وہ ملتان میں تھے۔ میں انکے پاس سرکٹ ہائوس میں بیٹھا ہوا تھا کہ میاں شہباز شریف کا فون آ گیا

میاں نواز شریف دو بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ محترمہ بے نظیر کے ساتھ انکی ہمیشہ اَن بن رہی۔ باوجود شدید کوشش اور خواہش کے وہ انہیں ہٹا نہ سکیں۔ میاں صاحب نے بھی عدم اعتماد کی زمین ہموار کی جو بظاہر تو کامیاب نہ ہو سکی لیکن تین ماہ کے قلیل عرصے میں ہی کسی اور طریقے سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو گئے۔ میوزیکل چیئرز کا یہ کھیل طویل عرصے تک چلتا رہا۔

ہر دو حکمران آتے جاتے رہے، بطور وزیراعلیٰ میاں صاحب خاصے کامیاب رہے۔ اس وقت انکے متعلق مشہور تھا کہ وہ اچھے دوست اور بُرے دشمن ہیں۔ دوستی نبھاتے ہیں اور دشمنی کے طور طریقے بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ بعد میں تجربے کی بنیاد پر ، افتاد طبع کے ہاتھوں یا کسی چانکیہ ٹائپ مشیر کے مشورے پر انہوں نے اپنی پرانی روش ترک کر دی۔ اقتدار کی کھٹنائوں میں طویل عرصہ تک چلتے چلتے ’’راج نیتی‘‘ کے گُر سیکھ لیے۔ کسی شخص کو کہاں، کب تک استعمال کرنا ہے۔ آنکھیں کب ماتھے پر رکھنی ہیں ۔ وفاداروں کو کیسے چلتا کرنا ہے ۔ یہ سب باتیں آداب حکمرانی کا جزولاینفک ہیں۔ جب یہ بات واضح ہو گئی کہ میاں صاحب کی مرکز میں ترقی ہونے والی ہے تو انہوں نے میاں چنوں کے بودلوں کے منشی غلام حیدر وائیں کو اپنا جانشین مقرر کردیا۔ غلام حیدر وائیں نہ صرف درویش منش انسان تھا بلکہ معاشی طور پر بھی اس کا شمار فقرا کے زمرے میں ہوتا تھا۔ مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے آیا ہوا ایک کٹڑ مسلم لیگی جس کا اپنا کوئی گھر نہ تھا۔ اس سے زیادہ ایماندار ، غریب وزیراعلیٰ پنجاب کی تاریخ میں کبھی نہیں آیا۔ اس دوران اگر بھولے سے کوئی ملاقاتی آ جاتا تو اسکے پاس اسے بٹھانے کی جگہ نہ تھی۔ مسلم لیگ ہائوس کو کھول کر ا کی روکھی پھیکی آئو بھگت کی جاتی۔ اسکے دفتر کے دروازے ہر آدمی کیلئے ہر وقت کھلے رہتے۔ رحم ، عفو اور برداشت اسکی سرشت میں کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے سکندر بوسن نے اسے کسی بات پر تھپڑ مارا تھا۔ وہ گھبرایا ہوا میرے پاس آیا۔ بولا۔ مجھ سے انتقام لے گا۔ معافی دلوا دیں! میں نے وائیں صاحب سے ذکر کیا تو بولے۔ میں نے تو اسے اسی لمحے معاف کر دیا تھا۔ اب کس بات سے ڈر رہا ہے؟ شیخ ریاض پرویز ریذیڈنٹ ایڈیٹر نوائے وقت ملتان نے کسی بات پر انہیں گالیاں دے ڈالیں۔ وائیں صاحب کانوں تک سُرخ ہو گئے مگر جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ وائیں صاحب کو تقریر کرنے کا بڑا شوق تھا۔ نواب زادہ نصر اللہ خان نے طنز کیا۔ وائیں کے اشعار میں وزن نہیں ہوتا۔ شعر کی یا تو ٹانگ توڑ دیتے ہیں یا کان مروڑتے ہیں…ایک مرتبہ ملتان کسی جلسے میں تقریر کرنے آئے تو میں نے ائیر پورٹ پر موقع کی مناسبت سے چٹ پر چند شعر لکھ کران کے حوالے کئے۔ پڑھ کر غصے سے بولے تمہیں اب خیال آیا ہے جبکہ نواب زادہ ہاتھ دکھا گیا ہے۔ شاہ محمود اس وقت صوبائی وزیر خزانہ تھا۔ وہ شاکی رہتا تھا کہ وزارت علیا اس کاحق تھا لیکن میاں صاحب نے ہار ایک منشی کے گلے میں ڈال دیا ہے۔ باایں ہمہ وائیں صاحب نے کبھی بُرا نہ منایا، اس کو مرتبے کے مطابق عزت دی۔ وائیں صاحب اردو زبان سے محبت کرتے تھے اور اسے قومی زبان سمجھتے تھے۔ انہوں نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کی روسے تمام سمریاں اردومیں بھیجنے کا کہا گیا۔ اس پر سیکرٹریٹ کی غلام گردشوں میں صدائے احتجاج بلند ہوئی انہیں ’’اَن پڑھ‘‘ وزیراعلیٰ کہا گیا۔ ان تمام ہرزہ سرائیوں کا اس مرد قلندر پر کیا اثر ہونا تھا۔ جتنا عرصہ وہ وزیر اعلیٰ رہے ، سمریاں قومی زبان میں لکھی گئیں۔

