جب مولانا طارق جمیل استقبال کیلئے واہگہ بارڈر تشریف لائے۔

2018کا تبلیغی اجتماع شروع ہو چکا تھا پوری دنیا سے اللہ کریم سے محبت کرنے والے رائیونڈ مرکز میں جہاں سے دنیا کے تقریباً 190ممالک میں اللہ کی واحدانیت کا پیغام لے کر اللہ کی خوشنودی حاصل کر کے اپنی آخرت کیلئے زادِ راہ اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کے کونے کونے میں اسلام کی شمعیں روشن کر کے اللہ کے حبیب ﷺ کو راضی کرنے کیلئے تبلیغ کا کام جاری و ساری ہے وہیں جوق دَر جوق حج کے بعد سب سے بڑے اجتماع میں عالمِ اسلام اور دین کی فکر لیکر اجتماعی دعا میں شمولیت کیلئے مہمانوں کی آمد جاری تھی۔

میں اس وقت پاکستان ٹور ازم کو دیکھ رہا تھا ۔ میں نے ٹورازم کو مختلف سیکٹر ز میں تقسیم کیا اور ٹورازم کے سب سے اہم حصے مذہبی ٹورازم کو پروموٹ کرنے کیلئے جو اللہ کے مہمان ہندوستان سے آرہے تھے ان کا استقبال کرنے کیلئے جناب مولانا طارق جمیل صاحب جو دورِ حاضر میں دنیا کے سرکردہ مذہبی سکالر ہیں انہیں درخواست کی کہ ہم اپنے مہمانوں کا استقبال واہگہ بارڈر پر کریں انہوں نے مہربانی فرمائی اور وہ استقبال کیلئے واہگہ بارڈر تشریف لائے۔یہ میری زندگی کا اہم دن تھا جب میں اللہ کی رضا کیلئے ہندوستان سے آئے ہوئے تبلیغی جماعت کے اکابرین کو جناب مولانا طارق جمیل صاحب کے ساتھ گلدستے پیش کر رہا تھا۔ جب واہگہ بارڈر پر واقع پاکستان ٹورازم کے ہوٹل میں چائے کیلئے مہمانوں کے ساتھ آئے تو ہمارے ٹوراز م کے ایک ملازم جو کہ کرسچن تھے مولاناسے مخاطب ہو کر کہنے لگے جناب میں کرسچن ہوں مگر میں مختلف چینلز پر آپ کے خطابات سُن کر تین دن تبلیغی جماعت کے ساتھ لگا کر آیا ہوں ۔


اللہ کریم ہر صدی میں دین فطرت کی سر بلندی کیلئے دنیا میں اپنے خاص بندوں سے کام لیتا ہے ۔دورِ حاضر میں جناب مولانا طارق جمیل صاحب کا نام بھی انتہائی معتبر ہے جن کی بات مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم بھی سنتے ہیں اور بہت سے لوگوں نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے ہم نے کبھی ان سے تفرقے کی بات نہیں سنی بلکہ ہمیشہ جوڑنے کی بات کرتے ہیں ۔اللہ کی رحمت سے کبھی غیر مسلموں کو بھی مایوس نہیں کرتے بلکہ انہیں بھی یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ آجائو اللہ آپکا منتظر ہے ۔مولانا صاحب نے پاکستان میں تبلیغی مرکز سے شروع ہو کر اقتدار کے ایوانوں سے لیکر عدلیہ، بیوروکریسی ، شیعہ اور اہلِ حدیث کے مراکزکے علاوہ فلمی دنیا سے وابستہ بہت سی آرٹسٹوں کے سر پر بیٹی بنا کر ہاتھ رکھا بلکہ پوری دنیا میں یورپ، امریکہ سے لیکر کینیڈا کے اندر ہر سال بہت بڑے اجتماع میں اللہ اور ان کے حبیب ﷺ کی محبتیں بانٹتے نظر آتے ہیں ۔عمران خان صاحب نے جب ریاستِ مدینہ کی بات کی جو کہ پاکستان میں پہلی دفعہ سنی گئی تو اس کو مولانا نے سراہاکہ پاکستان دراصل بنا ہی آقا کریم ﷺ کے ایجنڈے پر ہے ۔آج صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا اس وقت اپنے گناہوں اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب میں مبتلا ہے ۔ دنیا میں ہر طرف افراتفری کا عالم ہے مگر افسوس آج بھی دنیا راہِ راست پر آنے کی بجائے کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے کا نعرہ جہالت لگا نے سے باز نہیں آرہی گھروں میں قید ہیں سب کچھ مٹی ہو گیا اور اندر سے بیٹھ کر کہہ رہے ہیں کہ” ڈرنا نہیں لڑنا ہے”۔

