ایک بہن کا طارق جمیل کے نام خط

ایک بہن کا طارق جمیل کے نام خط
مولوی صاحب السلام علیکمم۔
اگر میں وہ ’بے حیا‘ عورت ہوں جس کے’مختصر لباس‘کی وجہ سے ملک پر کرونا کا عذاب آیا ہے لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ ایران اور سعودی عرب کی عورتیں تو میری طرح ’بے حیا‘ نہیں ہیں۔ آپ نے کوئی وضاحت نہیں دی کہ وہاں کیوں عذاب نازل ہوا ہے بلکہ جس میڈیا سے آپ معافیاں مانگتے پھر رہے ہیں، اس کا کہنا ہے کہ یہ عذاب پاکستان میں درآمدہی ایران اور سعودی عرب جیسے اسلامی ملکوں کی وجہ سے آیا ہواہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عذاب ہم ’بے حیا‘ عورتوں کی وجہ سے آیا ہے اور اس عذاب کاسب سے زیادہ شکار آپ کی تبلیغی جماعت کے لوگ ہو رہے ہیں۔

ویسے کبھی آپ نے سوچا کہ میں اتنی ’بے حیا‘ کیوں ہوں؟ سیدھی سی وجہ ہے: میں کھیتوں میں کام کرتی ہوں۔ مئی جون کی گرمی میں برقعہ پہن کر گندم کی فصل نہیں کاٹی جا سکتی۔ جولائی اگست میں اگر شلوار کو گھٹنوں تک اڑس کر دھان کے کھیت میں نہ گھسیں تو مُنجی لگانا ممکن نہیں ہوتا۔ کپاس کے کھیت میں بھی عبایا پہن کر کام کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ سفید لباس جو آپ زیب تن کرتے ہیں، اُسی کپاس کے کھیت سے آیا ہے جہاں سے یہ ’بے حیا‘ عورت کپاس چنتی ہے۔ جس نان اور چاول سے آپ اپنا پیٹ بھرتے ہیں، وہ انہی کھیتوں سے آتے ہیں جہاں یہ ’بے حیا‘ عورت ’مختصر لباس‘ میں مشقت کرتی ہے۔
کبھی کبھی سوچتی ہوں اگر میرے شوہر کے پاس بھی آپ جتنی زمین اور پیسہ ہوتا تو شائد میں آپ کو ’بے حیا‘ دکھائی نہ دیتی۔
مولوی صاحب میں وہ ’بے حیا‘ عورت ہوں جو فیکٹری اور ہسپتال میں کام کرتی ہے۔ جب آپ کو دل کا دورہ پڑا تھا تو نرس کے’بے شرم لباس‘ میں، میں نے ہی آپ کی تیمار داری کی تھی۔ جس آرام دہ گاڑی میں ائر کنڈیشنڈ لگا کر آپ گھومتے ہیں اور جس ہوائی جہاز میں بیٹھ کر آپ مکے مدینے جاتے ہیں، وہ سب اسی فیکٹری سے بن کر آئے ہیں جہاں یہ ’بے حیا‘ عورت فخر سے محنت کرتی ہے۔
کبھی کبھی سوچتی ہوں میری ’بے حیائی‘ تو دکھائی دیتی ہے مگر میری محنت کا استحصال اور میری جنس کا ہراس ہونا آپ کو کیوں دکھائی نہیں دیتا؟ جو سرمایہ دار مالک میرا ہر دو طرح کا استحصال کرتا ہے وہ آپ کی نظر میں بے حیا نہیں بنتا کیونکہ وہ آپ کی تبلیغی جماعت کو چندہ دیتا ہے۔ آپ نے بھی کبھی یہ اعلان نہیں کیا کہ بے حیا مرد آپ کی تبلیغی جماعت کو چندہ نہ دیں۔
مولوی صاحب آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہے کہ آپ کو صرف عورت کی بے حیائی کیوں نظر آتی ہے، مردوں کی بے حیائیاں کیوں آپ کی آنکھ سے اوجھل رہتی ہیں؟ یہ بھی پوچھنا چاہتی ہوں: ستر ستر سی تھرو لباس پہننے والی آپ کی حوریں تو ’اسلامی‘ مگر میں آپ کو بے حیا لگتی ہوں؟
کبھی کبھی میں بھی سوچتی ہوں کہ مدرسوں میں بچوں کے ساتھ جو ہوتا ہے اس کی وجہ سے عذاب کیوں نہیں آتا؟
مولوی صاحب! اگر میری ’بے حیائی‘ سے آپ اتنا پریشان ہیں تو آئندہ وہ نان مت کھانا اور وہ کپڑا مت پہننا جس میں بغیر برقعے کے ہم ’بے حیا‘ عورتیں کام کرتی ہیں۔ آئندہ اس دودھ کا گھونٹ بھی مت پینا جسے ہم ’بے حیا‘ عورتیں دھوتی ہیں۔ آئندہ وہ حلوہ بھی قبول مت کرنا جو ’بے حیا‘ عورتوں کی محنت نے کشید کیا ہو۔ اور اگر یہ سب نہیں کر سکتے تو پاکستان کی عورتوں سے معافی مانگو۔
ایک پاکستانی بہن