کافرستان -حسیناؤں کا دیس کیلاش

#کافرستان حسیناؤںکادیسکیلاش_

اس قدر ترقی یافتہ ہونے کے باوجود انسان بہت سے رازوں سے پردہ اٹھانے سے آج بھی قاصر ہے اور شاید ہمیشہ رہے۔ انہی چند رازوں میں سے ایک کچھ اقوام کی بھی ہے جو شائد ازل تک ایک سربستہ راز ہی رہے۔ انہی رازوں میں ایک چند وہاقوام جن کے ارتقا ء کے بارے میں ہمارا علم آج بھی ناقص ہے ان میں روسی، پروشیائی، کاسک/قازق، پارسی، خانہ بدوش اور کیلاشی قبائل سرفہرست ہیں۔

#کیلاش

کیلاش پاکستان کے انتہائی شمال مغربی حصے میں واقع ایک ایسا انتہائی خوبصورت علاقہ ہے جو تین بڑی وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریرپر مشتمل ہے۔ کیلاش وادی کی تاریخ ہزاروں سال قدیم ہے اورآج بھی کیلاش کی تہذیب اور ثقافت کے لاتعداد صفحات ایسے ہیں جو باقی دنیا سے پوشیدہیں ۔ سیاح چترال سے تقریباً تین گھنٹوں کی دشوار مسافت طے کر کے کیلاش پہنچ سکتے ہیں۔ راستہ تھوڑا پرخطر اور سنسا ن ہے جو آپ پر ایسی کیفیت طاری کر دیتا ہے جو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

#مذہبی_عقائداوررسومات

وادی کیلاش کے زیادہ تر لوگ آج بھی اپنی صدیوں پرانی ثقافت ، تہذیب اور روایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وادی کیلاش کی خوبصورتی کے علاوہ کیلاشی قبائل کی صدیوں پرانی ثقافت، تہذیب اور روایاتپوری دنیا کے سیاحوں کو کیلاش کی طرف اپنی توجہ مبذول کرواتی ہے۔ یہ وادی اپنی خوبصورتی کے علاوہ تاریخی پس منظر اور حیثیت رکھتی ہے کہ وادی کے لوگ مختلف ادوار میں مختلف مذاہباختیار کرتے رہے ہیں جن میں بدھ مت اور ہندومت زیادہ قابل ذکر ہیں۔ اگرچہ اب کیلاش قبیلے کی ایک بہت بڑی تعداد مسلمان ھو چکی ہے۔

#تہوار

#چلمجوش یا #چلمجوشٹ

کیلاش کے مختلف تہواروں میں سے چلم جوش جسے مقامی لوگ “چلم جوشٹ” بھی پکارتے ہیںسب سے اہم اور خوبصورت ہوتا ہے جس کو دیکھنے کے لیے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا سے لوگ کیلاش کا سفر کرتے ہیں۔ موسم بہار کے آغاز سے پہلے ہی چلم جوش کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ تہوار کے آخری تین دنوں میں جبتمام کیلاشی بمبوریت میں اکٹھے ہوتے ہیں اور جشن منایا جاتا ہے۔

#اچل

یہ تہوار کیلاش میں گندم اور جو کی کٹائ کے موسم میں ہوتا ہے۔ ان دنوں میں خصوصی طور پر رقص اور کھانے پینے کی محافل کا انتظام کیا جاتا ہے۔

#چاؤماؤس

چاؤ ماؤس کیلاشی قبائل کا سب سے بڑا تہوار ہوتا ہے جو کہ نئے سال کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ چاؤ ماؤس کی تقریبات کا آغاز دسمبر کے آخری ہفتے میں ہو جاتا ہے۔


