈریوں تک کو پیغمبر بنا کر بستیوں میں اتار دیتاہے۔