18ویں ترمیم- نودوگیارہ ؟مجھے کیوں نکالا ؟فردوس عاشق اعوان ۔حکومتی میڈیا ٹیم ہنگامی طور پر تبدیل کیوں کی گئی ؟

وزیراعظم جانتے ہیں تھے کہ انہیں یہاں تک پہنچنے میں میڈیا کا زبردست کردار رہا ہے سوشل میڈیا تو انہوں نے خود اپنے لئے ہموار بنایا لیکن مین اسٹریم میڈیا نے ان کی بہت مدد اور تعاون کیا وہ ابھی نوجوان طبقہ تھا جو تبدیلی چاہتا تھا اور اس نے عمران خان کی شکل میں ملک میں تبدیلی کے لئے کوشش کی ۔حکومت کی میڈیا ٹیم میں تبدیلی پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی تجزیہ نگار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فردوس عاشق اعوان کو تگڑی سفارش پر میڈیا منسٹری ملی تھی وہ ہوا چوہدری کو ہٹا کر آئی تھی اندازہ لگا لیں کہ ان کی سفارش کتنی مضبوط تھی مخالفین کو انہوں نے خوب رگڑا دیا لیکن کرونا کے معاملات میں میڈیا مینجمنٹ میں مار کھا گئیں اور بد نام شروع ہوگئی اور اسٹیبلشمنٹ نہیں فیصلہ کر آیا ہے عاصم باجوا کی آمد صاف پیغام ہے کہ اب آگے جو کچھ کرنا ہے اس کو سنبھالنا ہے اس کے لئے ایسا ہی آدمی چاہیے ۔

نجم سیٹھی نے کہاکہ تبدیلی کرانے والے آخر چاہتے کیا ہیں ان کی حکمت عملی کیا ہے اس حوالے سے شیخ رشید پہلے ہی بتا چکے ہیں ۔
لڑائی جھگڑے بند ہوں گے میڈیا اور اپوزیشن کے ساتھ صلح صفائی کا ماحول پیدا کیا جائے گا حکومت کو پیغام دیا گیا ہے کہ بڑے بڑے قومی مسائل ہیں اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے نجم سیٹھی نے کہا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں شیخ رشید کی بات دراصل کسی اور کی آواز ہوتی ہے اور وہ آواز بہت اہم ہے اپوزیشن اور میڈیا کی طرف اسٹیبلشمنٹ نرم رویہ چاہتی ہے کیونکہ اسے کچھ کام کرانے ہیں اور اس کے لئے تھوڑا پیار تھوڑی سختی مل جل کر کام چلانا ہے پہلے پیمرا کے ذریعے میڈیا کو ٹائٹ کرا دیتے تھے اب وہاں سے نہیں کرانا کیونکہ اس طرح بدنامی ہوتی ہے اور سوشل میڈیا پر تو بالکل بھی نہیں کر سکتے ۔
اب عاصم باجوہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں بیٹھیں گے اس طرح جنرل باجوا کا ایک اور مقصد حاصل ہو جائے گا کابینہ کو پیار سے پیغام پہنچا دیا کریں گے یاد رکھیں عاصم باجوہ نے ہی اسٹیبلشمنٹ کے لیے سوشل میڈیا کو بنایا تھا عمران خان نے تو صرف اپنی پارٹی کے لیے سوشل میڈیا کو بنایا لیکن ملک کے بیانیے کو آگے لے کے جانے کے لیے عاصم باجوہ نے سوشل میڈیا کو آنے والے دنوں میں بہت بڑا ایجنڈا نظر آرہا ہے جس کے لیے کابینہ اور اپوزیشن کی اہم جنگ ضروری ہوگئی ہے ۔
اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ یہ وفاق کے لیے ٹھیک نہیں ہے نیشنل سکیورٹی پر پرابلم آرہی ہے پوزیشن اور میڈیا کو ساتھ لے کر چلنا ہے اس کے لئے تیاری چاہیے ۔
پروگرام کتنا نجم سیٹھی نے میر شکیل الرحمن کی ضمانت کے حوالے سے ایک سوال پر کہا کہ پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ وزیراعظم عمران خان ان کو کافی عرصے تک اندر رکھنا چاہتے ہیں اگر موجودہ کیس میں ضمانت ہورہی ہوئی تو فارن فنڈنگ کیس بنانے کی تیاری کی جارہی ہے ایک کے بعد دوسرا کیس بنا کر ان کو اندر رکھنا مقصود ہے فی الحال بارہ بجے تک جوڈیشل کسٹڈی پر جیل بھجوا دیا گیا ہے میرے نزدیک یہ پہلا قدم ہے اس کے بعد ہائی کورٹ سے ضمانت کے لئے رجوع کیا جائے گا اب نیب کی رجسٹریشن اس کیس میں ختم ہوگئی ہے اب ہائی کورٹ میں ضمانت کے لئے جاسکیں گے اور میرا خیال ہے کہ بالآخر اس کیس میں ضمانت ہو جائے گی ۔

