سَر درد کی گولی کے “سائیڈ ایفیکٹس” تو جان لیں!

ادب میں‌ جہاں سیاست سے سماج تک ہر شعبے میں عام مسائل اور مختلف خامیوں اور برائیوں کی نشان دہی کے لیے نثر نگاروں نے طنز و مزاح کا سہارا لیا ہے، وہیں، شعرا نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔

انور مسعود پاکستان کے ممتاز مزاح گو شاعر ہیں۔ یہاں ہم ان کی ایک مزاحیہ نظم پیش کررہے ہیں جو ایک طرف تو آپ کو مسکرانے پر مجبور کردے گی، اور دوسری جانب یہ غیر ضروری اور معمولی شکایت کی صورت میں ادویہ کے استعمال کی حوصلہ شکنی بھی کرتی ہے۔

اگر صرف سَر درد کی بات کی جائے تو اکثر اسکرین کے سامنے مسلسل اور زیادہ وقت گزارنے، موسمی اثرات جیسے تیز دھوپ میں رہنے کی وجہ سے بھی سَر میں بھاری پن اور درد محسوس ہوسکتا ہے، اور یہ کیفیت کچھ دیر بعد ختم ہوجاتی ہے، لیکن بعض لوگ درد کُش ادویہ کے ذریعے مسئلے سے فوری نجات چاہتے ہیں جس سے بچنا چاہی
اگر چند گھنٹوں کے آرام سے مسئلہ حل نہ ہو اور آپ سمجھتے ہوں کہ اس سَر درد کی کوئی خاص وجہ ہے تو مستند معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

اب آپ اس مزاحیہ کلام سے لطف اندوز ہوتے ہوئے “ازخود” علاج کی صورت میں پیدا ہونے والے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرسکتے ہی
ر درد میں گولی یہ بڑی زود اثر ہے
پر تھوڑا سا نقصان بھی ہو سکتا ہے اس سے

ہو سکتی ہے پیدا کوئی تبخیر کی صورت
دل تنگ و پریشان بھی ہو سکتا ہے اس سے

ہو سکتی ہے کچھ ثقلِ سماعت کی شکایت
بیکار کوئی کان بھی ہو سکتا ہے اس سے

ممکن ہے خرابی کوئی ہو جائے جگر میں
ہاں آپ کو یرقان بھی ہو سکتا ہے اس سے

پڑ سکتی ہے کچھ جلد خراشی کی ضرورت
خارش کا کچھ امکان بھی ہو سکتا ہے اس سے

ہو سکتی ہیں یادیں بھی ذرا اس سے متاثر
معمولی سا نسیان بھی ہو سکتا ہے اس سے

بینائی کے حق میں بھی یہ گولی نہیں اچھی
دیدہ کوئی حیران بھی ہو سکتا ہے اس سے

ہو سکتا ہے لاحق کوئی پیچیدہ مرض بھی
گردہ کوئی ویران بھی ہو سکتا ہے اس سے

ممکن ہے کہ ہو جائے نشہ اس سے ذرا سا
پھر آپ کا چالان بھی ہو سکتا ہے اس سے