کورونا کی روک تھام اور آئی ایس آئی کا خفیہ نظام

کورونا کی روک تھام اور آئی ایس آئی کا خفیہ نظام
وزیراعظم پاکستان عمران خان کے مطابق فوج کا خفیہ ادارہ آئی ایس آئی کورونا کے کیسز کا پتہ لگانے میں زبردست کام کر رہا ہے۔ لیکن یہ کام کیسے ہو رہا ہے، اس بارے میں گہرے تحفظات ہیں۔
شہریوں کے ڈجیٹل حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ”بولو بھی‘‘ کے ڈائریکٹر اسامہ خلجی کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس پہلے سے لوگوں کی نگرانی کے وسیع اختیارات ہیں، ’’چونکہ اس نظام میں کوئی شفافیت نہیں، جوابدہی نہیں، اور اس پر سوال نہیں کیا جا سکتا، اس لیے یہ تحفظات جنم لیتے ہیں کہ حکام ان

اختیارات کا غلط استعمال کرسکتے ہیں۔‘‘
وزیراعظم عمران خان نے پچھلے ہفتے جمعرات کو میڈیا ٹیلی تھون کے دوران کہا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی شناخت کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کورونا کیسز کی نگرانی کے لیے فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بھی اپنا کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا،’’ہمیں آئی ایس آئی نے زبردست سسٹم دیا ہوا ہے جو ٹریک اینڈ ٹریس میں مدد کرتا ہے۔ وہ تھا تو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لیکن اب وہ کورونا کے جو لوگ ہیں ان کے لیے کام آ رہا ہے۔‘‘

پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں خفیہ اداروں پر جبری گمشدگیوں کے الزامات ہوں اور لوگوں کو ان کے سیاسی، قومی یا مذہبی نظریات کے وجہ سے نشانہ بنانے کے ایک لمبی تاریخ ہو، وہاں خدشات تو ہوں گے۔
تنظیم ”بولو بھی‘‘ کے مطابق اس وقت پاکستان میں شہریوں کی نجی معلومات خفیہ رکھنے سے متعلق ’’ڈیٹا پروٹیکشن‘‘ کا کوئی قانون نہیں تاہم حالیہ کچھ عرصے میں حکومت نے قانون سازی پر غور شروع کیا ہے۔ لیکن ماہرین کو خدشہ ہے کہ پارلیمان غیر مؤثر ہونے کی وجہ سے اس قانون میں شہریوں کے حقوق کے دفاع کی بجائے ریاستی اداروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پاکستان میں کسی شخص کے لیے شہریوں کے فون ریکارڈ، میڈیکل ریکارڈ، بینک ریکارڈ، حاصل کرنا کوئی خاص مشکل کام نہیں۔ سکیورٹی حکام جب چاہیں شہریوں کی نجی معلومات بڑی آسانی سے حاصل کر لیتے ہیں۔

پاکستان میں یہ بحث ایک ایسے وقت جاری ہے جب کورونا کی روک تھام کے لیے دنیا کے کئی ممالک نے ڈجیٹل ٹیکنالوجی کا محتاط استعمال شروع کر دیا ہے۔
جمہوری معاشروں میں ’’پرائیویسی‘‘ کو بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود حالات کے حساب سے قوانین و ضوابط بدلتے رہے ہیں اور بعض اوقات”قومی سلامتی‘‘ اور ”قومی مفاد‘‘ کے نام پر بنیادی انسانی حقوق پر قدغنیں لگتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین عمومی طور پر شہریوں کی معلومات یا ڈیٹا کو کسی ایک مرکزی جگہ پر محفوظ کرنے کے خلاف ہیں۔
یورپ کے تین سو سائنسدانوں نے ایک کھلے خط میں خبردار کیا ہے کہ حکومتوں کی طرف سے ڈیٹا اکھٹا کرنے سے انہیں لوگوں کی جاسوسی کرنے کی صلاحیت مل جائے گی جو بنیادی شہری آزادیوں کے منافی ہو گا۔