لوگ ملتے گئے اورقافلہ بن گیا

کتابوں سے میری دوستی کوئی آج کی بات نہیں ہے کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ مجھے گھٹی میں ہی کوئی کتاب دے دی گئی تھی۔ میں نے تاریخ کے کئی ایسے کردار پڑھے ہیں جنہیں ان کے دور میں تسلیم ہی نہیں کیا گیا لیکن وقت گزرنے کے بعد دنیا کے سامنے ان کی حقیقت آشکار ہوئی تو وہ پوجنے کے لائق بن گئے۔ آپ مطالعہ کریں تو آپ کو ہر قوم میں ایسے کردار بھی بڑی تعداد میں ملیں گے جنہوں نے اپنی قوموں کے ساتھ غداری کی اور سمجھا کہ ان کی مراد بر آئی ہے لیکن یہ وقت بڑا ظالم ہے اس نے ان لوگوں کو ایسا دھتکارا کہ ان کی قبریں تک حسرت و یاس کی تصویریں بن گئیں۔ مجھے آج کوئی غرناطہ کے امیر عبداللہ بنگال کے میر جعفر اور دکن کے میرصادق کی قبروں کی نشاندہی کردے تو میں اس کا مشکور رہوں گا۔

کہتے ہیں جب سقوط غرناطہ ہوا تھا تو امیرعبداللہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے جس پر اس کی ماں نے کہا تھا کہ جب مردوں کی طرح اپنی سرزمین کی حفاظت نہیں کرسکے تو اب عورتوں کی طرح آنسو بھی مت بہاٶ۔سلطان ٹیپو کو جس نے دھوکا دیا تھا ، وہ میر صادق تھا۔ اس نے سلطان سے دغا کیا اور انگریز سے وفا کی۔ انگریز نے انعام کے طور پر اس کی کئی پشتوں کو نوازا۔ انہیں ماہانہ وظیفہ ملا کرتا تھا۔ مگر پتہ ہے جب میر صادق کی اگلی نسلوں میں سے کوئی نہ کوئی ہر ماہ وظیفہ وصول کرنے عدالت آتا تو چپڑاسی صدا لگایا کرتا۔ میر صادق غدّار کےورثاء حاضر ہوں”تاریخ ان غداروں کے عبرتناک انجام سے بھری پڑی ہے ۔علامہ اقبال نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جعفر از بنگال و صادق از دکن،ننگِ ملت، ننگِ دین، ننگِ وطن۔ تو ان ننگ ملت ننگ دین اور ننگ وطنوں کی کبھی بھی کمی نہیں رہی ہے۔
جس طرح کتابوں سے محبت میری گھٹی میں پڑی ہے اسی طرح شعبہ صحافت کبھی بھی میرے لیے پیشہ نہیں رہا ہے میں نے ہمیشہ اس کو عبادت سمجھا ہے۔ میری اس عبادت کو جب دو ٹکے کے کچھ لوگوں نے تجارت اور پھر تجارت سے دلالی کی طرف موڑا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا۔ ہم سے مفاد پرست سیٹھوں کے خلاف نعرے لگواتے رہے کہ اصل میں تمہارے مجرم یہ ہیں جنہوں نے تمہیں بھوک کی دلدل میں دھکیلا ہے لیکن جب معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو حفیظ جالندھری یاد آگئے انہوں نے بھی جب تیر کھا کر کمیں گاہ کی طرف دیکھا تھا تو ان کی اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی تھی اور ہم نے بھی جب لہو لہان ہوکر پیچھے دیکھا تو نظر آیا کہ سیٹھوں کے تیروں کے لیے کاندھے ہمارے نام نہاد رہنماٶں کے ہی تھے۔ قتیل شفائی نے سکھایا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا منافق وہ ہے جو ظلم تو سہتا ہے پر بغاوت نہیں کرتا۔ فرشتہ ہونے کا دعویدار تو کوئی نہیں لیکن الحمد اللہ منافقت سے میرا دور پرے کا بھی کوئی رشتہ نہیں۔ میں نے دو سال قبل اپنے بلاگز سے فساد کی اصل جڑ کی طرف توجہ دلانا شروع کی کہ ہمیں لوٹنے والے کوئی اور نہیں یہ نام نہاد صحافی رہنما ہی ہیں جو مالکان کے ساتھ اپنا نمک حلال کررہے ہیں ۔ہمیں اصل میں گریبان ان کے پکڑنے چاہئیں میری اس صدا نے ان فرعونوں کی ماتھوں کی شکنوں کو نمایاں کردیا مجھے پاگل ہونے کا سرٹیفیکیٹ عطا کردیا گیا مجھے ڈرایا گیا کوئی تمہیں نوکری نہیں دے گا اور اصل مسئلہ ہی یہی تھا ان نام نہاد رہنماٶں کو نوکریاں عزیز ہیں شک کوئی صحافی تنخواہ نہ ملنے کے باعث دل کا دورہ پڑنے سے مر جائے یہ پہلے بھوک کے سوداگر تھے اور آج کل یہ موت کے سوداگر بنے ہوئے ہیں۔
اللہ کی مجھ پر بڑی مہربانی ہے کہ آج میں اکیلا نہیں رہا ہوں میری آواز سے آواز ملانے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے میں تو اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا آج الحمد اللہ نیوز ایکشن کمیٹی صحافیوں کی سب سے موثر آواز بن گئی ہے۔ اب ہم اپنے صحافی بھائیوں کو سیٹھوں کے ان لے پالک رہنماٶں سے نجات دلانے کے سفر کا آغاز کرچکے ہیں 30 اپریل کو وقت کے میر جعفروں اور میر صادقوں سے نجات کے لئے دن کا منانا ان کے اختتام کا آغاز ہے۔بس مجھے ایک بات کا خوف ہے کہ لمحوں کی سزا صدیوں کو بھگتنا پڑتی ہے تو کل کہیں آج کے نام نہاد رہنماٶں میں سے کسی کی اولاد کسی سیٹھ کی اولاد کے پاس اپنے پرکھوں کا خراج لینے جائے تو کہیں اس کو بھی یہ آواز نہ سننی پڑے کہ فلاں غدار کی اولاد حاضرہو۔۔۔۔۔۔۔۔

عمیرعلی انجم
کنوینر
نیوزایکشن کمیٹی پاکستان
03338292968