کیلاشی قبائل میں خواتین بہت اہم اور منفرد مقام رکھتی ہیں۔ کیلاشی خواتین روزمرہ کے گھریلو کاموں کے علاوہ کاشتکاری، مویشیوں کی دیکھ بھال کرنے میں بھی پیش پیش ہوتی ہیں۔ عمومی طور پر خواتین کالا لباس، مخصوص قسم کے ہار اور ٹوپیاں پہنتی ہیں جو مقامی طور پر ہی تیار کی جاتی ہیں۔چلم جوش کے آخری دن لڑکے اور لڑکیاں اپنا جیون ساتھی منتخب کرتے ہیں۔ اور موقع پر ہی ان کی شادی کی رسومات ادا کر دی جاتی ہیں۔

#موت_کاجشن

کیا آپ کو معلوم ہے کی وادی کیلاش میں کسی مردکی موت پر تین روز تک جشن منایا جاتا ہے۔
کسی گھر میں نئے بچے کی پیدائش پر جشن منانا تو دنیا بھر میں عام سی بات ہے، مگر پاکستان کے کیلاش علاقے میں اگر کوئی مرد مرجائے تو یہاں تین روز تک جشن منایا جاتا ہے۔ ہے نا حیرت کی بات۔ ۔ ۔؟
’کافرستان‘ نامی وادی کیلاش میں اگر کسی مرد کی وفات ہوجائے تو تین دن تک اسکی موت پر جشن منایاجاتا ہے۔ اسے ’چیک تہوار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کیلاش میں مرد کے مرنے پر تین روزہ جبکہ خاتون کے مرنے پر ایک روزہ جشن منانے کا رواج ہے۔
یہی نہیں۔ اس جشن کو منانے کے لیے، 50 سے 100 بکرے بھی ذبح کئےجاتے ہیں، جسکا گوشت کیلاش کے قبائلی افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ کیلاش کے اس منفرد تہوار میں کھانے پینے کی اشیا جس میں دیسی گھی اور دیگر روایتی پکوان پیش کیے جانے کے علاوہ، ہوائی فائرنگ بھی کی جاتی ہے۔
مرنے والے شخص کو روایتی ٹوپی پہنائی جاتی ہے، جسمیں 100روپے، پانچ سو اور ہزار ہزارکے نوٹ لگائے جاتے ہیں اور خشک میوہ جات کے ڈبے رکھےجاتے ہیں؛ جبکہ میت کے قریب اس کے قریبی عزیز و رشتے دار بیٹھتے ہیں اور باقی قبیلے کے تمام افراد رقص پیش کرتے اور روایتی نغمے گاتے ہیں۔

کیلاش قبیلے کے اس تہوار کا مقصد جدا ہونے والے کو خوشی خوشی رخصت کرنا ہوتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کچھ ماہ پہلے کیلاش قبیلے کے 120 سالہ ‘جوشاہ’ نامی قبیلے کے فرد کے انتقال پر ’چیک تہوار‘ منایا گیا، جس میں 50 سے 100 بکرے ذبح کئےگئے اور موت پر جشن کا سماں رہا۔
مرنے والے کے قریبی مرد رشتہ داراپنا سر منڈوالیتے ہیں۔ اور بیوہ کو سات دن تک الگ تھلگ کمرے میں رکھا جاتا ہے۔کیلاش ماضی میں مردوں کو کھلے تابوت میں رکھ کر آبادی سے باہر چھوڑ آتے تھے لیکن اب وہ مردے کو دفن بھی کرنے لگے ہیں ۔ مردے کے ساتھ دودھ ،شہد اور بعض اوقات بندوق بھی دفن کی جاتی ہے۔ کیلاش لوگوں کے رنگوں سے بھرے یہ رسم و رواج یقیناً دنیا بھر کے لئے حیرت انگیز ہیں۔ چترال کی کیلاش وادی اپنی نوعیت کی ایک حسین وادی تصور کیجاتی ہے، جہاں بسنے والے کیلاش لوگ اپنے منفرد تہواروں کے باعث پاکستان بھر سمیت دنیا میں بھی شہرت رکھتے ہیں۔ کیلاش کی ان ہزاروں سال پرانی قبائلی روایات و تہذیب کو دیکھنے کے لئے لوگ دنیا بھر سے یہاں آتے ہیں

writer Afifa Zehra