ڈینیل پرل کیس 18سال بعد بھی زندہ

معروف امریکی صحافی ڈینیل پرل 18سال قبل ایک سنسنی خیز کہانی کی تلاش میں پاکستان آیا مگر وہ خود کہانی کا عنوان بن گیا۔

ڈینیل پرل امریکی اخبار ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ کا جنوبی ایشیا میں بیورو چیف تھا جسے مذہبی انتہا پسندی اور جہادی تنظیموں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ کے سلسلے میں کراچی بھیجا گیا تھا تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جا سکے۔

یہ وہ وقت تھا جب امریکہ، افغانستان پر حملہ آور ہو چکا تھا اور پورے خطے میں امریکہ مخالف جذبات عروج پر تھے لیکن حالات کی سنگینی سے بےخبر کہانی کی تلاش میں ڈینیل پرل اپنی احمقانہ حرکات کے سبب جنوری 2002میں دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ گیا۔

بعد ازاں اغوا کاروں نے ایک وڈیو جاری کی جس میں ڈینیل پرل کا سر قلم کرتے دکھایا گیا۔

ڈینیل پرل کے قتل کے الزام میں برطانوی نژاد پاکستانی شہری عمر شیخ کو گرفتار کیا گیا۔ جولائی 2002میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے عمر شیخ کو 4ساتھیوں سمیت سزائے موت سنائی جس کے خلاف اُس کی درخواست سندھ ہائیکورٹ میں گزشتہ 18سال سے زیرِ سماعت تھی۔

اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد لوگ ڈینیل پرل کے واقعہ کو فراموش کر چکے تھے مگر گزشتہ دنوں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے نے ڈینیل پرل کے واقعہ کو اس وقت ایک بار پھر زندہ کردیا جب عدالت عالیہ نے عمر شیخ کو قتل میں ملوث ہونے کے ثبوت نہ ہونے کے سبب 3ساتھیوں سمیت رہا کرنے کا حکم دیا تاہم ڈینیل پرل کے اغوا میں ملوث ہونے پر عمر شیخ کو 7سال قید اور 20لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

عمر شیخ چونکہ گزشتہ 18سال سے جیل میں قید تھا، اس لئے عدلیہ کی دی گئی سزا جو وہ پہلے ہی بھگت چکا تھا، کے باعث یہ امید کی جارہی تھی کہ عمر شیخ کو رہا کردیا جائے گا مگر فیصلے کی خبر نشر ہوتے ہی امریکہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل میں ملوث ملزمان کی رہائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکی صحافی کے اغوا اور قتل میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

امریکی دبائو کے نتیجے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو یہ بیان دینا پڑا کہ ڈینیل پرل کیس کے فیصلے پر امریکی تحفظات فطری ہیں اور حکومت عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گی۔ بعد ازاں سندھ حکومت نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے عمر شیخ کو عدالتی فیصلے کے بعد رہا کرنے کے بجائے جیل منتقل کردیا اور گزشتہ دنوں ڈینیل پرل کیس پر سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی کہ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے عمر شیخ کی موت کی سزا برقرار رکھی جائے۔

واضح رہے کہ عمر شیخ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے جس نے لاہور کے مشہور ایچی سن کالج اور لندن اسکول آف اکنامکس میں تعلیم حاصل کی۔1997میں اُسے جہادی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر بھارتی سیکورٹی ایجنسی نے مقبوضہ کشمیر سے گرفتار کیا تاہم بعد ازاں بھارتی طیارہ ہائی جیک کرنے والے ہائی جیکرز کے مطالبے پر عمر شیخ اور جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی رہائی عمل میں آئی۔ یاد رہے کہ ڈینیل پرل کے قتل پر ہالی وڈ نے ’’Mighty Heart‘‘فلم بھی بنائی جو مبینہ طور پر ڈینیل پرل کی بیوہ مارین پرل کی کتاب سے ماخوذ تھی۔

ایک کروڑ 60لاکھ ڈالر کی لاگت سے بننے والی فلم میں پاکستان کو Rougeاسٹیٹ اور ایجنسیوں اور عوام کو منفی انداز میں پیش کیا گیا۔ فلم میں پاکستان میں غربت کے مناظر پیش کئے گئے اور عیدالاضحی پر قربانی کے مناظر اس طرح دکھائے گئے جس کا مقصد لوگوں کو یہ باور کرانا تھا کہ پاکستانی ایک شقی القلب قوم ہیں اور ڈینیل پرل کو اسی طرح گلا کاٹ کر بےدردی سے قتل کیا گیا۔ فلم میں ہیروئین کا کردار معروف ہالی وڈ اداکارہ انجلینا جولی نے ادا کیا۔

امریکیوں کی عادت ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے انہیں بہادری اور کامیابی کی شکل میں فلموں میں پیش کرتے ہیں اور تخلیقی ہیرو، ہیروئین تراشے جاتے ہیں جن کی بےوقوفیوں کو بھی کارناموں کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے جیسا کہ ڈینیل پرل کے معاملے میں ہوا لیکن اگر حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو ڈینیل پرل کی کہانی ایک ہیرو کی کہانی نہیں۔

ڈینیل پرل جب پاکستان آیا تو اُسے کئی لوگوں نے جہادی تنظیموں کے رہنمائوں سے ملنے سے منع کیا لیکن اس کے باوجود وہ کسی اجنبی کی ایک کال پر ایک مذہبی شخصیت سے ملنے کراچی کے علاقے صدر میں واقع ایک ریسٹورنٹ پہنچ گیا جہاں سے اسے بہ آسانی دن دہاڑے اغوا کر لیا گیا۔

اس وقت کے CPLCکے چیف عزیز میمن نے مجھے بتایا کہ ’’ڈینیل پرل واقعہ کے روز اُن سے ملنے CPLCآفس تنہا آیا تھا جس پر اُنہیں حیرانی ہوئی اور اس نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ وہ وہاں سے کسی مذہبی شخصیت سے ملنے جارہا ہے، اگر وہ ہم سے اس کا ذکر کرتا تو ہم اسے اس سے باز رکھتے‘‘۔

آج جب پاکستان FATFکی گرے لسٹ میں شامل ہے جس سے نکلنے کی وہ جدوجہد کررہا ہے اور پاکستان پر عالمی ادارے کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اس ادارے کی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی فنانسنگ میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے اور اُن پر مقدمات چلا کر سخت سزائیں دی جائیں، ایسے میں عمر شیخ کی ممکنہ رہائی سے آنے والے دنوں میں پاکستان کیلئے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے

Mirza-Ishtiaq-Baig-Jang