نیب اختیارات میں کمی کا حکومتی مسودہ تیار

پراسیکیوٹرجنرل نیب کی تعیناتی تین سال کےلیےہوگی، یہ تعیناتی وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے ہوگی، پراسیکیوٹرجنرل نیب کی مدت ملازمت میں نہ توسیع ہوگی اورنہ دوبارہ تعیناتی ہوسکے گی۔

نیب کسی انکوائری یا تفتیش کے دوران جائیداد پر قدغن نہیں لگا سکے گا، عدالت بھی جائیداد پر قدغن کےبارے میں متعلقہ شخص کو سنے بغیر کوئی آرڈر جاری نہیں کرے گیمسودہ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس ڈیوٹی کے معاملات نیب کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے، وفاق اور صوبائی ریگولیٹری باڈی کے دائرہ کار والے معاملات بھی نیب نہیں دیکھ سکے گا، انکوائریز اور انویسٹی گیشنز متعلقہ اداروں کو منتقل کر دی جائیں گی۔

نیب کے دائرہ کار میں کابینہ ، ای سی سی ، مشترکہ مفادات کونسل کے معاملات نہیں آئیں گے، ایکنک یا وفاقی و صوبائی پالیسی ساز ادارے کے معاملات بھی نیب کےدائرہ کارمیں نہیں آئیں گے، ٹرائلز احتساب عدالتوں سے متعلقہ عدالتوں یا ریگولیٹری باڈیز کو منتقل کر دیے جائیں گے

Courtesy jang