منیر نیازی نے کہا تھا عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا۔ میاں صاحب نے سوچ سمجھ کروائیں کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا۔ وزیر وہ تھامگر اختیارات چھوٹے میاں صاحب استعمال کرتے تھے۔ پوسٹنگ ٹرانسفرز، ترقیاں ،تادیبی کارروائی، سب طبل و علم کے یہ مالک و مختار تھے۔ وائیں صاحب نے کبھی اعتراض نہ کیا۔ البتہ جس چیز پر اڑ جاتے یا جس کو صریحاً غلط سمجھتے کبھی سمجھوتہ نہ کرتے۔ اس بات کو سمجھنے کیلئے دو مثالیں کافی ہونگی۔ اس وقت مسلم لیگ کے اکثر ایم ۔ این ۔ اے اور ممبران صوبائی اسمبلی دو دو عہدے سنبھالے بیٹھے تھے۔ یعنی ضلع کونسل یا کارپوریشنوں کی چیئرمینی بھی ان کے پاس تھی۔

وائیں صاحب نے فیصلہ کیا کہ بیک وقت یہ دو عہدے نہیں رکھے جا سکتے۔ انہوں نے لوکل باڈیز الیکشن کااعلان کر دیا۔ اس پر صدائے احتجاج بلند ہوئی۔ وہ ملتان میں تھے۔ میں انکے پاس سرکٹ ہائوس میں بیٹھا ہوا تھا کہ میاں شہباز شریف کا فون آ گیا۔ بولے۔ ساٹھ مسلم لیگی ممبران اسمبلی وزیر اعظم کوملے ہیں اور انہوں نے احتجاج کیا ہے۔ آپ لوکل باڈیز الیکشن روک دیں۔ وائیں صاحب نے بڑے مودبانہ انداز میں میاں شہباز کو سمجھانے کی کوشش کی۔ بحث طول پکڑ گئی۔ شہباز شریف زچ ہو کر بولے ۔ وائیں صاحب یہ تو آپ کو کرنا پڑیگا۔ اس پر اس کمزور انسان کا لہجہ یکدم بدل گیا ۔ فیصلہ کن انداز میں بولے میاں صاحب ، کوئی دوسرا وزیر اعلیٰ لے آئیں۔ میرے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں! میرا خیال تھا ، سَر آمد روزگارے ایں فقیرے۔ لیکن بالآخر میاں برادران کو وائیں کی ہاں میں ہاں ملانا پڑی۔ دوسرا واقعہ اس سے بھی دلچسپ تھا۔انور زاہد سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر نے D.O لکھا کہ چودھری بشیر حسین طاہر کو کمشنر تعینات کر دیا جائے۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ ممتاز جوئیہ نے ڈی ۔ سی گوجرانوالہ لگنے کی کوشش کی۔ کامونکے کے وزیر چودھری نذیر کے توسط سے وزیراعظم سے بھی کہلوایا۔ وائیں صاحب بولے۔ میاں اس کو پٹواری لگانے کیلئے بھی تیار نہیں۔ میرے ملتان میں تین سال پورے ہو چکے تھے۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ فی الفور ڈی ۔ سی گوجرانوالہ کا چارج سنبھال لوں۔ منظور وٹو محلاتی سازشوں کے سبب وزیر اعلیٰ بنا۔ ہمہ مقتدر حلقے میاں صاحب سے ناخوش تھے۔ چنانچہ غلام اسحٰق خان نے انہیں 58-2-B کے تحت برطرف کر دیا۔ راتوں رات تمام ممبران صوبائی اسمبلی کو اسلام آباد بلایا گیا اور وائیں پر عدم اعتماد کر کے اسپیکر صوبائی اسمبلی میاں منظور وٹو کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا۔ میاں منظور وٹو تھوڑے سے وقفے کے بعد تھوڑے عرصے کیلئے دو دبار وزیر اعلیٰ بنا۔ اس کا کمال یہ تھاکہ بارہ ممبروں کے ساتھ وہ محترمہ بے نظیر کو بلیک میل کر کے وزیر اعلیٰ بن گیا۔ اس کے دور کا کوئی قابل ذکر واقعہ نہیں ہے۔ سو ائے اس کے کہ میاں صاحب کی ہر سیاسی چال کو اس نے ناکام بنا دیا۔

سردار عارف نکئی جتنا عرصہ وزیر اعلیٰ رہا اسے COMIC RELEIF ہی کہا جا سکتا ہے۔ آخری مغلوں کے زمانے میں مشہور تھا کہ شاہ عالم دلی تا پالم۔ یہ بھی صرف ضلع قصور کی حد تک وزیر اعلیٰ تھا۔ باقی ہر کام پیپلز پارٹی کے ہرکارے کرتے تھے۔ بے نظیر کو کہہ کر اس نے خصوصی مراعات حاصل کی تھیں کہ پتوکی میں تھانیدار اور تحصیل دار اس کی مرضی کے مطابق تعینات ہونگے۔ قیاس کن گلستان من بہار مرا۔

Shokat-Ali-Shah-Nawaiwaqt