عمران خان مین آف 2020ء

اردن کے رائل اسلامک سٹریٹجک سٹڈیز سنٹر نے وزیراعظم عمران خان کو سال 2020کا ’’ مین آف دی ایئر‘‘ قرار دیا ہے ، عمران خان دنیا بھر میں بااثر مسلمانوں کی سنٹر کی طرف سے جاری لسٹ میں ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوئے ، پاکستان کے وزیراعظم ٹوئٹر پر بھی ساڑھے 10ملین فالوورز کیساتھ دنیا کے چھٹے معروف رہنماہیں۔ انتخاب کرنیوالے پروفیسر کا کہنا تھا

کہ انتخاب کے وقت کرائٹیریا صرف عمران خان کی کرکٹ نہیں تھی ،کینسر کے مریضوں کیلئے ہسپتال اور تحقیق کیلئے عمران خان کی کامیاب چندہ مہم سے بھی وہ متاثر ہیں، عمران خان کی پڑوسی ملک انڈیا کیساتھ امن کی بھی خواہش تھی جس نے انہیں یہ اعزاز دلایا۔ان کی مختلف مقامات پر مصروفیات، سادگی یا پھر انکے موقف کی وجہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک رہنمائوں میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ پر بھی سرچ ہوتے رہے۔سنٹر نے امریکی کانگریس کی خاتون راشدہ طلیب کو مسلم ویمن آف دی ایئر2020 قراردیا، وہ پہلی فلسطینی امریکی خاتون اور جوائنٹ فرسٹ مسلم خاتون ہیں۔ عمران خان کا یہ کریڈٹ ہے کہ اگست 2018ء میں وزارت عظمیٰ کاچارج سنبھالتے ہی انہوں نے یہ واضح کیا کہ انکی ترجیحات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قیام امن کیلئے انڈیا کیساتھ کام کریں، وہ تجارت اور مسئلہ کشمیر کے حل سے تعلقات کو معمول پر لاناچاہتے ہیں، اسکے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد عمران خان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔یہ پاکستان کیلئے اعزاز ہے ، پاکستان کے عوام کیلئے ایوارڈ ہے اور یہ وہ ایوارڈ ہے جس کی عمران خان نے خواہش کبھی نہیں کی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ کے حالات کو عمران خان نے کوئی لچک دکھائے بغیر ڈی فیوز کیا۔ انہوں نے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کو وقوع پذیر ہونے سے بہترین سفارتکاری کے ذریعے روکا اور پھر افغانستان میں امن کیلئے ان کا کردار روزِ روشن کی طرح عیاں اور پوری دنیا اس کی معترف ہے۔طالبان اور امریکہ دو انتہاؤں پر تھے۔ دونوں مذاکرات کیلئے ناقابلِ عمل شرائط رکھ رہے تھے۔ امریکہ مذاکرات کیلئے طالبان سے ہتھیار نیچے رکھنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور طالبان کی مذاکرات کیلئے مکمل انخلا کی شرط تھی۔بظاہر امریکہ اور طالبان کا مذاکرات کی میز پر آنا آگ اور پانی کے ملاپ کے مانند تھا۔ عمران خان نے اس ناممکن کو بھی ممکن بنا کر دکھا دیا۔ آج امریکہ طالبان امن معاہدہ بھارت اور افغان انتظامیہ کی سازشوں کے باوجود بروئے عمل ہے۔ عمران خان کو عالمی امن کیلئے کامیاب کاوشوں پر امن نوبل پرائز کیلئے نامزدگی کے عالمی سطح پر مطالبات ہونے لگے تھے۔ اس پر عمران خان کی طرف سے واضح کیا گیا کہ وہ نوبل انعام کے امیدوار نہیں ہیں۔ انکی پاکستان میں عوامی سطح پر اسکے باوجود بھرپور پذیرائی ہو رہی ہے کہ سیاسی اور کچھ صحافتی حلقے انکی شدید مخالفت کر رہے ہیں’’سٹیٹس کو‘‘ پسند قوتوں کیلئے عمران خان کی شخصیت انکے روایت شکن اور نقشِ کہن مٹانے کے عزم و ارادوں کے باعث ناقابلِ برداشت ہے۔ عمران خان کو علم ہے کہ ان حکومت کو یہ قوتیں عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہیں مگر وہ کسی قسم کے کمپرومائز پر تیار نہیں۔ کڑے احتساب کا اٹل فیصلہ کئے ہوئے ہیں۔کرپشن اور کرپٹ عناصر کیلئے زیرو ٹالرنس رکھتے ہیں۔انکی نیت صاف اس لیے قدرت کاملہ بھی ان پر مہربان ہے۔ عمران خان کی صلاحیتوں کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔

کرونا کے حوالے سے انکے اقدامات کو بڑے بڑے ممالک نے فالو کیا ہے۔ کرونا کے متاثرین تک ریلیف پہنچانے کیلئے فورس بناناجسے ٹائیگرفورس کا نام دیا گیا۔ عمران خان کا نظریہ اورانیشی ایٹو تھا جسے امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اپنایا۔کرونا کی تباہ کاریوں کے پیشِ نظر کسی ملک میں کرفیو لگایا گیا اور کسی نے کوئی پابندی نہیں لگائی۔ عمران خان نے ایسے لاک ڈاؤن کی ضرورت پر زور دیااور یقینی بنایا جس سے سوشل ڈسٹنس برقراررہا اور زندگی مکمل جمود سے بھی محفوظ رہی۔ مساجد میں اجتماعات میں کمی پر عوام کو آمادہ کرنا بھی عمران خان کے پلس پوائٹنس میں شامل ہوتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو زبوں حالی سے نکال کر حکومت مضبوط خطوط پر استوار کررہی تھی کرونا نے ایک بار پھر انحطاط سے دوچار کردیا،عمران خان نے عالمی برادری سے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے قرضے ،ری شیڈول کرنے کی درخواست کی جس پر شنوائی ہوئی اور 71ممالک کو بہت بڑا ریلیف مل گیا ۔پاکستان کیلئے بھی بہتر خبریں آرہی ہیں۔بارہ ارب ڈالر کی ادائیگی موخر ہوئی اور سعودی عرب بیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کرنے کا سلسلہ شروع کررہا ہے۔ پاکستان کی اگلے تین سال کے بجٹ کی پریشانی بھی دور ہوگئی ہے۔ایسا کوئی سٹیٹس مین ہی کرسکتا ہے
M-Yaseen-Wattu-nawaiwaqt