ہیلتھ پیکیج، گرین پیکیج اور بینک ٹرانزیکشن پر ٹیکس خاتمے کے فیصلے مستحسن ہیں

سپلائی چین کا تعطل دور کرنے کے لئے ٹیکسٹائل الائیڈ انڈسٹریز کھولی جائیں
ریٹیلرز کی حالت زار کا نوٹس لے کر کام کرنے کی اجازت دی جائے ۔ میاں زاہد حسین
ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین ،پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ہیلتھ ورکرز کے لئے پیکیج ،گرین پیکیج اوربینکوں سے رقم نکلوانے پر ودھولڈنگ ٹیکس کے خاتمے کے فیصلے مستحسن ہیں جس سے معیشت ترقی کرے گی جبکہ کاروباری برادری کا اعتماد بڑھے گا ۔ دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات کی حوصلہ افزائی سے بھی مجموعی صورتحال پر مثبت اثر پڑے گا ۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ وزیر اعظم ایک طرف کورونا وائرس سے جنگ لڑنے میں مصروف ہیں جبکہ دوسری طرف عوام اور کاروبار برادری کو اس کے اثرات سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں جبکہ پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے جس سے انکا امیج مزید بہتر ہوا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ برآمدی شعبہ کی بحالی کے لئے کئے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں ۔

ٹیکسٹائل سیکٹر کھلنے سے پیداوار اور روزگار کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے ۔ ٹیکسٹائل کی ساری سپلائی چین کھولی جائے ۔ برآمدات میں بنیادی کردار ادا کرنے والا ٹیکسٹائل کا شعبہ حکومتی کوششوں کے باوجود مشکلات کا شکار ہے جسے دور کرنے کے لئے تمام الائیڈ انڈسٹریز کو بھی کھولا جائے تاکہ سرمایہ کار یکسوئی سے پیداوار اور برآمدات کر سکیں ۔ اس وقت برآمد کنندگان کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ انھیں مختلف اشیاء سپلائی کرنے والی صنعتیں بند پڑی ہیں اور سپلائی چین رکنے کی وجہ سے انکا کام متاثر ہو رہا ہے جبکہ آرڈرز کی تکمیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جس کا نوٹس لیا جائے ۔ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے تمام ریفنڈز کلیم فوری ادا کئے جائیں اور برآمدی شعبہ کے لئے زیرو ریٹڈ سہولت کی بحالی پر غور کیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ مکمل دیوالیہ ہونے سے بچ سکیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس نے ریٹیل انڈسٹری کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے ۔ حکومت ریٹیلرز کی پریشانی کا نوٹس لیتے ہوئے ایس او پیز کے مطابق عید کی آمد کے پیش نظر انھیں بھی کام کرنے کی اجازت دے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں ورنہ انکے کاروبار ختم ہو جائیں گے ۔