اشتہاری بجٹ میں 10 فیصد کمیشن وصول کرنے کا الزام

فردوس عاشق اعوان کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں سوشل میڈیا پر ان پر اپنی وزارت میں کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں اور یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ اشتہارات کے سرکاری بجٹ میں 10 فیصد کمیشن وصول کیا جارہا تھا وزارت اطلاعات میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہورہی تھی اور شکایات وزیراعظم عمران خان تک پہنچ گئی جس کے بعد ایکشن ہوا اور عمران خان نے اپنی ہی ایک وکٹ اڑا دی۔وزیراعظم عمران خان کرپشن برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں چاہے ان کا اپنا کوئی کھلاڑی اس میں ملوث پایا جائے ایکشن ہوگا اور وزارت اطلاعات میں اہم تبدیلی کر کے انہوں نے ایک مرتبہ پھر تمام وزیروں اور عوام کو سخت پیغام پہنچا دیا ۔

دوسری طرف فردوس عاشق اعوان کافی صدمہ میں نظر آرہی ہیں ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انھوں نے تمام الزامات کی تردید کی ہے خاص طور پر اشتہارات میں کرپشن کے الزامات کو رد کردیا ہے اعشاری بجٹ میں 10 فیصد کمیشن وصول کرنے کے الزام کو سراسر جھوٹ قرار دیا ہے جبکہ فردوس عاشق وان کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ انہوں نے کہا ہے کہ خان صاحب کے نزدیک عہدے کا حقدار وہی ہے جو ارب پتی ہو ورنہ کوئی بھی بہانہ تراش کر آپ کو عہدے سے الگ کر دیا جائے گا ۔

فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد شبلی فراز اور عاصم باجوہ کی آمد پر سیاسی اور صحافتی حلقوں میں زبردست بحث شروع ہوچکی ہے جتنے منہ اتنی باتیں ۔لیکن فردوس عاشق اعوان کو ہٹائے جانے پر خود پی ٹی آئی کے اندر بھی لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے ان کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ جس طرح کی زبان استعمال کر رہی تھی ان کے ساتھ یہ ہونا ہی تھا جبکہ عمران خان اب نئے کھلاڑی میدان میں لے آئے ہیں اور آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کی حکومت نئے انداز سے مخالفین پر حملہ آور ہوگی ان مخالفین میں اندرونی اور بیرونی دونوں کے سن کے مخالفین بتائے جا رہے ہیں خاص طور پر بھارت ۔عاصم باجوہ کی آمد کو بھارت کے خلاف حکومت کی آنے والے دنوں میں جارحانہ ایک مت عملی اور جارحانہ پالیسی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے