مولانا اور میڈیا دونوں قابل احترام ہیں ۔رمضان صبر کا درس دیتا ہے سب مل کر کرونا سے لڑیں۔

ایک دردمند پاکستانی کی حیثیت سے ملک کے کامیاب بزنس مین سید طاہر امام رضوی نے ملک بھر میں جاری ایک بحث کے حوالے سے اپنے حلات کا اظہار کیا ہے

اور ان کا کہنا ہے کہ مولانا اور میڈیا دونوں ہی قابل احترام ہیں ملک میں رمضان کا مہینہ ہے رمضان کا مہینہ ہمیں صبر اور تحمل کا درس دیتا ہے ہمیں ایک دوسرے کی عزت اور احترام کرتے ہوئے آپس میں یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے یے اس وقت پوری دنیا اور ہماری قوم کرونا وائرس کی وجہ سے جیسے امتحان سے گزر رہی ہے میڈیا مولانا حکومت بیروکریسی اور فوج سمیت سب کو ملکر اس کے بارے میں سوچنا چاہیے ۔اپنے ویڈیو پیغام میں سید طاہر امام رضوی جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بزنس سے وابستہ ہیں اور ان کی کمپنی کا شمار ملک کی سرکردہ کمپنیوں میں ہوتا ہے ان کا کہنا ہے کہ میں نا تو مولانا طارق جمیل کو جانتا ہوں اور نہ ہی اس میڈیا مالک کو جس کے بارے میں کہا گیا کے جھوٹ بند کردیں گے تو چینل بند کرنا پڑے گا ۔اس حوالے سے جو بحث ہورہی ہے اس میں ایک پہلو سب نے نظر انداز کر رکھا ہے وہ یہ کہ جب میڈیا مالک نے مولانا کے کہنے پر نصیحت کے مطابق صاف بتادیا کہ کے ایسا نہیں کرسکتے تو انہوں نے دراصل سچ بولا میڈیا مالک نے سچ بولا منافقت نہیں کی یہ میڈیا مالک کی اچھائی ہے ہوسکتا ہے میڈیا مالک نے یہ بات ازراہ مذاق کی ہو اس کے باوجود مولانا نے انہیں نصیحت کی اور بالکل ٹھیک کیا لیکن یہ ایسی بات نہیں تھی کہ اس پر بھونچال آ جاتا

۔مولانا طارق جمیل کی مینے جتنی تقریریں سنی ہیں میں سمجھتا ہوں وہ ایک جید عالم ہی اچھے علم ہیں معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کر رہے ہیں میری ان سے ملاقات نہیں میں ان کو ذاتی طور پر نہیں جانتا لیکن اس حوالے سے جو بحث ہے وہ اتنی گرم ہو چکی ہے کہ اس پر اظہار خیال کرنا ضروری سمجھا ۔میں عام طور پر مولانا کہتا ہوں تو اس کا مطلب طارق جمیل نہیں ۔لیکن یہ بات ماننے والی ہے کہ مولانا اورعلامہ بہت شریف اور اچھے لوگ ہوتے ہیں سادہ لوگ ہوتے ہیں اور یہ لوگ ہمارے معاشرے کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں اگر میڈیا ایک درسگاہ کے طور پر لی جائے تو مولانا ایک پروفیسر ہیں اورمولانا آ کر بتاتے ہیں کہ اچھی باتیں کیا ہیں اور معاشرہ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے ہمارا معاشرہ پہلے ہی بہت خراب چل رہا ہے اس لیے اگر کوئی سچ بولنے کی نصیحت کرتا ہے تو اسے اچھے انداز سے لینا چاہیے مجھے یہ بات مثبت لگی کے میڈیا کے مالک نے منافقت نہیں کی حوصلہ کرکے سچ بولا آج کل سوشل میڈیا پر فورا شور مچ جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سے پلانٹڈ لوگ آگئے ہیں میں ایک پروفیشنل بزنس مین ہوں پلانٹڈ آدمی نہیں ہوں محنت کر کے آگے بڑھا ہوں اس بات پر افسوس ہوتا ہے کہ اگر مولانا نے کوئی بات کہہ دی تو وہ دوسرا گروپ سوشل میڈیا پر انہیں برا بھلا کہنا شروع کر دیتا ہے ایک عالم دین سے معذرت بھی کرائی جارہی ہے انہوں نے بڑی فراخدلی سے معذرت بھی کرلی میں چاہتا ہوں کہ میڈیا مولانا حکومت عوام بیروکریسی فوج سب مل کر جس امتحان سے قوم گزر رہی ہے اس کے بارے میں سوچیں کچھ لوگ صحافیوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں حالانکہ صحافی بھی معاشرے کا اچھا چاہتے ہیں میں فلم اور ڈرامے نہیں دیکھتا نیوز ٹاک شوز دیکھتا ہوں تاکہ کچھ سیکھ سکوں سب سے کہنا چاہتا ہوں کہ مولانا اور میڈیا دونوں ہی لازم الملزوم ہیں اور دونوں ہی قابل احترام ہیں