حکومت اسمبلی کو لاک ڈاؤن کر رہی ہے، خواجہ آصف

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کا مقصد جپھیاں ڈالنا نہیں بحث کرنا ہوتا ہے، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی پارلیمنٹ کا ورچوئل سیشن آرگنائز کرسکتی ہے۔

بجٹ اجلاس میں ارکان اسمبلی کی بحث ویڈیو کال پر ہوسکتی ہے، البتہ ہنگامہ آرائی اور ایک دوسرے پر کاغذ نہیں پھینکے جاسکیں گے، اٹھارہویں ترمیم میں پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے بغیر ترمیم نہیں ہوسکتی، صوبوں سے ڈسٹرکٹ اور تحصیلوں تک بھی اختیارات کی تقسیم ہونی چاہئے۔

اسد عمر کو کہا تھا آپ کی جگہ تو حفیظ شیخ جیسے ماہر معیشت آئے ہیں لیکن میری کتنی بے عزتی ہوئی ہے، شبلی فراز اور عاصم سلیم باجوہ اپنے کام کو سمجھنے والے لوگ ہیں، پی ٹی آئی کے پرانے لوگ ہیں، ان کے آنے سے یقینی طور پر میڈیا سے کمیونیکیشن بہتر ہوگی۔ وہ جیوکے پروگرام”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔

پروگرام میں ن لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف سے بھی گفتگو کی گئی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت سوچی سمجھی سازش کے تحت اسمبلی کو لاک ڈاؤن کررہی ہے،حکومت پھر نیب آرڈیننس لانا چاہتی ہے،ن لیگ کی حکومت سے اٹھارہویں ترمیم پر قطعاً کوئی بات نہیں ہوئی، نیب آرڈیننس سے متعلق دو مہینے پہلے تک اپوزیشن کے حکومتی پارٹی سے رابطے تھے۔

اٹھارہویں ترمیم میں کوئی بھی ترمیم اتفاق رائے سے ہونی چاہئے ، دو تہائی اکثریت کے بل بوتے پر ترمیم کی کوشش کی گئی تو فالٹ لائنز بڑھ جائیں گی، 800نشستوں والی اسمبلی میں 100ارکان کا اجلاس منعقد کیا جاسکتا ہے، آئین اور رولز میں پارلیمنٹ کے ورچوئل اجلاس کی گنجائش نہیں ہے، حکومت آئندہ بجٹ کیلئے بھی ورچوئل اجلاس بلانا چاہتی ہے۔

غیرنمائندہ شخصیت کی جگہ منتخب شخصیت شبلی فراز کو وزیر بنانا اچھی بات ہے، تمام وزراء کے پاس بلاشرکت غیر محکمے ہونے چاہئیں۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نےکہا کہ پارلیمنٹ کا ورچوئل اجلاس بلایا جانا بالکل ممکن ہے، پارلیمنٹ کے اجلاس کا مقصد جپھیاں ڈالنا نہیں وہاں پرمغز بحث کرنا ہے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے جسمانی موجودگی کے بغیر بھی ایک دوسرے سے بات ہوسکتی ہے تو کیوں اسے استعمال نہیں کیا جائے، کوئی اسکائپ اور زوم جیسی ایپس استعمال نہیں کرنا چاہتا تو مقامی سطح پر ایپ بنائی جاسکتی ہے، اسپیکر صاحب کہیں تو وزارت سائنس و ٹیکنالوجی پارلیمنٹ کا ورچوئل سیشن آرگنائز کرسکتی ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی کی ڈیجیٹل ووٹنگ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، بجٹ اجلاس میں ارکان اسمبلی کی بحث ویڈیو کال پر ہوسکتی ہے، البتہ ہنگامہ آرائی اور ایک دوسرے پر کاغذ نہیں پھینکے جاسکیں گے، پارلیمنٹ کے ورچوئل اجلاس میں زیادہ ڈیکورم کے ساتھ جامع بات چیت ہوسکتی ہے۔

فواد چوہدری نے کہاکہ اٹھارہویں ترمیم میں پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتفاق رائے کے بغیر ترمیم نہیں ہوسکتی، اٹھارہویں ترمیم میں اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کا اصول بالکل درست ہے، مرکز سے صوبوں کو اختیارات کی تقسیم پر تینوں پارٹیوں میں اتفاق رائے ہے، پی ٹی آئی کہتی ہے کہ صوبوں سے ڈسٹرکٹ اور تحصیلوں تک بھی اختیارات کی تقسیم ہونی چاہئے، اٹھارہویں انیسویں اور بیسویں ترمیم میں سقم بھی ہیں، اٹھارہویں ترمیم میں ایچ ای سی کا صوبوں کے ساتھ تعلق واضح نہیں ہے، ججوں کی تقرری اور احتساب کا طریقہ کار بھی متنازع ہے، ان تمام معاملات پر پارٹیوں کو بات چیت کرنی چاہئے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس پر ن لیگ کا موقف حکومت اور پیپلز پارٹی کے موقف سے مختلف تھا، ن لیگ نے اپوزیشن کی طرف سے جوائنٹ ڈرافٹ پیش کرنا تھا جو انہوں نے پیش نہیں کیا، اپوزیشن نیب آرڈیننس پر مشترکہ ڈرافٹ لاتی ہے تو حکومت اس پر غور کرنے کیلئے تیار ہے، نیب آرڈیننس سے متعلق حکومت اور اپوزیشن میں دو مہینے پہلے تک بات چیت ہورہی تھی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اسد عمر اور مجھے ایک ساتھ ہٹایا گیا تھا، میں نے اسد عمر کو کہا تھا آپ کی جگہ تو حفیظ شیخ جیسے ماہر معیشت آئے ہیں لیکن میری کتنی بے عزتی ہوئی ہے

courtesy jang news