جہاں تک اٹھارہویں ترمیم کا تعلق ہے موجودہ حالات میں اس کو چھیڑنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو کنکرنٹ لسٹ کے سارے معاملے صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں وفاق کا کنٹرول نہیں رہا ہیلتھ صوبوں کا معاملہ ہے پھر بھی وفاقی حکومت نے ہیلتھ منسٹر رکھا ہوا ہے تاکہ ایک سینٹرل پالیسی بنائی جا سکے لیکن کرو نہ جیسے معاملے میں دیکھا گیا ہے کہ وہ عراق کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے وفا کچھ کر رہا ہے صوبہ کچھ کر رہے ہیں صوبہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے فیصلے خود کریں گے آپ کیوں مداخلت کرتے ہیں ۔
نجم سیٹھی نے کہاکہ این سی اوسی جیسا ادارہ بنایا گیا ہے بظاہر اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اٹھارویں ترمیم کے ہوتے ہوئے یہ دارا نہیں بن سکتا یہ ایڈوائزری نوعیت کا تو ہو سکتا ہے جس میں چیف منسٹر آجائے اور آپ کی بات سن لے لیکن قانونی حیثیت نہیں ہے ۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ سیٹل ہو چکا ہے اب اس کو چھوڑا نہیں جا سکتا ماضی میں وفاقی حکومت صوبوں کو بلاکر خود وسائل تقسیم کرنے کا فیصلہ کرتی تھی لیکن اب جو کچھ بھی کمائی ہوتی ہے اس پر فارمولا طے پا چکا ہے سیمنٹ لگا کر مضبوط کر دیا گیا ہے پرابلم یہ سمجھا جا رہا ہے کہ 40 فیصد قرضے ہیں اور 40 فیصد دفاع ۔وہاں ادائیگیوں کے لیے پیسے کم پڑ گئے ہیں جبکہ صوبوں پر نہ تو دفع اور نہ ہی قرضوں کی واپسی کا کوئی بوجھ ہے پھر صوبے ڈیفنس کو اپنی مدد کے لیے بلا بھی لیتے ہیں اور پھر جب بال بنتے ہیں تو بالوں کے ادائیگی پر مسائل ہیں اس لیے وفا کی ضرورت ہے کہ اٹھارویں ترمیم کو ٹھیک کیا جائے سندھ پیپلز پارٹی کے پاس ہے پنجاب بھی نون لیگ کے پاس جا رہا تھا جیسے وفاق جا رہا تھا لیکن پی ٹی آئی کو دے دیا گیا کے پی کے والد بھی اپنا معاملہ خود دیکھ رہے ہیں عمران خان کی زیادہ نہیں سنتے ابو وفات کی پارٹی اور غریب کمزور پڑتی جا رہی ہے سینٹرل کنٹرول کے کچھ معاملوں کی ضرورت ہے خاص طور پر فنا نس بہت اہم ہے اسی لیے جنوبی پنجاب کا صوبہ بننے کا معاملہ جاتا ہے کہ کہ اگر صوبہ بنایا تو اس کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا ابھی چار صوبے پیسہ لے جاتے ہیں پھر پانچواں صوبہ بھی اپنا حق مانگے گا اور پیسہ لے جائے گا وفا ق کے پاس کیا بجے گا۔