پاکستانی ڈگریوں کی چھان پھٹک کی جائے تو 52 فیصد ڈگریاں وہ ہیں جو محنت اور علم سے حاصل نہیں کی گئیں۔ یہ ڈگریاں یا تو جعلی ہیں یا پھر سفارشی

تقسیم کے بعد پاکستان کو علمی ادبی سطح پر بہت بلند مقام حاصل کرنا چاہئے تھا لیکن پاکستان علمی سطح پر گر گیا۔ سچائیاں تسلیم نہ کرنا اور حقائق کو نہ ماننا پاکستانی حکمرانوں کا وطیرہ رہا ہے۔ یہاں جعلی ڈگریوں کا چلن عام ہوا۔ آج بھی پاکستانی ڈگریوں کی چھان پھٹک کی جائے تو 52 فیصد ڈگریاں وہ ہیں جو محنت اور علم سے حاصل نہیں کی گئیں۔ یہ ڈگریاں یا تو جعلی ہیں یا پھر سفارشی اور رشوت کی بنیادوں پر حاصل کی گئی ہیں یا ان میں اقربا پروری ملوث ہے یا یہ نقالی کا نتیجہ ہیں۔ چاہے وہ ڈاکٹر ہوں انجینئر ہوں ،

وکلاء ہوں یا ایم بی اے ، ایم فل ، پی ایچ ڈی ہوں۔ زیادہ تر ڈگریاں سفارش ، رشوت اقربا پروری اور نقل سے حاصل کی گئی ہوتی ہیں۔یہی حال انجینئرنگ، طب ، قانون اور دیگر شعبوں کا ہے۔ روز چھتیں اور عمارتیں پلازے پُل گرتے ہیں۔ ہر روز ہسپتالوں اور پرائیویٹ کلینک میں لوگ سینکڑوں کی تعداد میں غیر طبعی موت مرتے ہیںکیونکہ ڈاکٹرز نے دو نمبر طریقے سے ڈگریاں حاصل کی ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ابھی تک کئی اقسام کا سلیبس چل رہا ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے لئے جامعات بھی دو طرح کی ہیں۔ ایک سرکاری اور قدیم طرز کی روایات میں رچی بسی جہاں صرف اپنے اپنے بندے تعینات کئے جاتے ہیں۔ اگرچہ اشتہار دیا جاتا ہے لیکن پہلے سے مخصوص لوگ منتخب کر لئے جاتے ہیں۔ نہ کوئی عدالت جا سکتا، نہ کوئی ایچ ایسی کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا۔ نہ کوئی ان کی پوسٹنگ کو چیلنج کر سکتا کیونکہ یہ ایک مہذب مافیا کے تحت ہوتا ہے۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے جہاں کسی بھی اعلیٰ ڈگری کیلئے پانچ چھ لاکھ روپے سے چالیس پچاس لاکھ روپے تک ادا کرنے ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں جی پی اے آسمانوں سے باتیں کرتا ہے اور عموماً ایک بھی طالبعلم ایسا نہیں ہوتا جسے اعلیٰ ڈگری عطا نہ کی جاتی ہو۔ غور طلب بات ہے کہ کیا سارے طالبعلم افلاطون ارسطو ہوتے ہیں۔ کیا سارے ہی اتنے لائق قابل ہوتے ہیں کہ ڈگری لیکر نکلیں۔ ظاہر ہے کہ یونیورسٹی فیس کے نام پر جو بڑی رقمیں وصول کرتی ہے۔ اُس پر ڈگری دینا اُس پر لازم ہوتا ہے۔ آپ اس ڈگری کے معیار کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ پرائیویٹ یونیورسٹیاں زیادہ تر وزیٹنگ فیکلٹی پر چلتی ہیں۔ وزیٹنگ پروفیسرز جو زیادہ تر انتہائی قابل ، ذہین اور لائق فائق ہوتے ہیں۔ اُنکی اعلیٰ کارکردگی پر یونیورسٹیاں چلتی اور اچھے رزلٹ پروڈیوس کرتی ہیں لیکن وزیٹنگ فیکلٹی کے ساتھ ناروا سلوک، ناانصافی اور حق تلفی کی جاتی ہے۔ اُنہیں تین گھنٹے لیکچر کا معاوضہ دو یا چار ہزار دیا جاتا ہے۔ اس میں سے بھی ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے۔نان فائلر کی صورت میں وہ چار ماہ بعد ’’جھونگا‘‘ لیکر جاتا ہے لیکن وزیٹنگ فیکلٹی سے ہر یونیورسٹی ایک ریگولر پروفیسر جتنا کام لیتی ہے۔ ایک ریگولر پروفیسر کو ہر ماہ لاکھوں کی ادائیگی ہوتی ہے چاہے وہ پڑھائے یا نہ پڑھائے…مگر وزیٹنگ پروفیسر تین گھنٹے مسلسل کھڑے ہو کر پڑھاتا اور یونیورسٹی کی تمام ذمہ داریاں ادا کرتا ہے لیکن اُسے چار یا چھ ماہ بعد ایک حقیر ترین رقم ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے بلکہ بعض یونیورسٹیاں تو پورا سمیسٹر پڑھانے کی ادائیگی اپنی جان کو رُو رُو کر دس ماہ یا سال بعدکرتی ہیں۔ ایچ ای سی نے ایسی فرسودہ شرائط رکھی ہیںجن کی وجہ سے اعلیٰ اذہان، غیور اور انا پرست افراد سرکاری یونیورسٹیوں میں سلیکٹ نہیں ہوتے مثلاً اتنے ریسرچ پیپرز ہوں، فلاں یونیورسٹی میں اتنے سال پڑھانے کا تجربہ ہو۔ جب آپ کسی کو کالج یونیورسٹی میں پڑھانے کا موقع نہیں دینگے تو تجربہ کہاں سے آئیگا۔ ریسرچ پیپرز یونیورسٹیاں صرف اپنوں اپنوں کے چھاپتی ہیں یا اُن کے جو آ کر خوشامد کریں۔ گِٹے گوڈے چھوئیں۔ ان ریسرچ پیپرز کودیکھیں جن میں وہی گھِسی پٹی اور نقل شدہ چیزیں ہوتی ہیں۔ کسی ایک یونیورسٹی کے جرنل میں ایک بھی حقیقی ریسرچ آرٹیکل نکال کر نہیں دکھا سکتے۔ اصولاً ایچ ای سی کو جامعات پر کنٹرول ہونا چاہئے کہ وہ کیا کر رہی ہیں۔ وہ بابے اور بابیاں جو پچاس سال سے گھِسے پٹے آرٹیکلز لکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ اُن کے آرٹیکلز تو شائع ہی نہیںہونے چاہئیں۔ نئے لوگ ، نئے اذہان ، نئے خیالات آنے چاہئیں۔ ایچ ای سی کو خود چاہئے کہ جو لوگ ڈاکٹریٹ کرتے ہیں ، اُن کے روزگار کا بندوبست کرے اور اُنہیں پاکستانی جامعات کے آلۂ کاروں کی تحقیر سے بچائے۔ یونیورسٹیوںمیں جو کچھ ہوتا ہے اگر ایچ ای سی اپنا فعال کردار ادا کرے تو مافیا سسٹم ٹوٹے اور اعلیٰ تعلیمیافتہ طبقہ تباہ ہونے سے بچے۔اعلیٰ اذہان سے تو آپ فائدہ نہیں اٹھاتے…پھر یہ ملک کیا خاک ترقی کرے گا؟
Dr-Arifa-Subah=Khan-nawaiwaqt