کیا ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو پارٹی سے بھی نکال دیا جائے گا ؟

سینیٹر شبلی فراز نے اطلاعات و نشریات کے وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھایا
منگل 28 اپریل 2020ء
حلف تقریب کے دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنے پر سختی سے عمل کیا گیا۔
سینیٹر شبلی فراز نے آج (منگل) ایوان صدر اسلام آباد میں اطلاعات و نشریات کے وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔
صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان صدر میں منعقدہ ایک تقریب میں ان سے حلف لیا۔ تقریب کے دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنے پر سختی سے عمل کیا گیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز سینیٹر شبلی فراز کو وفاق وزیر برائے اطلاعات و نشریات مقرر کیا گیا تھا جبکہ فردوس عاشق اعوان سے معاون خصوصی اطلاعات کا عہدہ واپس لے لیا تھا۔
مزید یہ کہ فردوس عاشق اعوان کی جگہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو وزیراعظم کا نیا معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ فردوس عاشق اعوان 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے دور حکمرانی میں وفاقی وزیر اطلاعات رہ چکی ہیں، بعد ازاں وہ عام انتخابات میں شکست کھانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگئی تھیں۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہورہی ہے کہ اگر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پر کرپشن کا الزام ثابت ہو جاتے ہیں کیا انہیں پارٹی سے نکال دیا جائے گا یا نہیں ؟ واضح رہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو وزارت اطلاعات سے فارغ کیے جانے کی وجہ کرپشن بتائی جا رہی ہے سوشل میڈیا پر تبصرے ہورہے ہیں کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان چوری کرتی ہوئ پکڑی گئی ہیں اور کلین بولڈ ہو گئی ہیں اب ان کے مستقبل کا فیصلہ کپتان نے کرنا ہے آیا وہ پارٹی میں رہیں گی یا نہیں ۔
سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صدر آصف علی زرداری کے دور میں پیپلزپارٹی کی وزیر اطلاعات تھیں تب بھی انہیں شکایت ہوئی تھی اور انہوں نے روتے ہوئے پارٹی پر الزامات لگائے تھے پھر وہ الیکشن میں شکست کھانے کے بعد پی ٹی آئی میں شامل ہوگئی تھی اور پی ٹی آئی کا نظریاتی گھوڑا ان کی آمد پر خوش نہیں تھا لیکن ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے پاس کوئی مضبوط سفارش تھی جس کی وجہ سے عمران خان نے ان کو کابینہ کا حصہ بنایا حالانکہ وہ 2018 کا الیکشن بھی ہار گئی تھی اور شکست کے باوجود نے کابینہ میں شامل کر لیا گیا اب ان کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے تو یہ شکایات سامنے آرہی ہیں کہ انہوں نے سرکاری اشتہارات کی مد میں کروڑوں اربوں روپے کے اشتہارات میں دس فیصد کمیشن لینے کی کوشش کی عہدے سے ہٹائے جانے کے آخری دن تک وہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کا دفاع کر رہی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کی باتیں سچ ثابت نہیں ہوگی مخالفین کو منہ کی کھانی پڑے گی وزیراعظم کرپشن کے حوالے سے تمام انکوائری رپورٹ سامنے لے آئے ہیں اور کڑھائی تساب ہو رہا ہے اب خود ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان عہدے سے ہٹائے جا چکی ہیں اور ان پر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں