ترقی پسند جوڑی کامریڈ رضیا سجاد ظہیر اور سجاد ظہیر کی بڑی بیٹی نجمہ ظہیر باقر بھی بچھڑ گئ

ترقی پسند جوڑی کامریڈ رضیا سجاد ظہیر اور سجاد ظہیر کی بڑی بیٹی نجمہ ظہیر باقر بھی بچھڑ گئ. ان کا جنم 11 آگسٽ 1940ء اجمیر راجستان میں ہوا،
انہوں نے1960 ء میں مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ سے سائینس میں گریجوئیشن میں کیا۔ 1966 ء میں لکھنو یونی ورسٹی سے انہوں سائنس کے مضمون میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ آپ کی تعلیم وہی نہیں رکی اسی کے ساتھ ساتھ آپ نے 1996 ء میں لکھنو یونی ورسٹی سے سائینس میں پی ایچ ڈی کیا ۔

نجمہ ظہیر صاحبہ نے اپنے کیریئر کاآغاز1966 ء ایک سال سینیئر رسرچ فیلو کے طور پر لکھنو یونی ورسٹی سے کیا۔1968 ء میں انہوں نے ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر مڈل سیکس ہسپتال ہوسپیٹل میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔1975 ء میں انہوں جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی(دہلی) میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر اور بعد میں پروفیسر پڑھانا شروع کیا۔ جہاں انہوں 1984 ء تک اپنی خدمات دیں۔ 1995ء میں انہیں ڈین اسکول آف لائف سائینس بنایا گیا۔جہاں دو سال تک اپنی خدمات سرانجام دیتی رہیں
نجمہ ظہیر باقر مختلف اوقات میں سائنس کے ملکی ور غیرملکی اداروں کی فیلو رائل اکیڈمی(اپین)، انٹرنیشل سوسائٹی (نیورو کیمیم) ، بایو یکمیکل سوسائٹی ، انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن ، سوسائیٹی بایولوجیکل کیمسٹ انڈیا(لائف)، ایسوسی ایشن کلینیکل بایوکیمسٹ (لائف)، نیشنل اکیڈمی آف سائنس (الہ آباد) ہندوستان میمبر رہی۔
جدید ادب کو پڑھنے ، آرٹ ، تھیٹر ، میوزق سننے اور کھانے بنانےان کے مشاغل میں شامل تھا۔انہوں نے مارچ 1968 ء میں علی باقر سے شادی کی ۔ ان کی ایک اولاد ہے ۔ اردو ادب کے بہت بڑی جوڑی، کمیونسٹ تحریک اور ترقی پسند تحریک کے بانی راہنما ادیب و دانشور کامریڈ سید سجاد ظہیر اور رضیہ سجاد ظہیر کی سب سے بڑی بیٹی نجمہ ظہیر 28 اپریل 2020 ء کو بچھڑ گئی۔ اپنے امی اور ابو کے ادبی خدمات کو یکجہ کرنے کام بھی انہوں سرانجام دیا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتی ہے ۔

سجاد ظہیر سولنگی
جوائنٹ سیکریٹری
انجمن ترقی پساند مصنفین (سندھ) پاکستان