وزیر اعظم پاکستان رات دن اچھی حکمتِ عملی کے ساتھ اللہ سے معافی مانگ کر قوم کو اس عذاب سے نکالنے کیلئے کوشاں ہیں بلکہ اپنے ساتھ لائیو TVچینلز پر بیٹھ کر میڈیا اینکرز سے یہاں تک سن رہے ہیں کہ کیا ہم آپکا گریبان پکڑیں یا کسی اور کا ۔ یہ انتہائی زیادتی ہے ۔ اسی دوران مولانا طارق جمیل صاحب کو دعا کیلئے درخواست کی جاتی ہے سارا پاکستان اور دنیا میں جہاں جہاں لوگ TVدیکھ رہے تھے وہ آپ کے ساتھ آمین کہہ رہے تھے اور کونسی وہ آنکھ تھی جو اپنے آنسو روکنے میں کامیاب ہوئی ہو۔اللہ کریم سن رہے تھے۔کیا اللہ کریم سے جب وہ غضب کی حالت میں ہوں چھوٹی سی عذاب کی جھلک دکھا چکے ہوں تو اللہ سے بہت نیک پاک بن کر مانگا جائے یا اپنے گناہوں کو سامنے رکھ کر جھولی پھیلائی جائے ۔

بہت اچھا پروگرام تھا لگتا تھا آج اللہ ان آنسوئوں کو بیکار نہیں جانے دے گاکہ یکایک ایسی آوازیں بلند ہوئیں کہ سب کچھ برباد کر کے رکھ دیا اور پھر اللہ کے ایک ولی سے معافی منگوا کر نہ جانے کس کو راضی کرنے کا ذریعہ بنے ۔اگر پوچھ لیا جاتا کہ کس چینل کے مالک نے یہ سب کچھ کہا تو شاید کسی اپنے کا نام ہی سامنے آتا مگر مولانا صاحب نے پھر پردہ رکھا اور اپنے اللہ کو راضی کر لیا۔مولانا طارق جمیل صاحب نفاست پسند اور صلح جُو انسان ہیں وہ خالصتاً مذہبی آدمی ہیں سیاسی آدمی نہیں ہیں اس لیے ان سیاسی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے انہوں نے معافی مانگ کر بات ختم کی۔لیکن اگر مولانا طارق جمیل کی جگہ ایسی بات کسی سیاسی پارٹی کے راہنما نے کی ہوتی تواُلٹا معافی منگوانے والوں کو اپنی جان چھڑانا مشکل ہوجاتی۔ہمارے مُلک کاایک طبقہ بہت باکمال ہے کبھی محسنِ پاکستان سے معافی منگوا کر کبھی اللہ کے ایک ولی سے معافی منگواکراپنی انا کو تسکین دیتا ہے۔ان لوگوں کے مطابق شاید مولانا طارق جمیل صاحب کو دعا یوں مانگنی چاہیے تھی:۔مولانا طارق جمیل صاحب ایک بڑے زمیندار راجپوت گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اگر وزیر اعظم صاحب سوچیں تو یہ معافی مولانا طارق جمیل صاحب سے نہیں ان سے منگوائی گئی ہے ۔ وزیراعظم صاحب اپنی ٹیم کو کہیں کہ چیزوں کو اچھے طریقے سے مینج کرنا سیکھیں ۔ مولانا طارق جمیل صاحب سے معافی منگوا کر خوش ہونے والے ضرور سوچیں کہ انہوں نے کونسی غلط بات کی تھی جس کا برا مان گئے ۔ ذرا اپنے ضمیر کی عدالت میں جائیں اور وہاں سے فیصلہ لیں کہ وہاں غلط فیصلے نہیں ہوتے ۔جناب وزیر اعظم صاحب سُلطان ٹیپو کہا کرتے تھے :۔

تم مجھے دوستوں سے بچائو

میں تمہیں دشمنوں سے بچائوں گا

Ch-Abdul-Ghafoor-Nawaiwaqt