“پاکستان امیدِ زیست ایوارڈ” کا اعلان

پاکستان اکادمی ادبیات اربابِ فکرو فن کا سب سے اہم اور نمائندہ ادارہ ہے

جس کے قیام کے مقاصد فروغ ِ ادب، پاکستانی زبانوں کی ترویج واشاعت، بین الاقوامی ادب کے پاکستانی زبانوں میں تراجم، ادب کے حوالے سے قومی اور بین الاقوامی سطح کی کانفرنسوں کا انعقاد،ادبی ایوراڈز، انعامات کی تقسیم ادب کے سرکاری اعزازات، سول ایوارڈزکی نامزدگیاںہی نہیں بلکہ سرکاری سطح پر ادیبوں شاعروں لکھاریوں یعنی قلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی فلاح و بہبود، اُنکے مسائل کا حل نکالنا بھی اکادمی ہی کے فرائض میں شامل ہے، جناب افتخارعارف کی سربراہی میں اکادمی ادبیات کا دوربھی ایک بہترین دور تھا، افتخار عارف ادیبوں کو عزت دینا جانتے تھے لیکن ماضی میں غیرادیبوں کے تسلط، ادبی سیاست اور اقرباء پروری کی وجہ سے مستحق ادیب و شاعراپنے حق سے محروم چلے آرہے۔شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف خشک کی بحیثیت چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان تعیناتی کو حکومت ِ وقت کی پہلی موزوں ترین تقرری قرار دیتے ہوئے ادبی حلقوں میں اطمینان اورخوشی کی لہر دوڑگئی اورڈاکٹر یوسف خُشک کو بے حد پذیرائی ملی اس پذیرائی کی اک خاص وجہ یہ بھی تھی کہ ادبی حلقے کسی بھی طور، کسی غیرادیب کو اکادمی کے سربراہ کی حیثیت سے قبول کرنے کے حق میں نہ تھے ۔پرزور مطالبہ یہی تھا کہ کسی غیر جانبدارمعتبر اوراعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے حامل ادیب یا شاعرکو یہ اہم عہدہ سونپا جائے ۔ ڈاکٹر یوسف خشک جنہیں اردو میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنیوالے پہلے پاکستانی اسکالر کا اعزازبھی حاصل ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی کو قومی سطح پر متعارف کروانے اور اسے ایک معیاری درسگاہ بنانے میں انہوں نے اہم کردارادا کیا۔ سوپاکستان اکادمی ادبیات میں ان کا تقرراکادمی کیلئے خوش آئند اور نیک شگون قرار دیتے ہوئے خوش دلی سے ان کا خیر مقدم کیا گیا ۔

ڈاکٹر یوسف خشک نے لکھاریوں کوکرونا کی تنہائی اور نفسیاتی کرب سے نکالنے اور سماجی رابطے بحال رکھنے کیلئے صحتمندانہ سرگرمیوں کے آغاز کا فیصلہ کرتے ہوئے “پاکستان امیدِ زیست ایوارڈ” کا اعلان کیا جس کے تحت وبائی صورتحال کے حوالے سے کی جانے والی شاعری کو نہ صرف اکادمی کی ویب سائٹ پر مشتہر کیا جارہاہے بلکہ بہترین تخلیقات پر شیلڈز اور سرٹیفکیٹس بھی دیے جائینگے ۔ڈاکٹر یوسف خُشک نے مثبت سرگرمیوں کا دیا جلاتے ہوئے پہلی مرتبہ پاکستان اکادمی ادبیات آن لائن قومی و بین الاقوامی ادبی تقریبات کا سلسلہ شروع کیا، آن لائن مشاعرہ اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے ۔ جناب افتخارعارف کی صدارت میں ہونے والا اکادمی ادبیات کا یہ آن لائن مشاعرہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد مشاعرہ تھا جس میں وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے مہمان ِ خصوصی کے طور شرکت کی ۔میں نے اپنی زندگی کا پہلا مشاعرہ اولڈ رائینز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے پلیٹ فارم سے جناب افتخارعارف کی صدارت میں ہی پڑھا تھا اُنکے الفاظ آج بھی مجھے خوشی دیتے ہیں ” نازآپ نے دھیرج اورسکون سے مشاعرہ پڑھا، ایسے ہی پڑھتی رہئے” یہ حوصلہ افزائی بلاشبہ میرا اعزاز تھی۔ تو بات ہورہی تھی اکادمی کے آن لائن مشاعرے کی جس میں ہم سب کے محبوب شاعر جناب امجد اسلام امجد، پروفیسر جلیل عالی، فاطمہ حسن، سیما غزل، ڈاکٹر تقی عابدی، خلیل طوقار، ڈاکٹر محمود شام، اختر رضا سلیمی ، ڈاکٹر اخترشمار، یشب تمنا، عشرت معین سیما، خالد مسعود،سید نواب حیدر نقوی، ڈاکٹر اشرف کمال، ڈاکٹر نذیر تبسم، بشریٰ فرخ ، صائمہ زیدی، ناز بٹ، مہ جبیں غزل انصاری، ناہید ورک اور شبانہ یوسف سمیت دنیا بھر سے چنیدہ شعراء کرام نے بھرپور شرکت کی ۔جناب افتخار عارف ، ڈاکٹر یوسف خُشک ، جناب شفقت محمود ، جناب جلیل عالی، محبوب ظفر اور ڈاکٹر شائستہ نزہت مشاعرے کے اختتام تک اکادمی کے ہال میں موجود رہے۔ حکومتی سرپرستی میں اکادمی میں ہونے والے آن لائن مشاعرے کی یہ اپنی نوعیت کی واحد مثال تھی ڈاکٹر یوسف خشک کے انتظامی امور قابل ِ ستائش تھے اور ڈاکٹر شائستہ نزہت کی بھرپور نظامت نے مشاعرے کی دلچسپی آخر تک برقرار رکھی ۔بعد ازاں علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی فکر و فلسفہ کی ترویج کیلئے پروفیسر فتح محمد کی صدارت میں پہلے آن لائن قومی اقبال سیمینار کا اہتمام کیا گیاجناب منیب اقبال نے جو سیمینار کے مہمان ِ خصوصی تھے علامہ اقبال کے مزار سے براہ راست سیمینار میں شرکت کی، ملک کے تمام صوبوں سے دانشوروں نے مقالات پیش کئے ۔اکٹر یوسف خشک کو یہ منصب بہت مبارک ہودعا گو ہوں کہ اکادمی کے حقیقی مقاصد کو پورا کرنے کیلئے انہیں آسانیاں میسر آئیں اور کامرانی انکا مقدر ٹھہرے۔

Naz-Butt-Nawaiwaqt