کیا پاکستان میں پاور شیئرنگ کا نیا فارمولا آزمایا جا رہا ہے

وزیراعظم عمران خان سے ان کی نئی میڈیا ٹیم کے سربراہوں نے ملاقات کی ہے شبلی فراز اور عاصم سلیم باجوہ اب ان کی نئی میڈیا ٹیم بنائیں گے سیاسی حلقوں میں بحث ہورہی ہے کے آیا پاکستان میں نیا پاور شیئرنگ فارمولا اپنی

نئی شکل میں سامنے آگیا ہے اور عمران خان کی حکومت کو درپیش مشکلات سے نکالنے کے لیے ان کی خصوصی مدد فرمائی گئی ہے پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پر کافی دباؤ تھا کہ ان کی ٹیم کی کارکردگی ٹھیک نہیں تھی لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ ہر آنے والے وزیر کی صرف خوبیاں بیان کی جاتی ہیں اور جانے والے پر الزامات کی گڑیا لاد دی جاتی ہیں پاور سے ہٹنے کے بعد میڈیا کے لیے آسان ہو جاتا ہے اسٹوریا سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو کیوں ہٹایا گیا ہے اور جو تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ کیوں اور کیسی ہیں بظاہر عاصم باجوہ کے ذریعے اہم ایریا اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے گی جہاں کام ٹھیک نہیں ہو رہا تھا لیکن یہ وقت بتائے گا کہ آنے والے دنوں میں ان تبدیلیوں کے میڈیا پر کیا اثرات پڑتے ہیں اچھے یا خراب ۔یہاں تک ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی کارکردگی اور ان کے رویے کا تعلق ہے تو لوگوں کو ان سے گلے شکوے کافی سے اور ان کے آنے پر بھی پارٹی کے اندر تحفظات اور خدشات تھے جب وہ نئی پارٹی کا جھنڈا پہنایا گیا تھا اس وقت بھی پارٹی کے نظریاتی کارکن خوش نہیں تھے لیکن وزیراعظم بننے کے لیے عمران خان سب کو ویلکم کر رہے تھے ہمارے دوست عامرمتین ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ یہ الیکٹیبلز بعد میں آپ کے لیے مسائل پیدا کریں گے عمران خان کی کی مٹی خراب ہوگئی شفقت محمود بھی خوش نہیں تھے وہ یہی سمجھتے تھے کہ پارٹی کا اصل فیس سامنے آنا چاہیے 16غیر منتخب لوگ آگے آ چکے تھے ۔